30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَرف کرنا شروع کیا، وقت کرنے حساب کے، منافع کی تعداد کا سولھواں حصّہ کم نکلا اُس صرف سے جو وُہ کارِخیر میں صَرف کر چکا، یہ فاضل روپیہ بمدِزکوٰۃ داخل ہوسکتا ہے یانہیں ؟
(۲)ایك شخص حق الحنث کے ساتھ ایك تجارت میں شریك ہے، قبل حاصل ہونے منافع کے اس تجارت سے بتدریج اپنے صرف کے واسطے لیتا رہا، وقت معلوم ہونے منافع کے وہ قرضدار تجارت کا تھا، جو منافع اس کے نامزد ہُوا وُہ قرضہ میں داخل کیا، اس حالت میں اس منافع کی زکوٰۃ اس کے ذمّہ عائد ہے یا نہیں ؟
(۳)ایك شخص وقت شروع کرنے تجارت کے دیگر شخص سے جو اُس کی تجارت میں شرکت روپے کے ساتھ دینا چاہتا تھا ظاہر کیا کہ میں وقت چٹھہ کے (معلوم کرنا منافع کا) پہلے زکوٰۃ نکال دیتاہُوں بعدہ،منافع تقسیم کیا جاتا ہے، اُس دیگر شخص نے اس بات کو پسند کیا اور روپیہ کے ساتھ منافع میں برابر کا شریك ہوا، اس بات کے ظاہرکرنے سے کیااس کے ذمّہ اس کے روپیہ کی بھی زکوٰۃ عائد ہوگی یا صرف منافع کی رقم رہی جو طرفین کے حصّہ سے خرچ میں داخل ہوتی ہے۔ بیّنوا توجّروا
الجواب :
(۱)جبکہ بہ نیّت زکوٰۃ وُہ دینا نہ تھا تو جو زائد دیا گیا زکوٰۃ میں محسوب نہیں ہو سکتا ، ہاں آئندہ سال کے اُس سولھویں حصّہ میں مجرا ہوسکتا ہے جو اس نے اﷲعزّوجل کے لیے دینا ٹھہرا رکھا ہے، مثلًا اس وقت دس روپیہ زیادہ پہنچے اور آئندہ سا ل منافع کا سولھواں حصّہ سو روپے ہو تو اُسے اختیار ہے کہ یہ دس ۱۰اس میں محسوب کرکے نوّے روپے دے۔
(۲)نہیں ۔ واﷲتعالیٰ اعلم
(۳)دوسرے کی زکوٰۃ اس کے ذمّہ عائد نہیں ہو سکتی، ایك پر اُس کے حصّہ کی زکوٰۃ لازم ہے، اور زکوٰۃ صرف منافع مالِ تجارت پر نہیں ہوتی، جس طرح مکان زمین دکان کے صرف منافع پر ہوتی ہے یہاں ایسا نہیں بلکہ کُل مالِ تجارت پر لازم ہوتی ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۵: ازمحلہ چاہ بائی مسؤلہ حافظ محمد صادق مختار عام منشی رحیم دادخاں صاحب تحصیلدار ۲۵شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مالك ہے جائداد زمینداری وغیرہ کا اور ا س کی آمدنی مختلف اوقات میں وصول ہوتی رہتی ہے اور مالگزاری و نیز دیگر اخراجات میں خرچ ہوتی رہتی ہے اور ایسی صورت میں حساب سالانہ انگریزی ماہِ کتوبر سے شروع ہوتا ہے اور ماہِ ستمبر میں ختم کیا جاتا ہے لہذاجو رقم بعد اخراجات کے آخر سال پر باقی رہتی ہے اس پر زکوٰۃ کب واجب ہوگی؟کس وقت اس کو ادا کرنا چاہئے ؟بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع