دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

تین ماشے تین سرخ،مال سال دوم سے استثناء کیا تو سال دوم طلا لعہ( ؔ۱۰مہ )۲ سرخ رہا ،واجب ۱۱ ماشہ ۷ سرخ ۵-۱/۵چاول، اور نقرہ ما عصہ (۷ مہ۷سرخ)ؔؔرہا، واجب تین روپے بھر ۲مہ۲ ۲ سرخ ۲ ۴-۳/۵چاول، سال سوم طلا واجب دو سال ایك تولہ ۱۱ ماشے ۱سرخ ۵-۱/۵چاول ، نقرہ واجب دو۲ سال سے روپے بھر ۵ ماشہ ۶سرخ ۴-۳/۵چاول منہا کرکے،باقی طلا للعہ( ۱۰مہ) ۲سرخ۲-۴/۵چاول ،واجب ایك تولہ دو سرخ ۴۷/۱۰۰چاول نقرہ ما عصہ ؎روپیہ بھر ۵ ماشہ تین سرخ ۳-۲/۵،واجب ۳روپیہ بھر ایك ماشہ ۴ سرخ ۲-۱۳۷/۲۰۰چاول جمیع واجب سہ سالہ طلا ۲تولے ۱۱ ماشے ۳ سرخ ۵-۴۷/۱۰۰چاول یعنی دو۲ تولے ۱۱ ماشے ۳ رتی ۵ چاول کے سَو حصّوں سے سڑسٹھ۶۷ حصّے،نقرہ لعہ تولہ ۷ ماشہ ۲ سرخ ۷-۵۷/۲۰۰ یعنی نَو روپیہ بھر او ر۷ ماشے ۲ رتی ۷ چاول اور چاول کے دو۲ حصّوں سے ستاون۵۷ حصّے، یہ سب مذہبِ  صاحبین پر ہے اور مذہبِِ امام پر کچھ کمی خفیف ہوجائے گی، سائل اس پر راضی نہ ہواور تخفیف ہی چاہے تو یہ ضرور ہے کہ تینوں برس ہر سال تمام کے صحیح تاریخ پر سونے اور چاندی کا صحیح نرخِ بازار دریافت کرکے بتائیے نیز یہ کہ کس کس عدد کے قیمت بوجہ صنعت اپنے وزن سے کس کس قدر زائد ہے بے اس کے حساب نا ممکن ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم

مسئلہ ۵۰:                               از بنگالہ ضلع سلہٹ پر گنہ بیجواڑہ موضع ناران گولہ        ۱۳۲۰ھ                                                                   

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی ایك سو روپے کی زکٰوۃ دے کر مدفون کیا پھر دوسرے سال میں زکٰوۃ دینا ضروری ہے یا نہیں ؟بینوابحوالہ کتاب توجروا یوم الحساب۔فقط

الجواب :

ہر برس ضرور  ہے جب تك کل مالِ زکوٰۃ جو اُس کی ملك ہے حقیقۃًیا حکمًانصاب یعنی ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی انگریزی چھپن ۵۶ روپے سے کم نہ ہوجائے،حقیقۃًکم ہوجانا یہ کہ زکوٰۃ وغیرہ میں صَرف کرتے  کرتے خواہ کسی اور طور سے گھٹ جائے اورحکمًایہ کہ ہربرس زکوٰۃ واجب ہوتی رہی اور ادا نہ کی کہ ہر سال زکوٰۃ کا دین اس پر چڑھتا رہا یہاں تك کہ مالِ زکوٰۃ قدر نصاب نہ رہا مثلًاصرف یہی سو روپے ، مگر اس کے پاس مالِ زکوٰۃ تھا اور یہی رہا اور مال زیادہ نہ ہوا تو اب پہلے سال تمام پر بر بنائے مذہب صاحبین ڈھائی روپے واجب  ہوئے مگر اس نے ادا نہ کی، دوسرے سال تمام پر زکوٰۃ صرف ۹۷ روپے ۸ آنے رہی کہ ۲ روپے ۸ آنے دین زکوٰۃ سال گزشتہ میں مشغول ہیں اس سال ۲ روپے ۷ آنے واجب ہوئے، تیسرے سال تمام پر دو۲ سال گزشتہ کا دین زکوٰۃ ۴ روپے ۱۵ آنے مستثنٰی ہوکر فقط پچانوے روپے ایك آنہ پر زکوٰۃ آئی کہ ۲ روپیہ چھ آنے اور ایك پیسے کی چاندی کا دسواں حصّہ ہُوا، وعلٰی ھذاالقیاس جب گھٹتے گھٹتے ۵۶ روپے سے کم رہ جائے تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن