دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

بلکہ مالك مکان پر قرض ہی رہا تو اب اس پر کہ خود نصاب بلکہ چند نصاب ہیں اور اس کے سوا اور جو نقد اُس وقت موجود ہو، غرض جس قدر روپیہ سونا یا چاندی حاجاتِ اصلیہ سے فاضل مِلك میں ہے خواہ شروع سال زکوٰۃ سے تھا خواہ بیچ میں ملا اُس سب پر زکوٰۃ واجب ہُوئی، جو نقد ہے اس پر تو واجب کے ساتھ وجوبِ ادا ابھی ہوگا فی الحال دی جائے،اور جوقرض ہے اس پر ہنوز وجوبِ ادا نہیں وصول پانے پر ہوگا خواہ روپیہ ہی وصول ہو، یُوں کہ بیع نہ ٹھہری اور روپیہ واپس ملے خواہ بیع ہوکر قیمت میں مجرا ہوجائے کہ یہ بھی وصول پالیناہے، پھر ازانجا کہ قرض دین قوی ہے ،اور صورتِ مسئولہ میں ابتدائے نصاب مالِ نقد سے ہے کہ اسی پر سالِ زکٰوۃ  شروع ہُوا،اس سال تمام پر یا اُس کے بعد جو رقم قرض سے وصول ہوگی اُسے دیکھا جائے گا کہ خمس نصاب یعنی ؎  کے پانچویں حصّے لہ ۳  ۲-۲/۵ پائی سے کم ہے یا نہیں، اگر کم ہے اور کوئی مالِ نقد نہ اس وقت موجود نہ سالِ رواں کے ختم پر آکر ایسا ملا جو اس رقم وصولی سے مل کر خمس نصاب ہوجاتا تو اس کی زکوٰۃ دینی اصلًاواجب نہ ہوگی ،نہ سالِ گزشتہ کے کیے ، نہ رواں کے لیے ، اور اگر ایسا مال نقد پایا جائے تو اسے اُس کے ساتھ ملادیں گے ، پھر اگر عین سال تمام کے وقت وصول ہُوا تو خود روزِ وصول، ورنہ سال تمام رواں پر جو باقی ہوگا اس پر یہ حکم لگائیں گے کہ ہر خمس نصاب پر اُس کا چالیسواں حصّہ واجب الادا، اور خمس سے کم پر کچھ نہیں، اور اگر رقم وصول مذکور خمس نصاب سے کم نہیں تو جس قدر برس اس پر، حالت دین میں گزرے ہوں اُن سب کی زکوٰۃ دینا آئے گی جب تك زکوٰۃ نکالتے نکالتے خمس نصاب سے کم نہ رہ جائے۔ پھر بہر حال جس قدر خمس سےکم رہے گا اُس کا وہی حکم ہے اور مال نقد ہو تو اس کے ساتھ ملا کر تمام رواں پر حکم دیکھا جائے گا، ورنہ کچھ نہیں، سب صورتوں کی مثال لیجئے،مثلًا ۲۵ذی الحجہ    ۱۴ ؁کو تین سو درہم شرعی کا مالك ہوااس وقت سے سالِ زکوٰۃ شروع ہوگیا، یہ سب روپے وسط سال میں کسی کو قرض دے دیئے خاص سال تمام کے دن اُن سے اُنتالیس درہم شرعی وصول ہُوئے اور آج کچھ نقد اس کی ملك نہیں تو ان لع؂  درہم پر بھی کچھ دینا نہ آئے گا کہ یہ خمس نصاب یعنی چالیس درہم سے کم ہیں اور اگر سال تمام سے پہلے مثلًا ۲۴ذی الحجہ      ۱۵ ؁ کو یا شروع سال میں مالکیّت دن کے بارہ۱۲ بجے ہوئی تھی اب ۲۵ ذی الحجہ   ۵ ۱ ؁ کو بارہ بجے سے ایك لحظہ پہلے انتالیس لعؔ درہم کہیں اور سے مل گئے اور اُسی وقت ایك درہم اس قرض میں سے وصول ہوا تو اسے اُن اُنتالیس لعؔ درہم میں ملادیں گے، اب یہ چالیس درہم ہوگئے کہ خمس کامل ہے تو ایك درہم دینا واجب آیا اور اگر اسی صورت میں مثلًاقرض میں سے بھی انتالیس درہم وصول ہوئے کہ نقد موجود سے مل کر اٹھتر ؎مع درہم ہوگئے تو بھی ایك ہی درہم کہ ایك خمس کامل یعنی چالیس درہم کی زکوٰۃ ہے واجب الادا ہوگا، باقی اڑتیس درہم زائد کہ خمس سے کم ہیں سال تمام آئندہ کے ا نتظار میں رہیں گے، اور اگر سرے سے فرض کیجئے کہ شروع سال زکوٰۃ کو پانچ سال کامل گزر گئے اُس وقت تك کُچھ نہ ملا اُس کے بعد چوالیس درہم


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن