دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

الجواب :

بیان سائل سے واضح ہُوا کہ ہنوز اُس مکان کی بیع نہیں ہُوئی ، وعدہ خرید و فروخت درمیان آیاہے، اور اِسی بناء پر زید نے مالك مکان کو دوسوروپے پیشگی دے دئے اور اُسے اجازت دی کہ خرچ کرلے، یہ صورت فرض کی ہُوئی ثمن کہہ نہیں سکتے کہ ابھی بیع ہی نہیں ہوئی ا مانت نہیں کہہ سکتے کہ خرچ کی اجازت دی لاجرم قرض ہے

فی لسان الحکام والعقود الدریۃ وغیرھما دفع الیہ دراھم فقال لہ انفقھا ففعل فھو قرض کما لوقال اصر فھاالی حوائجک۔ [1]

لسان الحکام اور عقود الدریہ وغیرہ میں ہے کہ کسی کو دراہم دیئے گئے اور کہا گیا کہ انھیں خرچ کر، اس نے خرچ کردئے تو یہ قرض ہے جیسا کہ اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ انھیں اپنی ضروریات پر خرچ کرلے۔ (ت)

تو دو سو کہ اس کے پاس رکھے ہیں اور دوسوجو مالك مکان کودئے ہیں چاروں سو اسی کی ملك میں اور مالِ زکوٰۃ ہیں ، زکوٰۃ کا نصاب ان روپوں سے چھپن روپے ہے، جس تاریخ چھپن ۵۶ روپے یا زائد کا مالك ہُوا اُسی تاریخ سے مالك نصاب سمجھا گیا، جب ہی سے سالِ زکوٰۃ کا حساب ہوگا، سال کے اندر جو مال اور ملتا گیا اُسی کے ساتھ ملتا رہے گا، تمام پر دیکھیں گے سب خرچوں سے بچ کر حوائجِ اصلیہ سے فاضل کتنا روپیہ اس کی مِلك میں ہے خواہ اس کے اپنے پاس رکھا ہو یا کسی کے پاس امانت ہویا کسی کو قرض دے دیا ہو اُس قدر پر زکوٰۃ واجب آئے گی،اور جو سال تمام ہونے سے پہلے صَرف ہوگیاہو وُہ حسابِ زکوٰۃ میں محسوب نہ ہوگا مثلًا یکم محرم ۱۵؁  کو چھپن روپے کامالك ہُوا تھا،ربیع الاوّل میں سَواور ملے، جمادی الآخر میں دوسو اور ملے ، یہ دوسو مالك مکان کو قرض دے دے تو اُس پر اُسی یکم محرم سے سال چل رہا ہے اور ابھی کہ سال تمام نہ ہوا کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کس قدر پر زکٰوۃ واجب ہوگی اب اگر یکم محرم      ۱۶؁ کے آنے سے پہلے مکان کی بیع واقع ہوگئی اور وُہ دو سو کے قرض دئے تھے سال تمام سے پہلے قیمتِ  مکان میں محسوب ہوگئے تو یہ دوسو حسابِ زکوٰۃ سے خارج ہوگئے کہ ان پر سال نہ گزرا، اسی طرح اگر بیع نہ ٹھہری اور روپیہ واپس لے لیا اور سال تمام سے پہلے کُل یا بعض خرچ ہوگیا تو اُس سے بھی تعلق نہ رہا تمامی سال پر جو باقی رہے اُسے دیکھیں گے کہ   ؎ روپیہ  ؎ زائد ہے تو اُس پر ایك سال کی زکوٰۃ واجب ہوگی ،اور اگر سال تمام پر  ؎  سے بھی کم رہے تو کچھ نہیں کہ اگر چہ ابتداء میں نصاب بلکہ نصاب سے زائد کا مالك تھا مگر سال نہ گزرنے پایا کہ نصاب سے کم ہوگیا تو وجوبِ  زکوٰۃ کا محل نہ رہا اور اگر سال تمام تك یعنی جب سے یہ شخص مالك نصاب ہُوا سال پُورا ہونے تك نہ بیع ٹھہری نہ روپیہ واپس ہُوا


 

 



[1] العقودالدریۃ         کتاب الھبۃ             حاجی عبدالغفار وپسران تاجرانِ کتب ارگ بازار قندھار       ۲/۹۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن