30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زکوٰۃ فرض ہوگی، مثلًا یکم رمضان کو سال تمام ہوگا اور اس کے پاس صرف سو روپے تھے تیس شعبان کو دس ہزار اور آئے کہ سال تمام سے چند گھنٹے بعد جب یکم رمضان آئے گی اس پورے دس ہزار ایك سو پر زکوٰۃ فرض ہوگی ، واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ٤٠: از شہر بریلی محلہ جسولی مسئولہ حافظ علی شاہ صاحب ٤ شعبان ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے تین لڑکیوں کی شادی کے واسطے روپیہ علیحدہ کردیاہے جس میں سے دو٢ لڑکیاں نابالغ ہیں اور ایك قابل ہے شادی کے، اب اس روپیہ کی زید پر زکوٰۃ دینا واجب ہے یا نہیں ؟
الجواب:
ضرور واجب ہے مگر اُس حالت میں ہر نا بالغہ کا حصّہ جُدا کرکے یہ کہہ دے کہ میں نے اسے اُس کا مالك کِیا، اس کی زکوٰۃ ان کے بلوغ تك کسی پر واجب نہ ہوگی، بعد بلوغ اگر شرائطِ زکوٰۃ پائے گئے تو ان لڑکیوں پر واجب ہوگی اور بالغہ کا حصّہ جُدا کرکے اُسے مالك کردے اور اس کے قبضے میں دے دے اگر چہ پھر اس سے لے کر اپنے پاس رکھ لے، اس حصّہ کی زکوٰۃ حسبِ شرائط اُس بالغہ پر ہوگی۔ وا ﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ٤١ تا ٤٣: از شہر بریلی مرسلہ شوکت علی فاروقی ٤ رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(١) کیا نوٹ اور روپیہ کا ایك ہی حکم ہے، نوٹ تو چاندی سونے سے علیحدہ کاغذ ہے۔
(٢) فی صدی زکوٰۃ کا کیا دینا ہوتا ہے۔
(٣)جس روپیہ سے زکوٰۃ پہلے سال میں دے دی اور باقی روپیہ بدستور دوسرے سال تك رکھارہا اب دوسرے سال آنے پر کیا پھر اُسی روپیہ میں سے جس میں پہلے سال زکوٰۃ دے چکا ہے زکوٰۃ دینا ہوگی بینو اتو جروا۔
الجواب :
(١)نوٹ اور روپیہ کا حکم ایك نہیں ہوسکتا، روپیہ چاندی ہے کہ پیدائشی ثمن ہے اور نوٹ کاغذ کہ اصطلاحی ثمن ہے تو جب تك چلے اس کا حکم پیسوں کے مثل ہے کہ وُہ بھی اصطلاحی ثمن ہے ۔
(٢)زکوٰۃ ہر نصاب و خمس پر چالیسواں حصّہ ہے اور مذہب صاحبین پر نہایت آسان حساب اور فقراء کے لیے نافع ہے کہ فیصدی ڈھائی روپے ۔
(٣)دس برس رکھا ، ہر سال زکوٰۃ واجب ہوگی جب تك نصاب سے کم نہ رہ جائے، یہ اس لیے کہ جب پہلے سال کی زکوٰۃ نہ دی دوسرے سال اس قدر کا مدیون ہے تو اتنا کم کرکے باقی پر زکوٰۃ ہوگی ، تیسرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع