30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الضمار وھو مالا یمکن الانتفاع بہ مع بقاء الملک۔ [1] واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
کہ مالِ ضمار پر زکوٰۃ نہیں، مالِ ضماروہ کہ ملکیت ہونے کے باوجود اس سے انتفاع ممکن نہ ہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم (ت) |
مسئلہ ٣٨: از مقام درؤ ضلع نینی تال، مسئولہ عبد اﷲدکاندار صاحب ٢ ربیع الاول شریف ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے پاس ساٹھ روپے نقد ہیں اور پچاس روپے کا اس کی عورت پر زیور ہروقت پہننے کا اور پچاس روپے کی دکاندار ی کرتا ہے کل یہی اسباب ہے اور اس میں پچانوے روپے مہر عورت کا قرض ہے اور جو دُکان کرتا ہے وہ ایسا سمجھنا چاہئے کہ جیسے کاشتکار کے ہل جوتنے کے بیل اور گھوڑا پچیس ٢٥ روپے کی قیمت کا ہے دکاندار ی کا سوت لادنے کے واسطے، اس حالت میں اوّل مال پر زکوٰۃ ہونی چاہئے یا نہیں ؟ جیسا کہ شرع شریف کا حکم ہو عمل کیا جائے، اور سال بھر کے کھانے کا اناج بھی اس کے گھر میں نہیں ہے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
آج کل عورتوں کا مہر عام طور پر مہر مؤخّر ہوتا ہے جس کا مطالبہ بعد موت یا طلاق ہوگا مرد کو اپنے تمام مصارف میں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ مجھ پر یہ دین ہے ایسا مہر مانع وجوبِ زکوٰۃ نہیں ہوتا،سال تمام پر اس کے پاس اگر یہ ساٹھ روپے بچے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی ، زکوٰۃ کا نصاب ٥٦ روپے (٥٢-١/٢تولہ چاندی) ہے،اور وہ زیوراگر شوہر کی ملك ہے تو وہ بھی شامل کیا جائے گا ایك سودس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، اور اگر وہ مالِ تجارت بھی بچا تو وُہ بھی شامل ہوگا ایك سو ساٹھ پر ہوگی ، غرض ان تینوں مالوں میں سے سال تمام پر اگر٥٦ روپے کی قدر ہوگا تو زکوٰۃ واجب ہے ورنہ نہیں،اور اگر زیور عورت کی ملك ہے تو اس کی زکوٰۃ اس پر واجب ہوگی جبکہ وُہ خود یا اس کی ملك کا اور سونا چاندی ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی ہو ورنہ نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ٣٩: از نینی تال کاشی پور مسئولہ ڈاکٹر اشتیاق علی، ١٨ صفر المظفر ١٣٣٤ھ
متعلق زکوٰۃ پار سال میرے پاس ایك سو پچاس روپے رمضان میں جمع تھے اور زکوٰۃ میں نے ایك سو پچاس روپے پر دی تھی، دو ماہ بعد ٢٠٠ہوگئے اور ٦ماہ بعد ٢٥٠ ہوگئے اور اب رمضان میں پورے تین سو ہوگئے، اور میں ہر سال رمضان میں زکوٰۃ نکالا کرتا ہُوں تو اب مجھ کو تین سوروپے پر دینا ہوگی یاصرف ١٥٠پر کیونکہ ١٥٠کے بعد جو روپے بڑھے ہیں ان کو پُورا ایك سال نہیں گزراہے۔
الجواب:
نصاب جبکہ باقی ہوتو سال کے اندر اندر جس قدر مال بڑھے اسی پہلے نصاب کے سال تمام پر اس کُل کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع