دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

واجب ہے یا جب دو یا تین سال وغیر ہ میں برآمد کرکے قبضہ لیا جائے اس وقت زکوٰۃ دی جائے اور جب قبضہ میں آئے تو ہر سال کی بابت زکوٰۃ دی جائے یا صرف اسی سال قبضہ والے کی بابت؟

(۲) میں نے مبلغ دو سو روپے کے پر امیسری نوٹ ڈاك خانے سے خرید کئے اب اگر مجھ کو روپے کی خواہ کسی قدر سخت ضرورت ہو تو فورًا وصول نہیں ہو سکتا تا وقتیکہ کوئی خریدار غیر ان پرامیسری نوٹ کا پیدا نہ ہو تب تك وہ روپیہ مجھ کو وصول نہیں ہو سکتا خواہ دو روز میں پیدا ہو جائے یا سال بھر میں پیدا ہو تو اس رقم پر زکٰوۃ واجب ہے یا نہیں ؟

الجواب:

(١)وہ جب تك بینك میں ہے اپنے قبضے میں سمجھا جائے گا اور ہر سال اُس پر زکوٰۃ واجب ہوگی خواہ سا ل بسال ادا کرتا رہے یا جب اس میں سے گیارہ روپے سوا تین آنے کی وصول ہو اُس میں سے چالیسواں حصہ دے اور جتنے برس رہا ہے سب برسوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی، ہاں ہر سال اگلے برسوں کی زکوٰۃ کی قدر اس پر دین سمجھ کر اتنا زکوٰۃ سے جُدارہے گا، مثلًا دوسو روپیہ جمع ہیں تو پہلے سال دوسوپر پانچ روپیہ تقریبًا واجب ہُوئے، دوسرے سال پانچ روپیہ سال گزشتہ کی زکوٰۃ کے اُس پر واجب ہیں لہذا اس سال ایك سو پچانوے پر زکوٰۃ واجب ہوگی تقریبًاچار روپے چودہ آنے ۔ تیسرے سال اُس پر دو سال کی زکوٰۃ کے نو روپے چودہ آنے قرض ہیں یہ مستثنٰی ہوکر ایك سو نوّے روپے دو آنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی وعلی ھذاالقیاس، وا ﷲرتعالیٰ اعلم۔

(٢)پر امیسری نوٹوں کا یہ قاعدہ ہے کہ روپیہ گورنمنٹ کو دے دیاجاتا ہے جس پر وُہ یہ نوٹ دیتی ہے اب یہ روپیہ کبھی واپس نہ ملے گا نہ خود اصل مالك لے سکتا ہے نہ اس کا وارث نہ اس کا کوئی قائم مقام، ہاں گورنمنٹ اس روپے چھ آنے فیصدی ماہوار کے حساب سے ہمشہ سوددے گی تو یہ نوٹ نوٹوں کی طرح خود مال نہیں بلکہ سند قرض ہیں لہذا اس پر گورنمنٹ سود دیتی ہے اور عام نوٹ خزانے سے خریدے جائیں تو ایك پیسہ سُود نہ دے گی کہ وہ بیع تھی معاوضہ تمام ہوگیا ہے اوریہاں قرض ہے اور عام نوٹ خزانے سے خرید ے جائیں تو ایك پیسہ قرض رہا اور وہ قرض کسی طرح واپس نہیں مل سکتا تو قرض مردہ ہوا اور قرض مُردہ پر زکوٰۃ نہیں، نہ ان نوٹوں کا بیچنا جائز کہ وہ حقیقۃًغیر مدیون کے ہاتھ دین کی بیع ہے اور وُہ جائز نہیں تو ان کو بیچ کر جو روپیہ لے گا اس کے لیے خبیث ہوگااور اس پر فرض ہوگا کہ جس سے لیا تھا اسے واپس دے اور اس بیع فاسد کو فسخ کرے توزکوٰۃ ان نوٹوں پر ہے کہ یہ مال نہیں، نہ اس روپیہ پر جو انھیں بیچ کر ملے گا یہ تمام و کمال خبیث ہے، نہ اس روپیہ پر جو گورنمنٹ کو قرض دے کر یہ نوٹ لیے تھے کہ وہ قرض مردہ ہے جو کبھی واپس نہ ملے گا۔ درمختار میں ہے:

الاصل فیہ حدیث علی،لازکوٰۃ فی مال

اس میں اصل علی مرتضی رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی حدیث ہے

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن