30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصاب ذہب میں ملانے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ صورتِ مذکورہ میں وُہ مطلقًاعفورہے گی، ہا ں اگر اپنی صنعت کی وجہ سے اُس مقدار تك پہنچ جائے یا بڑھ جائے تو جتنے خمس نصابِ ذہب اس میں پیدا ہوں گے اُن کا ربع عشر زکوٰۃِ ذہب پر زیادہ کرلیا جائے گا باقی جو خمس کامل سے کم رہا چھوڑا دیا جائے گا، حسابِ زکوٰۃِ زید میں تین سہوواقع ہوئے:
(١)تولہ بھر سونا کہ اپنی نوع میں عفو تھا جبکہ نرخ حال سے پچیس روپے کا ہے تو اُسے پچیس ہی روپیہ بھر چاندی قرار دیں گے جس کی تئیس٢٣ تولے پانچ ماشے دو٢رتی چاندی ہوئی کہ روپیہ سواگیارہ ماشے کا ہے نہ یہ کہ تولہ بھر سونے کی قیمت ؎روپیہ لے کر پھر ان ؎ روپے کی چاندی خریدیں اور ٣٧ تولے چاندی قرار دیں سکّہ ہی سے لگائی جاتی ہے نہ کہ پتّھر یا اینٹ سے۔ فتح القدیر میں ہے:
|
التقویم فی حق اﷲتعالیٰ یعتبر با لتقویم فی حق العباد متی قومنا المغضوب اوالمستھلك نقوم بالنقد الغالب کذاھذا۔ [1] |
اﷲتعالیٰ کے حق میں قیمت لگانے کا اعتبار اسی طرح ہوگا جو بندوں کے حق میں مفید ہو جب ہم کسی مغضوب یا ہلاك شدہ چیز کی قیمت لگائیں گے نقد غالب سے لگائیں گے، اسی طرح یہ ہے۔ (ت) |
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
|
یقوم بالمضروبۃ کذافی التبیین۔ [2] |
مضروبہ سے قیمت لگائی جائے گی، جیسا کہ تبیین میں ہے ۔ (ت) |
پس مقدار مذکور٦ تولے عفو سیم میں ملانے سے ٢٩تولے ٥ ماشے ٢ رتی چاندی ہوئی جس میں صرف ٢ خمس ہیں جن پر ٦ماشے ٢-٢/٥سرخ اور واجب ہو کر کل واجب ذمہ زید سونا ٢ ماشے ٢سرخ ،چاندی ٢ تولے ٤ماشے ٢-٤/٥سرخ۔
(٢)٢٥روپوں کے پھر ٣٧ تولے چاندی اگر کی جائے تو ٦تولے عفو سے مل کر ٤٣تولے ہوتی نہ کہ ٤١، یہ لغزش قلم تھی ۔
(٣)اگر بالفرض ٣٧تولے اور ملاتے اور حاصل جمع ٤١ ہی تولے ہوتا حساب ب متعین تھا الف کی طرف کوئی راہ نہ تھی جو خمس سے چاول بھر بھی کم ہے وہ خمس کامل ہر گز نہ مانا جائے گا، یہ ہمیشہ یادرکھا جائے اور فائدہ اولےٰ خوب سمجھ لیا جائے کہ فقیر کا ضابطہ جو تحفہ حنفیہ میں چھپا اس میں اس کی صاف تصریح کی گئی تھی اس کا جاننا اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع