30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس پر اکثریت ہو۔ ت)فقیر نے اپنے تعلیقات حاشیہ شامی میں لکھا:
|
اقول: ویظہر للعبد الضعیف انہ الا وجہ فان الشرع المطہر انما اعتبر النصاب تحدیدا لغنی یوجب الزکوٰۃ والغنی با لمالیۃ النامیۃ دون العدد فمن ملك مائۃ ساوت مائتی درھم فقد ساوی الغنی الشرعی فی الموجب ارأیت لو تعورف فی بلد درھم یساوی فی الوزن مائتی درھم ولم یوجب علیہ الابعد مایملك مائتین من ھذا کان حاصلہ ان من ملك فی العرب مثلا ھذا القدر من الفضۃ کان غنیاقد انعقد علیہ النصاب ومن ملك فی ذلك البلد قریبا من مائتی امثال تلك الفضۃ یکون فقیرًا لا یخاطب بالزکوٰۃ بل یحل لہ اخذ الزکوٰۃ فیؤل الی ان من ملك قدر ربیۃ یا مرہ الشرع بان یعطی من ربیتہ لمن یملك مائتی ربیۃ الاواحدۃمسدالخلتہ،فانہ لقلۃ مالہ فقیر وھذا غنی ،ھذا مما لا یقبلہ العقل فافھم، واﷲتعالیٰ اعلم اھ [1]ماکتبتہ۔ |
اقول: اس عبدِ ضعیف پر واضح ہوا ہے کہ یہی مختار ہے کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے غنا کی حد بندی کرتے ہوئے ایسے نصاب کا اعتبار کیا ہے جو زکوٰۃ کے وجوب کا سبب ہو اور غنا مالیتِ نامیہ کی وجہ سے ہے نہ کہ تعداد کی وجہ سے، پس جو شخص ایسے سَو کا مالك ہوا جو دوسو درہم کے برابر ہے تو وہ موجب میں غنائے شرعی کے برابر ٹھہرا۔ بتائیے اگر کسی شہر میں ایك ایسا درہم رواج پائے جس کا وزن دوسو درہم کے برابر ہو، تو کیا اس پر زکوٰۃ صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب وہ اس درہم جیسے دوسودرہم کا مالك بنے ، تو حاصل یہ ہوگا کہ کوئی عرب دوسودرہم کے بر ابر چاندی کا مالك بن جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجائے کیونکہ وہ نصاب کا مالك ہوکر غنی ہوگیا، اور جو شخص اس بھاری درہم والے شہر میں اس چاندی کے دوسو گنا کے قریب کا مالك بنے وُہ فقیر رہے اور نصاب کا مالك نہ ہونے پر زکوٰۃ لے سکے،تو گویا عدد کے اعتبار سے بات یُوں ہُوئی کہ جو شخص ایك روپے کی مقدار کا مالك ہوا سے شریعت حکم دے رہی ہے کہ وُہ اپنے ایك روپے سے اس شخص کو زکوٰۃ دے جو ایك کم دوسوروپے کا مالك ہے تاکہ اس کی حاجت پُوری ہوسکے کیونکہ یہ قلّتِ مال کی وجہ سے فقیر ہے اور ایك روپے والاغنی ہے، اور یہ ایسی چیز ہے جسے عقل قبول نہیں کرتی ، غور کیجئے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (ت) |
مسئلہ ٢٦/٢٧: از اٹا وہ کچہری کلکٹری مرسلہ مولوی وصی علی صاحب ٤ ربیع الاول شریف ١٣٢٧ھ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالیٰ فی ھا تین المسألتین(اﷲتعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ان دو مسئلوں میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع