30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختار میں ہے :
|
نصاب الذہب عشرون مثقال والفضۃ مائتا درھم کل عشرۃدراھم وزن سبعۃ مثاقیل۔ [1] |
سونے کا نصاب بیس ٢٠ مثقال اور چاندی کا دو سو درہم جن سے ہر دس١٠ درہم کا وزن سات مثقال ہوسکے(ت) |
ثقال ساڑھے چار ماشے ہے تو درہم کہ اس کا ٧/١٠ ہے تین ماشے ایك رتی اور پانچواں حصہ رتی کا ہوا۔ کشف الغطاء میں ہے :
|
مثقال بیست قیراط وقیراط ایك حبہ و چہار خمس حبہ وحبہ کہ آنر ابفارسی سرخ گویند ہشتم حصّہ ماشہ است پس مثقال چہار و نیم ماشہ باشد۔ [2] |
مثقال بیس قیراط، اور قیراط ایك رتی اور رتی کے خمس کی چوتھائی ہوتا ہے، رتی جسے فارسی میں سرخ کہا جاتا ہے ماشہ کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے، تو ایك مثقال ساڑھے چار ماشے کا ہوگا۔ (ت) |
جواہرالاخلاطی میں ہے:
|
الدرھم الشرعی خمس و عشرون حبۃ و خمس حبّۃ۔ [3] |
یعنی درہم شرعی پچیس رتی اور پانچواں حصہ رتی کا ہے۔ |
اب حساب سے واضح ہوسکتا ہے کہ دوسو درم نصاب فضہ کے ٥٢تولے ٦ماشے اور بیس مثقال، نصاب ذہب کے ٧ تولے ٦ماشے ہوئے اور یہاں کا روپیہ کہ ١١ ماشہ ہے اس سے ؎ روپے دوسو درہم کے برابر ہوئے ، یہی وزن معین متون مذہب و عامہ شروح و فتاوٰی میں ہے، ردالمحتار میں فرمایا:
|
علیہ الجم الغفیرو الجمھور الکثیر و اطباق کتب المتقدمین والمتاخرین۔ [4] |
جم غفیر اور جمہور اسی پر ہیں اور کتب متقدمین و متاخرین کا اسی پر اتفاق ہے۔ (ت) |
تو اس کے خلاف پر عمل جائز نہیں، عقودالدریہ وغیر ہا کتب کثیرہ میں ہے:العمل بما علیہ الاکثر[5] (عمل اسی پر ہوگا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع