30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس پر تفہیم و ہدایت اور بقدر مناسب تنبیہ و تاکید(جس کی حالت اختلاف حالات مرد وزن سے مختلف ہوتی ہے ) لازم ہے قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا [1](اپنے آپ اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔ ت)اور وُہ زیور کہ عورت کو دیا اور اس کی مِلك کردیا اُس پر بھی یہی حکم ہے، اور اگر مِلك نہ کیا بلکہ اپنی ہی مِلك میں رکھا اور عورت کو صرف پہننے کو دیاتو بیشك اس کی زکوٰۃ مرد کے ذمّہ ہے جبکہ خود دیا یا دوسرے مال سے مل کر قدر نصاب فاضل عن الحاجۃ الاصلیہ ہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ٢٢: مرسلہ عبدا لصبور صاحب سوداگر ٦ ذی الحجۃ ١٣٢١ھ
ایك شخص نے ایك ہزار روپے کسی روزکار میں لگائے، بعد سال ختم ہو نے کے اُس کے پاس مال دوسو٢٠٠ روپیہ کا رہا اور قرض میں پانچ سو روپیہ رہااور نقد چار سو روپیہ مع منافع ایك سو رہا، آیا کُل گیارہ سو روپیہ کی زکوٰۃ نکا لی جائے یا کس قدرکی؟
الجواب سالِ تمام پرکُل گیارہ سو کی زکوٰۃ واجب ہے مگر چار سو نقداور دو سو کا مال ، ان کی زکوٰۃ فی الحال واجب الادا ہے اور پانچسو کہ قرض میں پھیلا ہُوا ہے جب اس میں سے بقدر گیارہ روپےتین آنے ٢-٢/٥ پائی کے وصول ہوتا جائے اُس کا چالیسواں حصّہ ادا کرتا ہے اور اگر فی الحال سب کی زکوٰۃ دے دے تو آئندہ کے با ربار محاسبہ سے نجات ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ٢٣: از شہر مسؤلہ منشی شوکت علی صاحب محرر چونگی ١٨ ذی الحجۃ ١٣٣٩ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حساب قیمت کا جس وقت زیور بنوایا تھا وہ رہے گا یا نرخِ بازار جو بر وقت دینے زکوٰۃ کے ہے۔ بینو اتو جروا۔
الجواب:
سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی زکوٰۃ میں دی جائے جب تو نرخ کی کوئی حاجت ہی نہیں، وزن کا چالیسواں حصہ دیا جائے گا، ہاں اگر سونے کے بدلے چاندی یا چاندی کے بدلے سونا دینا چاہیں تو نرخ کی ضرورت ہوگی، نرخ نہ بنوانے کے وقت کا معتبر ہو نہ وقت ادا کا،اگر ادا سال تمام کے پہلے یا بعد ہو جس وقت یہ مالك نصاب ہُوا تھا وہ ماہ عربی و تاریخ وقت جب عود کریں گے اس پر زکوٰۃ کا سال تمام ہوگااس وقت نرخ لیا جائے گا۔ وا ﷲتعالیٰ اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع