30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خارج ہو گیا،ظاہر ہے کہ اب کبھی سونا نہیں کرسکتے کہ جب سال ہفتم چاندی ٢ تولے ١٠ ماشے ٥-١/٥ سرخ اس سے زائد تھی وہ اس سونے میں مل کر تو نصاب ذہب نہ بناتی تھی اب اتنی گھٹ کر کس طرح نصاب بناسکے گی، لہذااس سونے کے وہی ٦٧ تولے ٦ماشے چاندی ملا کرکل چاندی ١٠٨تولے ٧ماشے ١-٣/٥سرخ مانی، اس میں بھی ١٠٥ تولے پر وہی ٢ تولے ١٠ماشے ٥-١/٥سرخ سیم واجب ہوئی، باقی معاف، وہی کل واجباتِ ذہب ایك تولہ ٦ ماشے، فضہ ٨ تولے ٧ماشے ٧-٣/٥ سرخ۔
سال نہم واجب سالِ ہشتم گھٹ کر مع سیم ذہب کُل چاندی ١٠٥ تولے ٨ماشے ٤-٢/٥ سرخ بچی جس پر تولوں کے ٧ تولے کی کسریں عفو ہوکر واجب مذکور لازم آیا،کل واجباتِ ذہب بدستورِ فضہ١١ تولے ٦ ماشے ٤-٤/٥سرخ ۔
سال دہم واجب سالِ نہم گھٹ کر کل چاندی ١٠٢تولے ٩ ماشے ٧-١/٥سرخ بچی، اب دوسرا نصاب کامل نہ رہا بلکہ صرف ایك نصاب کامل اور چار نصاب خمس ہیں جب پر واجب ٢ تولے ٧ماشے ٤ سرخ، کل واجباتِ ذہب بدستور ۔ فضہ ١٤ تولے ٢ ماشے ٤/٥سرخ۔
سال یازدہم میں چاندی نہ رہی اور سونا کہ باقی رہا قابلِ نصاب نہیں لہذا دس سال کے بعد آج تك کچھ واجب نہ ہُوا اور کل مطالبہ سونا ڈیڑھ تولہ ، چاندی ١٤ تولے ٢ ماشے ٤/٥ سرخ لازم آیا۔ واﷲسبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ٢١: از مفتی گنج ضلع پٹنہ ڈاك خانہ ایکہگر سرائے مرسلہ محمد نواب صا حب قادری و دیگر سکانِ مفتی گنج ٢٧ رمضان شریف ١٣١٨ھ
زید کی بیوی ہندہ صاحبِ نصاب ہے اور مال ازقسم زیورات ہے جو خاص ہندہ کی ملکیت ہے یعنی وُہ اپنے میکے سے لائی ہے زید اس کو ہدایت ادائے زکوٰۃ کی کرتا ہے مگر اس کی سمع قبول میں نہیں آتی ہے تویہ فرمائیے کہ شوہر سے اُس کے عصیاں پر مواخذہ ہے یا نہیں اور اس کی طرف سے درانحالیکہ اس کی آمدنی وجہ کفاف سے بیش نہیں ،ادائے زکوٰۃ کا مکلّف شرعًا ہو سکتا ہے یا نہیں اور اُس عورت پر زجر اور فہمائش کی ضرورت ہو تو کس حد تک، اور اگر زید نے اپنے روپیہ سے کچھ زیور بنواکر ہندہ کو دیا ہو تو اس زیور پر کیا حکم ہے؟
الجواب:
زیور کہ ملك زن ہے اس کی زکوٰۃ ذمہ شوہر ہرگز نہیں اگر چہ اموالِ کثیرہ رکھتا ہو، نہ اس کے دینے کا اس پر کچھ وبال وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ [1] (کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیگی۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع