30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتے رہیں گے دو سو ٢٠٠ دوسوانتالیس٢٣٩ تك پانچ ہی درم ہیں ، جب سالِ دہم میں اکتالیس ٤١ درہم دین ہوجائیں گے تو گیارھویں سال اس پر زکوٰۃ ہی نہ ہوگی کہ جمع صرف ایك سو ننانوے١٩٩ ٹھہریں گے کہ نصاب سے کم میں سالِ یا زدہم بھی اگر اس نے ایك درہم حسب ِ دستور دے دیا تو پھر پانچ درہم واجب ہوجائیں گے کہ اب دین میں صرف چالیس درہم رہے اور دوسوپورے جمع قرار پائے وعلی ہذاالقیاس ۔ غرض سنین ماضیہ میں کم دینے والا اس نفیس حساب کو خوب سمجھ کر جتنا دین اس کے ذمّے نکلے فی الفور ادا کرے۔ ردالمحتار میں ہے:
|
لو کان لہ نصاب حال علیہ حولان ولم یزکیہ فیھما لا زکوٰۃ علیہ فی الحول الثانی ۔ ۱ھ [1] واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
اگر کسی کے پاس ایك ہی نصاب ہے جس پر ٢ سال گزرے حالانکہ اس نے ان میں زکوٰۃ نہیں دی تو اب دوسرے سال اس پر زکوٰۃ نہیں ۔ واﷲتعالیٰ اعلم (ت) |
مسئلہ ١٨: از شہربریلی محلہ ملوکپور مولوی شفاعت اﷲصاحب طالب علم مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی ٣ ربیع الآخر ١٣٣١ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعی متین اس مسئلہ میں کہ مسمّاۃ ہندہ عرصہ تین سال سے زیور طلائی و نقرئی کی حسبِ تفصیل ذیل اور نقد روپے کی عرصہ تین سال سے مالك ہے ،اس کے علاوہ اثاث البیت ضروری خرچ کا بھی رکھتی ہےاور روپیہ مذکور میں سے چار روپے ماہوار عرصہ تین سال سے متواتر خرچ ہوتا رہا ہے اب مسماۃ مذکورہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہے کس طرح سے ادا کرے، بیان فرمائے، زیور طلائی ٤ تولے ١٠ ماشے ٣ سُرخ ، زیور نقرئی (مععہ) نقد روپیہ( صما مہ)۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ زیور ہر سال اتنا ہی رہا کم و بیش نہ ہُوا تو ہر سال جو سونے کا نرخ تھا اُس سے ٤ تولے ٦ ماشے ۳ سرخ کی قیمت لگا کر زیور نقرہ کے وزن میں شامل کی جائے گی اور ہر ساڑھے باون تولے چاندی پراس کا چالیسواں حصّہ ، پھر ہر ساڑھے دس تولے چاندی پر اس کاچالیسواں حصہ واجب آئے گا ، اخیر میں جو ساڑھے دس تولے چاندی سے کم بچے معاف رہے گی، ہر دوسرے سال اگلے بر سوں کی جتنی زکوٰۃ واجب ہوتی آئی مال موجود میں سے اتناکم ہو کر باقی پر زکوٰۃ آئے گی، تین سال سے یہ نقد روپیہ بھی بدستور حساب میں شامل کیا جائیگا اور ہر دوسرے سال جتنے روپے خرچ ہوگئے کم کرلئے جائیں گے، یُوں تین سال کا مجموعی حساب کرکے جس قدر زکوٰۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع