30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُسی میں ہے :
|
فارغ عن دین لہ مطالب من جھۃ العباد سواء کان ﷲتعالیٰ کزکوٰۃ وخراج او للعبد١[1] الخ۔ |
اس دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہے خواہ وُہ اﷲکے لیے ہو مثلًازکوٰۃ و خراج یا بندے کے لیے الخ(ت) |
درالمحتار میں ہے :
|
المطالب ھنا السلطان تقدیر ا لان الطلب لہ فی زکوٰۃ السوائم وکذا فی غیر ھالم یبطل حقہ عن الاخذ ٢[2] اھ ملخصًاوایضاحہ فیہ۔ |
یہاں مطالبہ کرنے والا سلطان کو تسلیم کیا جائیگا کیونکہ چار پایوں کی زکوٰۃ وہی طلب کرسکتا ہے اور اس طرح ان کے علاوہ میں اس کے لیے اخذ زکوٰۃ کا حق باطل نہیں ہوگا اھ ملخصًااور اس کی وضاحت اس میں ہے (ت) |
یونہی دو سوچالیس ٢٤٠ درہم شرعی کہ ایك نصاب کامل و ایك خمس ہے (دو سو درم کی ٥٢ -۱/۲تولے چاندی ہوئی اور چالیس کی ١٠-۱/۲تولے) ان پر چھ٦درم شرعی زکوٰۃ کے واجب ، اگر مالك جہلًا یا سہوًا یا عمدًاہر سال پانچ درہم دیتا گیا عـــــہ تو سال اوّل ایك درم زکوٰۃ کا اس پر دین رہا،دوسرے سال وُہ گویا دو سوانتالیس٢٣٩ ہی درہم کی جمع رکھتا ہے کہ ایك درہم مشغول بہ دین ہے تو نصاب خمس کہ دوسو کے بعد چالیس کامل تھا جاتا رہا اور اس سال تمام صرف دوسو٢٠٠درہم کی زکوٰۃ یعنی پانچ ہی واجب ہُوئے ،
پس وُہ جب تك ایك درہم مذکور ادا نہ کرے یا سال تمام پر اُس کی حاجت سے فارغ ایك درہم اور جمع نہ ہوجائے جب تك ایك درہم مذکورادا نہ کرے یا سال تمام پر اُس کی زکوٰۃ کی تاخیر سے گنہگار ہوگا اور یہ گناہ اصرار کے بعد کبیرہ ہوجائے گا والعیاذباﷲ تعالےٰ ، اور اگر صورت ِ مذکورہ میں فرض کیجئے کہ وُہ ہر سال ایك ہی درم دیتا رہا تو سالِ اوّل اس پر پانچ درم زکوٰۃ کے دین رہے ، سالِ دوم میں گویا صرف دو سو پینتیس٢٣٥جمع ہیں اس سال وہی پانچ ہُوئے اور دیا ایك ہی'تو اب چار اور قرض ہو کر نو درم دین ہو گئے تیسرے سال تیرہ١٣، چوتھے سال ١٧، یونہی ہر سال دینِ زکوٰۃ میں چار چار بڑھتے جائیں گے اور واجب وہی پانچ پانچ
عــــــہ: یعنی اپنی آمدنی سے دیتا رہا اور جمع اُسی قدر قائم رہی نہ کم ہُوئی نہ زائد ١٢ منہ (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع