30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سونا کرتے ہیں تو یہ کُل سونا ٢تولے ٢ماشے ہوتا ہے کہ ١-١/٢تولہ نصاب خمس ہوکر موجبِ زکوٰۃ ہوگا اور باقی ٨ماشے عفو رہے گا۔
(٤)دونوں سے نصاب بنے مگر چاندی فقراء کے لیے انفع ہو، مثلًا٧تولے سونا ٤٢ تولے چاندی کہ سونا کیجئے تو ۸ تولے ٩ماشے ہوا، ٧-١/٢تولے پر زکوٰۃ اور ١ تولہ عفو، تو صرف ٢ ماشے سونا دینا ہوگا جس کی قیمت ٤-١/٢تولے چاندی ، اور چاندی کیجئے تودوسودس٢١٠ تولے ہُوئی کہ پُورے چار نصاب بلا عفو ہے جس پر ٥ تولے چاندی واجب ، تو چاندی کرنے میں فقراء کو ٩ ماشے چاندی زیادہ ملے گی۔
(٥) سونا انفع ہو ،جیسے٧ تولے سونا ٤٨ تولے چاندی کہ چاندی کیجئے تو چار نصاب کامل کے بعد ٦ تولے عفو رہے گی اور صرف ٥ تولے چاندی دینا ہوگی جس کی قیمت ٢ ماشے ٥ سُرخ سونا ، اور سونا کیجئے تو پُورا ٥تولے ہوا،ایك نصاب کامل اور ایك نصاب خمس بلا عفو ہے جس پر ٢ ماشے ٥-٣/٥سُرخ واجب ، تو سونا کرنے میں فقراء کو ٣/٥سُرخ زیادہ جائے گا۔
(٦)دونو ں یکساں ہوں، مثلًافرض کیجئے تولہ بھر سونے کی قیمت ٢١ تولے چاندی ہے اور یہ ٤٢تولے چاندی ٠٥تولے سونے کا مالك ہے اگر چاندی کو سوناکرتے ہیں تو٧-١/٢ تولے یعنی ایك نصاب کامل ہواجس پر ٣-١/٢ماشے سونا قیمتی ٣ تولے ١١ ماشے٢ سرخ چاندی کا واجب ہوا، اور سونے کو چاندی کیجئے تو ١٥٧تولے ٦ ماشے چاندی یعنی تین نصاب کامل ہُوئی جس پر ٣ تولے ١١ ماشے ٢ سُرخ چاندی قیمتی ٢ ماشہ سونے کی واجب ہُوئی، ہر طرح حاصل ایك ہی رہتا ہے،اس صورت میں مز کی کو اختیار ہوگا کہ دونوں میں جس سے چاہے تقویم کرے بشرطیکہ دونوں رواج میں یکساں ہوں ورنہ رائج تر متعین ہوگا ۔
اس ضابطہ کی چار٤ صورتوں میں ان چھ حالتوں کو ضرب دیجئے تو چوبیس ٢٤ہوتی ہیں جس کے امثلہ کی پُوری تفصیل موجبِ تطویل ، اور جبکہ ہم ہر صورت کی ایك مثال لکھ چکے، وضوحِ مسئلہ بحمداﷲ اپنے منتہی کو پہنچا جس کے بعد زیادہ اطالت کی حاجت نہیں، اب بحمداﷲ یہ دستورالعمل کامل و مکمل ہوگیا کہ عالم میں کوئی اختلاطِ زر و سیم ان ٣٧ صورتوں سے خارج نہیں ہوسکتا۔ ایك صورت دونوں جانب کمال نصاب بلا عفو کی اور ١٢صورتیں ضابطہ اولیٰ ،اور ٢٤ ضابطہ ثانیہ کی،اور دو٢ صورتیں کہ صرف چاندی کا مالك ہو یا صرف سونے کا، ان کے احکام مسئلہ ثانیہ میں واضح ہوچکے، انتالیس ٣٩ہوئیں۔ چالیسویں صورت کہ سونا چاندی کچھ نہ رکھتا ہو اس کا حکم خود واضح۔ ا ب یہ مسائل بحمداﷲ تعالٰی تمام صور کے بیان احکام کو کافی و وافی ہوگئے انھیں سے آئندہ کی زیادت و نقصان کے احکام نکل آئیں گے کہ آخر بڑھ کر انھیں سینتیس٣٧ صورتوں میں سے ایك میں رہے گا، غایت یہ کہ تبدیل صورت ہوجائے، مثلًاپہلے جو مال تھا ضابطہ اولیٰ کی صورت یکم پر تھا، اب بڑھ کر ضابطہ ثانیہ یا اولیٰ کی دوم یا اول الصور پر ہوگیا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع