30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

ہر چند اس بیان وجدول نے مسئلہ واضح کردیا، مگر بوجہ پیچیدگی عام مسلمان کے لیے ان دونوں ضابطوں میں ایضاح امثلہ کی بیشك ضرورت۔ لہذا فقیر غفرلہ المولی القدیر پھر جانبِ تفصیل عنان گردانی کرتا ہے، وباﷲالتوفیق
شرح ضابطہ اُولی: چاندی سونے میں جب ایك نصابِ تام بلا عفو ہواور دُوسرا نصاب نہ ہو خواہ کُلًّایعنی سرے سے نصاب تك پہنچا ہی نہ ہو یا بعضًا ، یعنی نصاب کے بعد جو عفو بچا ہو ، اس غیر نصاب کل یا بعض کو اس دوسرے کے ساتھ ضم کریں گے ،مثلًا چاندی کل بعض غیر نصاب ہے تو اُسے بلحاظ قیمت سونا قرار دے کر سونے کے نصاب سے ملائیں گے اور سونا کل یا بعض غیر نصاب ہو تو اسے چاندی سے تو ضابطہ اولےٰ کی دو٢ صورتیں بعد بسط چار ٤ ہوگئیں جیساکہ مطالعہ جدول سے واضح ہوا ہوگا۔ اب ہم بعد ضم دیکھیں گے کچھ زکوٰۃ بڑھی یا نہیں، اگر اب بھی نہ بڑھی تو وُہ غیر نصاب عفو مطلق تھا کہ کسی طرح موجبِ زکوٰۃ نہ ہوُا اور بڑھی تویا کچھ عفو نہ بچے گا اس صورت میں ظاہر ہوگا کہ غیر نصاب اپنی نوع میں نہ موجب زکٰوۃ نظرآتا تھا حقیقۃً بالکل موجب تھا یا قدرے بچے گا تو ثابت ہوگا کہ واقع میں اسی قدر عفو ہے باقی پر زکوٰۃ، تو یہ تین٣ حالتیں ہوئیں جنھیں ان چار میں ضرب دیے سے بارہ١٢ صُورتیں نکلیں ، اب ہر ایك کی مثال لیجئے اور حساب کے لیے فرض کیجئے کہ تولہ بھر سونے کی قیمت چوبیس ٢٤ تولے چاندی ہے
عــــہ: اس مثلثا نہ خانہ احکام کا خانہ قطب وُہ صورت ہے جس میں اصلًا حکم ضم نہیں اور اس کے چاروں خانہ آتشی بادی آبی خاکی متعلق ضا بطہ اولیٰ اور باقی چاروں خانے کہ چاروں گوشوں پر ہیں متعلق ضابطہ ثانیہ ١٢ منہ (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع