30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو بلغ باحد ھما نصابًا دون الاخر تعین مایبلغ بہ ولو بلغ باحدھما نصابًا و خمسًا وبا لا خراقل قومہ بالا نفع للفقیر سراج اھ [1] وفی ردالمحتار عن النھر عن الفتح یتعین ما یبلغ نصابًا دون مالا یبلغ فان بلغ بکل منھما واحد ھما اروج تعین التقویم بالا روج اھ[2]وفی شرح النقایہ للقھستانی و ان تسایا فالما لك مخیر۔ [3] |
اگر ایك کو ضم کرنے نصاب بنتا ہے دوسری سے نہیں، تو جس سے بنتا ہو وہ ضم کے لیے متعین ہوگا،اور اگر ایك کو ضم کرنے سے نصاب اور خمس بنتا ہے اور دوسرے سے کم بنتا ہے تو فقیر کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو اس سے قیمت بنائے، سراج اھ۔ اور ردالمحتار میں بحوالہ نہر، فتح سے منقول ہے کہ نصاب کو پہنچانے والے کی قیمت ضم کے لیے متعین ہوگی دوسرے کی نہیں، اگر دونوں سے نصاب پورا ہو جبکہ ایك رواج سے زائد ہے تو جو زیادہ رائج ہو اس کے ساتھ قیمت لگانا متعین ہوگا اھ اور شرح نقایہ للقہستانی میں ہے:اگر دونوں برا بر ہوں تو مالك کو اختیار ہے۔ (ت) |
جب یہ امور ممہد ہو لیے تمام صورتوں کے احکام معلوم ہوگئے کہ اختلاطِ زر وسیم انہی تین٣ حال میں منحصر:
(۱) یا کسی کی طرف کو ئی مقدار قابلِ ضم نہ ہوگی اور یہ جب ہی ہوگا کہ دونوں نصاب ہوں اور دونوں بے عفو، اس کا حکم، اول ہی گزرا کہ ہر ایك کی زکوٰۃ جدا واجب ہوگی اور ایك ہی نوع سے دینا چاہیے تونفع فقراء کا لحاظ واجب۔
(٢) یا صرف ایك طرف مقدار قابلِ ضم ہوگی یہ یونہی ہوگا کہ ایك نصاب بلا عفو ہو اور دوسرا راسًا غیر نصاب یانصاب مع العفو ، تواس کی دو ٢ صورتیں نکلیں، ان کا ضابطہ ۱بھی معلوم ہوچکا کہ خاص اسی قابل ضم کو دوسرے کے ساتھ تقویم کریں گے۔
(٣) یا دونوں طرف مقدار قابل ضم ہو یہ اس طرح ہوگا کہ دونوں نصاب سے کم یا ایك کم اور ایك میں عفو یا دونوں میں عفو، اس کی تین٣ صورتیں ہوئیں، ضابطہ۲بھی مذکور ہُو ا کہ جو مقداریں دونوں طرف قابلِ ضم ہیں انہی کو آپس میں ملائیں گے اور نفعِ فقراء کا لحاظ رکھیں گے یعنی جس تقویم میں زیادہ مالیت واجب الادا ہو وہی اختیار کرینگےِ اور مالیت برابر ہو تو جس کا رواج زیادہ ہے اسے لیں گے اور قدر رواج سب یکساں ہوں تو اختیار دیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع