30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العلامۃ الشامی ماظن۔ |
اگرچہ علّامہ شامی کا گمان کچھ ہو۔ (ت) |
بہرحال اس حتی الوسع محلِ خلاف سے بچنا احسن اور زرِ زکوٰۃ پر اُس کا قبضہ کراکر اپنے مطالبے میں لینے کی قید اسلیے کہ کوئی صدقہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا کما نص علیہ العلماء (جیساکہ علماء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ ت) اور یہ تو پہلے بیان میں آچکا کہ اغنیاء کثیر المال شکر نعمت بجا لائیں ۔ ہزاروں روپے فضول خواہش یا دنیوی آسائش یا ظاہر آرائش میں اُٹھانے والے مصارف خیر میں ان حیلوں کی آڑ نہ لیں۔ متوسط الحال بھی ایسی ہی ضرورتوں کی غرض سے خالص خدا ہی کے کام صرف کر نے کے لیے ان طریقوں پر اقدام کریں نہ یہ کہ معاذاﷲاُن کے ذریعہ سے ادا ئے زکوٰۃ کانام کرکے روپیہ اپنے خُر دبُردمیں لائیں کہ یہ امر مقاصد شرع کے بالکل خلاف اور اس میں ایجاب زکوٰۃ کی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے تو گویا اس کا برتنااپنے رب عزوجل کو فریب دینا ہے۔
|
والعیاذباﷲرب العالمین واﷲیعلم المفسد من المصلح، نسئلہ تعالٰی ان یصلح اعمالنا ویحصل اٰمالنا والحمد ﷲربّ العالمین واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
رب العالمین سے پناہ چاہتا ہوں، اور اﷲتعالٰی جانتا ہے مفسد کو مصلح سے، اﷲتعالےٰ سے دعا ہے کہ ہمارے اعمال کی اصلاح فرمائے اور ہماری امیدیں بَرلائے، والحمدﷲرب العالمین واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ خامسہ: زکوٰۃ کِن مصارف میں دینا جائز ہے بینو اتو جروا۔
الجواب:
مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجتمند ہے جسے اپنے مال مملوك سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو نہ اپنا شوہر نہ اپنی عورت اگرچہ طلاق مغلظہ دے دی ہو، جب تك عدّت سے باہر نہ آئے نہ وُہ اپنی اولادمیں ہے جیسے بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، نہ وُہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے ماں باپ، دادا دادی، نانانانی، اگر چہ یہ اصلی و فرعی رشتے عیا ذًاباﷲ بذریعہ زنا ہوں، نہ اپنا یا ان پانچواں قسم میں کسی کا مملوك اگر چہ مکاتب ہو ، نہ کسی غنی کا غلام غیر مکا تب، نہ مرد غنی کا نا بالغ بچہ ، نہ ہاشمی کا آزادبندہ،اور مسلمان حاجتمند کہنے سے کافر و غنی پہلے ہی خارج ہوچکے۔ یہ سولہ شخص ہیں جنھیں زکوٰۃ دینی جائز نہیں، ان کے سوا سب کو روا، مثلًاہا شمیہ بلکہ فاطمیہ عورت کا بیٹا جبکہ باپ ہاشمی نہ ہو کہ شرع میں نسب باپ سے ہے۔ بعض مشہورین کہ ماں کے سیدانی ہونے سے سیّد بن بیٹھے ہیں اوروہ باوجود تفہیم اس پر اصرار کرتے ہیں بحکمِ حدیثِ صحیح مستحق لعنتِ الہٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع