30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ شرطافاسد او الھبۃ والصدقۃلاتفسدان بالشرط الفاسد۔[1] |
مالك بنایاگیاہے اور اس پر ایك فاسد شرط لگائی گئی ہے اور ہبہ اور صدقہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا۔(ت) |
لہذا فقیر غفرا ﷲتعالٰی لہ کے نزدیك اس کا بے خلش طریقہ یہ ہے کہ مثلًامالِ زکوٰۃ سے بیس٢٠ روپے سیّد کی نذر یا مسجد میں صرف کیا چاہتا ہے کسی فقیر عاقل بالغ مصرفِ زکوٰۃ کوکوئی کپڑا مثلًا ٹوپی یا سیر سوا سیر غلّہ دکھائے کہ یہ ہم تمھیں دیتے ہیں مگر مفت نہ دیں گے بیس روپے کو بیچیں گے، یہ روپے تمھیں ہم اپنے پاس سے دیں گے کہ ہمارے مطالبہ میں واپس کردو وہ خواہ مخواہ راضی ہوجائےگا، جانے گا کہ مجھے تو یہ چیز یعنی کپڑا یا غلّہ مفت ہی ہاتھ آئے گا، اب بیع شرعی کرکے بیس ۲۰ روپے بنیّتِ زکوٰۃ اسے دے، جب وہ قابض ہوجائے اپنے مطالبہ ثمن میں لے لے۔ اول تو وہ خود ہی دے دے گا کہ سرے سے اسے ان روپوں کے اپنے پاس رہنے کی اُمید ہی نہ تھی کہ وُہ گرہ سے جاتا سمجھے اسے تو صرف اس کپڑے یا غلّہ کی امید تھی وُہ حاصل ہے تو انکار نہ کرے گا اور کرے بھی تو یہ جبرًاچھین لے کہ وہ اس قدر میں اس کا مدیون ہے اور دائن جب اپنے دین کی جنس سے مال مدیون پائے تو بالاتفاق بے اس کی رضا مندی کے لے سکتا ہے، اب یہ روپے لے کر بطورِ خود نذرِ سیّد یا بناءِ مسجد میں صرف کردے کہ دونوں مرادیں حاصل ہیں۔درمختار میں ہے:
|
یعطی مدیونہ الفقیرزکوٰتہ ثم یا خذھا من دینہ ولوامتنع المدیون مد یدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ اھ [2] |
اپنے مدیون فقیر کو زکوٰۃ دی پھر اس سے دین وصول کرے، اگر مدیون نہ دے تو اس سے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق کی جنس کو پاتا ہے اھ(ت) |
اور فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے اُس مصرف زکوٰۃ کے عاقل بالغ ہونے کی شرط اس لیے لگائی کہ اس کے ساتھ یہ غبن فاحش کی مبایعت بلا تکلّف روا ہواور کپڑے غلّے کی تخصیص اس لیے کی کہ اگرکچھ پیسے بعوض روپوں کے بیچنا چاہے گاتو ظاہر مفاد جامع صغیرپرتقابض البدلین شرط ہوگا وُہ یہاں حاصل نہیں اگر چہ روایت اصل پر ایك ہی جانب کا قبضہ کافی اور اکثر علماء اسی طرف ہیں اور یہی قول منقح،
|
کما بیناہ فی البیوع من فتاونٰا بل حققنا فیھا ان لا دلالۃ لکلام الجامع الصغیر ایضا علی اشتراط التقابض و ان ظن |
جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی کی بیوع میں بیان بلکہ اس کی تحقیق کی ہے کہ جامع صغیر عبارت میں بھی تقابض کے شرط ہونے پر کوئی دلالت نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع