30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محیط و بحر و درر وغیرہا میں ہے: زکوٰۃ ہاشمی کے غلام مکاتب کو بھی جائز نہیں حالانکہ مکاتبِ اغنیاء کیلئے حلال، اور وجہ وہی کہ ملك مکاتب من وجہ ملك مولیٰ ہے اور یہاں شبھہ مثلِ حقیقت۔ ردالمحتار میں ہے:
|
فی البحر عن المحیط وقد قالو اانہ لا یجوز لمکاتب ھاشمی لان الملك یقع للمولی من وجہ و الشبھۃ ملحقۃ بالحقیقۃ فی حقھم اھ ای ان المکاتب وان صار حراید احتی یملك مایدفع الیہ لکنہ مملوك رقبۃ ففیہ شبھۃ وقوع الملك لمولا ہ الھاشمی والشبھۃ معتبرۃ فی حقہ لکرامۃ بخلاف الغنی کما مر فی العمل فلذا قید بقولہ فی حق بنی ھاشم اھ۔[1] |
بحر میں محیط سے ہے کہ علماء نے فرمایاہے کہ ہاشمی کے مکاتب کے لیے زکوٰۃ جائز نہیں کیونکہ یہاں ا یك لحاظ سے مولیٰ کی ملکیت باقی ہوتی ہے اور یہاں شبہ ہاشمیوں کے حق میں حقیقی طور پر برقرارہوتا ہے اھ یعنی مکاتب اگرچہ آزاد متصوّر ہوتا ہے حتی کہ جو کچھ اسے دیا جائے وُہ اس کا مالك بن جاتا ہے لیکن گردن کے اعتبار سے مملوك ہوتا ہے لہذا اس صورت میں اس کے ہاشمی مولیٰ کی ملکیت کا شبہ ہے اور یہاں ہاشمی کی شرافت کی وجہ سے شبہ کا اعتبار ہوتا ہے بخلاف غنی کے، جیسا عامل میں گزرا ہے، اسی لیے مصنّف نے حقِ بنی ہاشم کی قید لگائی ہے اھ(ت) |
بالجملہ جب حدیث وُہ اور فقہ یہ، پھر خلاف کی طرف راہ کہاں، اب جو صاحب جو از پر فتوٰی دیں ان کا منشاء غلط'ایك مقدوح و مرجوح و مجروح روایت ہے جو ابوعصمہ نوح بن ابی مریم جامع نے امام رضی اﷲتعالٰی عنہ سے حکایت کی کہ ہمارے زمانے میں بنی ہاشم کو زکوٰۃ روا ہے کہ سببِ حُرمت مالِ غنیمت سے خمسِ خمس ملنا تھا اب کہ وُہ نہیں ملتا زکوٰۃ نے عود کیا۔
اقول: یہ حکایت نہ روایۃً رجیح نہ درایۃً نجیح، ہم ابھی بیان کر آئے کہ علّتِ حرمت بنصِ صریح صاحب شرع صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم و تصریحاتِ متظافرہ حاملانِ شرع رحمۃ اﷲعلیہم کثافتِ صدقات و نظامتِ سادات یعنی بنی ہاشم ہے، اور تبد لِ زمانہ سے متبدل نہیں ہو سکتی، اور جو دلیل اس ضعیف قیل پر بیان میں آئی، فقیر غفر اﷲتعالےٰ لہ' نے اس کی کامل نا تمامی اپنے فتاویٰ یکم جمادی الاولیٰ ۱۳۰۶ ہجریہ مندرجہ مجموعہ العطایاالنبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ میں بحمد اﷲتعالٰی روشن بیانوں سے واضح کردی اسی میں اٹھارہ١٨ دلائل ساطعہ قائم کیے کہ امام اجل ابو جعفر طحاوی قدس سرہ' کی طرف اس روایت مرجوحہ کے اخذو اختیار کی نسبت میں بڑا دھوکا واقع ہوا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع