دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اگرایك بار دھونے پر اکتفا کی توبصورت عادت گنہگار ہے ا ورعادت نہ ہو تو نہیں ۔ ( ت)

خلاصہ میں فـــــ۱ ہے :

ان توضأ مرۃ مرۃ ان فعل لعزۃ الماء لعذر البرد اولحاجۃ لایکرہ وکذا ان فعلہ احیانا اما اذا اتخذ ذلك عادۃ یکرہ [1] اھ

اقول :  ای تحریما لانہ سنۃ مؤکدۃ وھی محمل الاطلاق والمنفیۃ عن فعلہ احیانا من دون عذر۔

اگر ایك بار وضو کیا اس وجہ سے کہ پانی کم یاب ہے یا ٹھنڈك لگنے کا عذر یا کوئی حاجت ہے تو مکروہ نہیں اسی طرح اگر احیانا ایساکیا لیکن جب اسے عادت بنالے تو مکروہ ہے اھ ۔

اقول : یعنی مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ سنت مؤکدہ ہے اورکراہت مطلق بولنے سے یہی مراد ہوتی ہے اور بلا عذر احیا نا کرنے سے جس کراہت کی نفی کی گئی ہے اس سے بھی یہی تحریمی مراد ہے (ت)

اس کے نظائر کثیروافر ہیں ،

فلا نظر الی ماوقع فی البحر صدر سنن الصلاۃ وقدردہ فی ردالمحتار بعض ماذکرنا ھنا وبالله التوفیق۔

تو وہ قابل توجہ نہیں جو بحر میں سنن نماز کے شروع میں تحریرہے اور ردالمحتار میں یہاں ہمارے ذکر کردہ بعض کلام کے ذریعہ اس کی تر دید بھی کردی ہے ، اور توفیق خدا ہی سے ہے ۔ (ت)

خُوبتریہ فـــــ۲ ہے جب ہمارے مشایخ عراق نے جماعت کو واجب اور مشائخ خراسان نے سنتِ مؤکدہ فرمایا

فـــــ۱ : اگر پانی کم ہے یا سردی سخت ہے اور کسی ضرورت کے لئے پانی درکار ہے اس وجہ سے اعضا ایك ایك بار دھوئے تو مضائقہ نہیں ۔

فــــــ۲ :  تطفل علی النھر۔

اور مفیدمیں یوں تطبیق دی کہ واجب ہے اور اُس کا ثبوت سنت سے خود علامہ عمر نے نہر میں اسے نقل کرکے فرمایا :

ھذا یقتضی الاتفاق علی ان ترکہا (مرۃ) بلا عذر یوجب اثما مع انہ قول العراقیین والخر اسانیین علی انہ یاثم اذا اعتاد الترك کما فی القنیۃ[2] اھ

اس کا مقتضا یہ ہے بلاعذر ایك بار ترك کرنے سے گناہ گار ہونے پراتفاق ہو حالاں کہ یہ مشائخ عراق کا قول ہے ، اور اہل خراسان یہ کہتے ہیں کہ جب ترك کی عادت ہو تو گناہ گار ہوگا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)

فائدہ : اس مسئلہ پر باقی کلام اور سنت کی تعریف واقسام اور سنّت غیر مؤکدہ کی تحقیق احکام اور اُس کا مستحب سے فرق اور مکروہ تحریمی وتنزیہی کی بحث جلیل اور یہ کہ مکروہ تنزیہی اصلًا گناہ نہیں اور یہ کہ مکروہ تحریمی مطلقًا گناہ ہے اور یہ کہ وہ بے اصرار ہرگز کبیرہ نہیں اور ان مسائل میں فاضل لکھنوی کی لغزشوں کا بیان یہ سب ہمارے رسالہ ۲۷ بسط الیدین فی السنۃ والمستحب والمکروھین میں ہے وبالله التوفیق۔

تنبیہ ۵ : جبکہ علّامہ عمر نے کراہت تحریم کا استظہار کیا علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں تو اُن کا کلام مقرر رکھا مگر ردالمحتار میں رائے جانب کراہت تنزیہ گئی لہٰذا دلائل تحریم کا جواب دینا چاہا۔ علامہ عمر نے تین دلیلیں پیش فرمائی تھیں :

(۱) کلامِ امام زیلعی میں کراہت کو مطلق رکھنا۔
(
۲) اسراف سے نہی کی حدیثوں کا مطلق یعنی بے قرینہ صارفہ ہونا۔
(
۳) منتقٰی میں اُسے منہیات سے گننا۔

علّامہ شامی نے اوّل کا یہ جواب دیا کہ مطلق کراہت ہمیشہ تحریم پر محمول نہیں

کما ذکرنا انفا ٢[3]اھ  واشاربہ الی ماقدمہ قبل ھذا بصفحۃ عن البحران المکروہ نوعان احدھما ماکرہ تحریما وھو

جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا اھ (ردالمحتار) اس سے ان کا اشارہ اس کلام کی طرف ہے جو اس سے ایك صفحہ پہلے بحر کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ مکروہ کی دو قسمیں ہیں ایك مکروہ تحریمی۔ ۔ ۔ یہی مطلق

المحمل عند اطلاقھم الکراھۃ کما فی زکاۃ فتح القدیر ثانیھما المکروہ تنزیھا وکثیرا مایطلقونہ کما شرح المنیۃ۔ [4]

کراہت بولنے کے وقت مراد ہوتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں کتاب الزکوٰۃ میں ہے۔ ۔ ۔ اور دوسری قسم مکروہ تنزیہی۔ ۔ ۔ ۔ اوربار ہا اسے بھی مطلق بولتے ہیں جیسا کہ منیہ کی شرح میں ہے۔ (ت)

اقول : فـــــ۱ اس میں کلام نہیں کہ فقہا ء بارہا فـــــ۲ کراہت مطلق بولتے اور اُس سے خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی وتحریمی دونوں کو عام مراد لیتے ہیں مگر یہ وہاں ہے کہ ارادہ کراہت تحریم سے کوئی صارف موجود ہو مثلًا دلیل سے ثابت یا خارج سے معلوم ہو کہ جسے یہاں مطلق مکروہ کہا مکروہ تحریمی نہیں یا جو افعال یہاں گنے اُن میں مکروہ تنزیہی بھی ہیں کما یفعلونہ فی مکروھات الصلاۃ (جیسے مکروہات نماز میں ایسا کرتے۔ ت) بے قیام دلیل ہمارے مذہب میں اصل وہی ارادہ کراہت تحریم ہے کما مرعن نص المحقق علی الاطلاق وکتب المذہب طافحۃ بذلك (جیسا کہ نص محقق علی الاطلاق کی تصریح گزری اور کتب مذہب اس کے بیان سے لبریز ہیں ۔ ت) تو کراہت تنزیہ کی طرف پھیرنا ہی محتاج دلیل ہے ورنہ استدلال نہر تام ہے اب یہ جواب دلیل دوم کی جواب سے محتاج تکمیل ہوا اور اُسی کی تضعیف بھی جلوہ نما۔ دوم سے یہ جواب دیا کہ صارف موجود ہے مثلًا جس نے آبِ نہر سے وضو میں اسراف کیا اگر اُسے سنت نہ جانا تو ایسا ہوا کہ نہر سے کوئی برتن بھر کر اُسی میں اُلٹ دیا اس میں کیا محذور ہے سوا اس کے کہ ایك عبث بات ہے۔

اقول : فـــــ۳ اس کا مبنٰی اُسی خیال پر ہے کہ علّامہ نے قول اول وچہارم کو ایك سمجھا ہے ورنہ قول چہارم میں لب نہراسراف کی تحریم کہاں اور ماورا میں کہ پانی کی اضاعت ہے صارف کیا۔

وقد قدمنا مایکفی ویشفی ومنہ فـــــ۴  تعلم مافی تعبیرہ بالوضوء بماء النھر

اس پر ہم کافی وشافی بحث کر چکے ہیں ۔ اسی سے وہ نقطہ بھی معلوم ہوم جاتا ہے جو “ وضو بماء النہر “

فـــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔

فـــــ۲ : اگر فقہا خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی و تحریمی دونوں سے عام پر اطلاق کراہت فرماتے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ اس کے مطلق سے مراد کرا ہت تحریمی ہے جب تك دلیل سے اسکا خلاف نہ ثابت ہو ۔

فـــــ ۳ : معروضۃ اخری علیہ ۔                                                                    فـــــ ۴ :  معروضۃ ثالثۃ علیہ۔

اما استنادہ الی ان حدیث فمن زاد علی ھذا ونقص فقد تعدی وظلم محمول علی الاعتقاد عندنا کما فی الھدایۃ وغیرھا قال فی البدائع انہ الصحیح حتی لوزاد اونقص واعتقد ان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید قال وقدمنا انہ صریح فی عدم کراھۃ ذلك یعنی کراھۃ تحریم[5]اھ

 



[1]   خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۲

[2]   النہرالفائق کتاب الصلوٰۃ باب ا لامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۲۳۸

[3]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۰

[4]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن