30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ترك نہ کرے اگر ترك کی عادت کرے تو گنہگا رہوگا (ت)
غنیہ میں ہے :
لانہ سنۃ مؤکدۃ اما لو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتیاد لایاثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ [1]۔
اس لئے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر بغیر عادت کے کسی وقت ترك کر دیا تو گناہگارنہ ہوگا اور یہ حکم تمام سنن مؤکدہ میں ہے ۔ (ت)
حلیہ میں کلام مذکور امام الیسر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا :
وھو حسن لکن بعد وجود الدلیل الدال علی لحوق الاثم لتارك السنۃ بمجرد الترك لھا ولیس ذلك بالسھل الواضح[2]۔
یہ کلام عمدہ ہے مگراس کے بعد تارك سنت کے لئے محض ترك سے ہی گناہ لاحق ہونے پر دلالت کرنے والی دلیل مل جائے اور یہ بہت آسان نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار سُنن صلاۃ میں نہرالفائق سے بحوالہ کشف کبیر کلام امام ابی الیسر نقل کرکے فرمایا :
فی شرح التحریر المراد الترك بلا عذر علی سبیل الاصرار وفی شرح الکیدانیۃ عن الکشف قال محمد فی المصرین علی ترك السنۃ بالقتال وابو یوسف بالتادیب اھ
شرح تحریر میں ہے کہ ترك سے مراد بلا عذر ترك بطور اصرار ترك کرنا اور شرح کیدانیہ میں کشف سے ہے امام محمد نے ترك سنت پر قتال کااور امام ابو یوسف نے تادیب کا حکم دیا اھ تو
فـــــ : مسئلہ : تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین سنت مؤکدہ ہے ترك کی عادت سے گناہ گار ہوگا ورنہ مکروہ ضرور۔
فیتعین حمل الترك علی الاصرار توفیقا بین کلامھم [3]۔
متعین ہے کہ ترك کو اصرار پر محمول کیا جائے تاکہ ان حضرات کے کلام میں تطبیق ہوجائے (ت)
اُسی میں ہے :
کونہ سنۃ مؤکدۃ لایستلزم الا ثم بترکہ مرۃ واحدۃ بلا عذر فیتعین تقیید الترك بالاعتیاد [4]۔
اُس کا سنّت مؤکدہ ہونا اسے مستلزم نہیں بلا عذر ایك بار ترك سے بھی گناہ گار ہوجائے گاتو متعین ہے کہ ترك کے ساتھ عادت کی قید لگائی جائے۔ (ت)
اُسی کے فـــــ۱ سنن وضؤ میں دربارہ نیت ہے :
یاثم بترکہا اثما یسیرا کما قدمنا عن الکشف والمراد الترك بلا عذر علی سبیل الاصرار کما قدمنا عن شرح التحریر وذلك لانھا سنۃ مؤکدۃ کما حققہ فی الفتح [5]۔
نیت وضو کے ترك سے کچھ گناہ گار ہوگا جیسا کہ کشف کے حوالے سے ہم نے سابقا نقل کیا اور مراد یہ ہے کہ بلاعذر بطور اصرار ترك کرے جیساکہ شرح التحریر کے حوالے سے ہم نے پہلے لکھا یہ اس لئے جیساکہ فتح القدیر میں تحقیق کی کہ وضومیں نیت سنت مؤکدہ ہے۔ ( ت)
فتح القدیر میں ہے :
حکی فی الخلاصۃ خلافافی ترکہ (ای ترك رفع الیدین عند التحریمۃ) قیل یاثم وقیل لاقال والمختار ان اعتادہ اثم لاان کان احیانا انتھی وینبغی ان نجعل
خلاصہ میں اس کے ترك پر اختلاف منقول ہے (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع بدین کے ترك پر) ایك قول ہے گنہگار ہوگا اور ایك ہے کہ نہیں ہوگا ، اور مختار یہ ہے کہ اگر عادت بنالی ہے تو گنہگار
فـــــ۱ : مسئلہ : وضومیں نیت نہ کرنے کی عادت سے گناہ گار ہو گا اس میں نیت سنت مؤکدہ ہے ۔ )
شقی ھذا القول محمل القولین فلا اختلاف ولا اثم لنفس الترك بل لان اعتیادہ للاستخفاف والا فمشکل اویکون واجبا [6]۔
ہوگا۔ اگر احیانا ہو تو نہ ہوگا انتہی اور مناسب ہے کہ اس قول کی دونوں شقوں کو دونوں قولوں کا محمل بنا لیا جائے تو نہ تو اختلاف ہوگا اور نہ ہی گناہ ہوگا نفس ترك میں ، بلکہ صرف عادت بنالینے کی صورت میں ہوگا کہ اس میں استخفاف کا پہلو نکلتا ہے ورنہ مشکل ہے ، یا پھر وہ چیز واجب ہو۔ (ت)
دُرمختار میں ہے :
الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال وقیل واجبۃ وعلیہ العامۃ ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ [7]۔
جماعت مردوں کیلئے سنت مؤکدہ ہے ، اور کہا گیاواجب ہے ، اور عامہ علماء اور ثمرہ اختلاف ایك بار ترك سے گنا ہگار ہونے سے حکم میں ظاہر ہو گا ۔ (ت)
اُسی کے سُننِ وضو میں ہے :
وتثلیث فـــــ۱ الغسل المستوعب ولا عبرۃ فـــــ۲ للغرفات ولو اکتفی بمرۃ ان اعتادہ تین بار اس طرح دھونا کہ ہر مرتبہ پورے عضو کا احاطہ ہو جائے اس میں چُلوؤں کی تعداد کا اعتبار نہیں
فـــــ۱ : مسئلہ : طہارت میں ہر عضو کا پورا تین بار دھونا سنت موکدہ ہے ترك کی عادت سے گناہ گار ہوگا
فـــــ۲ : مسئلہ : پانی ڈالنے کی گنتی معتبر نہیں جتنا دھونے کا حکم ہے اس پر پورا پانی بہہ جانا معتبر ہے مثلا ہاتھ پر ایك بار پانی ڈالا کہ تہائی کلائی پر بہا باقی پر بھیگا ہاتھ پھیرا دوبارہ دوسری تہائی دھلی سہ بارہ تیسری ۔ تو یہ ایك ہی بار دھونا ہوا ہر بار پورے ہاتھ پر کہنی سمیت پانی ذرہ ذرہ پر بہتا تو تین بار ہوتا اس طرح دھونے کی عادت سے گناہ گار ہوگا اور اگر سو بار پانی ڈالا اور ایك ہی جگہ بہا کچھ حصے کسی دفعہ نہ بہا اگرچہ بھیگا ہاتھ پھیرا تو وضو ہی نہ ہو گا ۔
اثم والالا [8]۔
[1] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۰
[2] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[3] رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۹
[4] رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۹
[5] رد المحتار کتاب االطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۳
[6] فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
[7] الدرلمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
[8] الدر المختار کتاب الطہارات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع