30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وثانیا : لا یدری فــــ۲ ماذا اراد بنحوھا فالحکم لایسلم لہ فی السنۃ المؤکدۃ مالم یتعود بالترك ففیم یثبت بعدھا وھل تری قائلا بہ احدا۔
میں ہو جیسے سنتِ ہدٰی وغیرہا تو اس کا ترك مکروہ تحریمی ہے اور اگر سنت زائدہ ہو یا وہ ہو جو اُس کے حکم میں ہے یعنی ادب اوراس کی مثل تو اس کا تر ك مکروہ تنزیہی ہے۔ (ت)
اقول اوّلا : ان دونوں حضرات (ابو سعود و طحطاوی ) نے قہستانی کی پیروی کی ہے ۔ قہستانی نے یہ بات مکروہات نماز کے شروع میں ذکر کی اور اسے کسی سے نقل نہ کیا بلکہ یہ دعوی کیاکہ کلام علماء اس پر دلالت کرتا ہے۔ تو سید ازہری کو یہ نہ چاہیے تھا کہ اسے اس طرح ذکر کریں جیسے وہ کوئی منقول قاعدہ ہے۔
ثانیاسنت ہدی کے بعد : “ اور اس کے مثل “ کہا پتا نہیں اس سے کیا مراد ہے خود سنت موکدہ کو واجب کا حکم نہیں ملتاجب تك کہ اس کے تر ك کی عادی نہ ہو پھر اس کے بعد کس چیز میں وہ حکم ثابت ہوگا کیا اس کا بھی کوئی قائل مل سکتا ہے؟
کشف بزدوی وتحقیق علی الحسامی بحث عزیمت ورخصت میں اصول امام ابو الیسر فخر الاسلام بزدوی سے ہے :
فــــ ۱ : معروضۃ علی السید ابی السعود۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی القہستانی والسیدین ابی السعود وط۔
حکم السنۃ ان یندب الی تحصیلہا ویلام علی ترکہا مع لحوق اثم یسیر [1]۔
سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کی بجا آوری کی دعوت ہو اور اس کے ترك پر ملامت ہو ساتھ میں کچھ گناہ بھی لاحق ہو ۔ (ت)
درمختار صدرحظر میں ہے :
یاثم بترك الواجب ومثلہ السنۃ المؤکدۃ[2]۔
ترك واجب سے گناہگا ر ہوگا اوراسی کے مثل سنت مؤکدہ بھی ہے ۔ (ت)
مگر صحیح وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے کہ سنتِ مؤکدہ کا ایك آدھ بار ترك گناہ نہیں ہاں بُرا ہے اور عادت کے بعد گناہ وناروا ہے۔
اقول : وھذا ان شاء الله تعالی سرقول الامام الاجل فخرالاسلام ان تارك السنۃ المؤکدۃ یستوجب اساءۃ[3]ای بنفس الترك وکراھۃ ای تحریمیۃ ای عند الاعتیاد اذھی المحل عند الاطلاق ولھذا قال الامام عبدالعزیز فی شرحہ ان الاساء ۃ دون الکراھۃ[4] واکتفی فی السنۃ الزائدۃ بنفی الاساء ۃ لان نفی الادنی یدل علی نفی الاعلی بالاولی وحیث ان الکراھۃ التنزیھیۃ ادنی من
اقول : اور یہی ان شاء الله تعالی امام الاجل فخر الاسلام کے اس ارشاد کارمز ہے کہ “ سنت مؤکدہ کا تارك اساء ت کا مستحق ہے “ یعنی نفس ترك سے “ اور کراہت کا “ مستحق ہے یعنی کراہت تحریمیہ کا ، جب کہ عادت ہو اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت کراہت تحریمیہ ہی مراد ہوتی ہے ۔ اس لئے امام عبد العزیز بخاری نے اپنی شرح میں فرمایا کہ : اساء ت کا درجہ کراہت سے نیچے ہے اور سنت زائدہ میں نفی اسا ء ت پر اکتفا کی اس لئے کہ ادنی کی نفی سے اعلٰی کی نفی بدرجہ اولٰی معلوم ہوجائے گی۔ اور چونکہ کراہت تنزیہیہ اساء ت سے ادنٰی ہے تو
الاساء ۃ فنفی الاعلی لایستلزم نفی الادنی ولذا ذکر توجہ اللائمۃ حکم ترك مطلق السنۃ ثم قسمھا قسمین وفرق بلزوم الاساء ۃ وعدمہ فتحصل ان المؤکدۃ وغیرھا تشتر کان فی توجہ الملام علی الترك وتتفار قان فی ان ترك المؤکدۃ اساءۃ وبعد التعود کراھۃ تحریم و لیس فی ترك غیرھا الاکراھۃ التنزیہ ولعمری ان اشارات ھذا الامام الھمام ادق من ھذا حتی لقبوہ ابا العسر واخاہ الامام صدر الاسلام ابا الیسر۔
اعلی ٰ کی نفی سے ادنٰی کی نفی لازم نہ آئے گی اس لئے مستحق ملامت ہونا مطلق سنت کے ترك کا حکم بتایا پھرسنت کی دوقسمیں کیں اور اساء ت لازم آنے اور نہ لازم آنے سے دونوں میں فرق کیا تو حاصل یہ نکلا کہ سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ دونوں اس حکم میں مشترك ہیں کی ترك پر ملامت ہوگی اوردونوں آپس میں یوں جداجدا ہیں کہ مؤکدہ کا ترك اسا ء ت اورعادت کے بعد کراہت تحریم ہے اور غیر مؤکدہ کے ترك میں صرف کراہت تنزیہ ہے بخدا اس امام ہمام کے ارشادات اس سے بھی زیادہ دقیق ہوتے ہیں یہاں تك کہ علماء نے انہیں “ ابو العسر “ اور ان کے برادر امام صدرالاسلام کو “ ابوالیسر “ کا لقب دیا ۔ (ت)
جہاں جہاں کلمات علما ء میں اُس پر حکم اثم ہے اُس سے مراد بحال اعتیاد ورنہ اُس میں اور واجب میں فرق نہ رہے۔
اقول : فـــــ۱ والفرق بتشکیك الاثم کما لجاء الیہ فی البحر لایجدی لان التشکیك حاصل فی الواجبات انفسھا۔
اقول : اور گناہ کی تشکیك سے فرق جیسا کہ بحر میں اس کا سہارا لیا ہے کارآمد نہیں اس لئے کہ تشکیك تو خو د واجبات میں بھی حاصل ہے(اسی میں کم درجہ کا گناہ ہے اسی میں اس سے سخت ) ۔ ت
اور جب اُس کا مطلق ترك گناہ نہیں تو مکروہ تحریمی بے عادت نہیں ہوسکتا کہ ہر مکروہ تحریمی فـــــ۲ گناہ ومعصیت صغیرہ ہے ۔
ردالمحتار صدر واجبات صلوٰۃ میں ہے :
صرح العلامۃ ابن نُجیم فی رسالتہ
علامہ ابن نُجیم نے بیان معاصی سے متعلق اپنے
فـــــ۱ : تطفل علی البحر ۔ فـــــ۲ : مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے ۔
ا المؤلفۃ فی بیان المعاصی بان کل مکروہ تحریما من الصغائر[5]۔
رسالہ میں تصریح فرمائی ہے کہ ہر مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے :
لایترك فـــــ ۳رفع الیدین ولو اعتاد یاثم [6]۔
[1] کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۳۰۸
[2] الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۵
[3] اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹
[4] کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۳۱۰
[5] رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۰۶
[6] منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۷۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع