30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ونقل قبیلہ عن اللامشی فی حد المکروہ وھو مایکون ترکہ اولی من فعلہ وتحصیلہ اھ ثم قال اعلم ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی ماھو خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان کما اشار الیہ اللامشی [1] اھ وتبعہ فی ردالمحتار۔
جیسا کہ محقق نے حلیہ میں لکھا کہ یہ ایك ایسی چیز ہے کہ جس کا مرجع اصطلاح ہے اور اس کا التزام کوئی ضروری نہیں اھ۔ اور اس سے کچھ پہلے لامشی سے تعریف مکروہ میں نقل کیا کہ یہ وہ ہے جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہے اھ۔ پھر لکھا کہ واضح ہو کہ مکروہ تنزیہی کامرجع خلاف اولٰی ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے جیسا کہ لامشی نے اس کی طرف اشارہ کیا اھ اس کلام پر علامہ شامی نے بھی ردالمحتار میں ان کا اتباع کیا ۔ (ت)
(٧) مشہور فــــ۲ احکام خمسہ۵ ہیں ۱واجب ، ۲ مندوب ، ۳ مکروہ ، ۴ حرام ، ۵مباح وبہ بدء فی
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ وش ۔
فــــ۲ : احکام شرعیہ پانچ نہ سات نہ نو بلکہ گیارہ ہیں ۔
مسلم الثبوت (اسی کو مسلم الثبوت میں پہلے نمبر پر بیان کیا ۔ ت) یہ مذہب شافعیہ سے الیق ہے کہ اُن کے یہاں واجب وفرض میں فرق نہیں
والیہ اشارتبعا للتحریر فی التحریر بقولہ بعدہ والحنفیۃ لاحظوا حال الدال الخ [2]
اور اسی کی طرف مسلم میں اس کے بعد محقق ابن الہمام کی تحریر الاصول کی تبعیت میں یہ کہہ کر اشارہ کیا کہ حنفیہ نے دلیل کی حالت کا اعتبار کیا ہے الخ۔
اور بعض نے برعایت مذہب حنفی فرض وواجب اور حرام ومکروہ تحریمی کو تقسیم میں جدا جدا اخذ کرکے سات قرار دئے وبہ ثنی فی المسلم (اور اسی کو مسلم الثبوت میں دوسرے نمبرپر بیان کیا (ت) بعض نے فرض ، واجب ، سنّت ، نفل ، حرام ، مکروہ ، مباح یوں سات گنے۔
وعلیہ مشی فی التنقیح وتبعہ مولی خسرو فی مرقاۃ الوصول والعلامۃ الشمس محمد بن حمزۃ الفناری فی فصول البدائع۔
اسی پر صدر الشریعہ تنقیح میں چلے ہیں اور ملاّ خسرو نے مرقاۃ الوصول میں اور علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فناری نے اصول البدائع میں تنقیح کی پیروی کی ہے ۔
بعض نے سنت میں سنت ہدی و سنت زائدہ اور مکروہ میں تحریمی وتنزیہی قسمیں کر کے نو شمار کیے۔
کمانص علیہ الفناری فی اخر کلامہ ویشیر الیہ کلام التوضیح ۔
جیساکہ فناری نے آخر کلام میں اس کی صراحت کی ہے اور کلام توضیح میں اس کی جانب اشارہ ہے۔ (ت)
اقول : تقسیم فــــ۱ اول میں کمال اجمال اور مذہب شافعی سے الیق ہونے کے علاوہ صحت مقابلہ اس پر مبنی کہ ہر مندوب کا ترك مکروہ ہو وقد علمت انہ خلاف التحقیق (تُو نے جان لیا یہ خلافِ تحقیق ہے۔ ت) نیز سنّت ومندوب فــــ۲ میں فرق نہ کرنا مذہب حنفی وشافعی کسی کے مطابق نہیں ۔ یہی فــــ۳ دونوں کمی تقسیم دوم میں بھی ہیں ، سوم وچہارم میں عدم مقابلہ بدیہی کہ سوم فــــ۴ میں جانبِ فعل چار چیزیں ہیں ا ور جانبِ ترك دو۔ چہارم فــــ۵ میں جانبِ فعل پانچ ہیں اور جانب ترك تین۔ پھر
فــــ۱ : تطفل علی المشہور۔ فــــ ۲ : تطفل اٰ خرعلیہ ۔ فــــ۳ : معروضتان علی مسلم الثبوت ۔
فــــ ۴ : تطفل علی التوضیح والمولٰی خسرو ۔ فــــ ۵ : تطفل علی الشمس الفناری ۔
جانب ترك بسط فــــ۱ اقسام کرکے تصحیح مقابلہ کیجئے تو اُسی مقابلہ نفل وکراہت سے چارہ نہیں مگر بتوفیق الله تعالٰی تحقیق فقیر سب خللوں سے پاك ہے ، اُس نے ظاہر کیا کہ بلکہ احکام گیارہ ہیں پانچ جانبِ فعل میں متنازلًا فرض۵واجب۴ سنّت مؤکدہ ۳ غیرمؤکدہ ۲مستحب۱ اور پانچ جانبِ ترك میں متصاعدًا خلاف۱ اولی ۲مکروہ تنزیہی ۳ اساءت۴مکروہ تحریمی ۵حرام جن میں میزان مقابلہ اپنے کمال اعتدال پر ہے کہ ہر ایك اپنے نظیر کا مقابل ہے اور سب کے بیچ میں گیارھواں مباح خالص۔ اس تقریر منیر کو حفظ کرلیجئے کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گی اورہزار ہا مسائل میں کام دے گی اور صد ہا عقدوں کو حل کرے گی کلمات اس کے موافق مخالف سب طرح کے ملیں گے مگر بحمدالله تعالٰی اس سے متجاوز نہیں فقیر طمع رکھتا ہے کہ اگر حضور سیدنا امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حضور یہ تقریر عرض کی جاتی ضرور ارشاد فرماتے کہ یہ عطر مذہب وطراز ومُذَہَّب ہے والحمدلله ربّ العٰلمین۔ اس تحقیق انیق کے بعد قول سوم ہرگز دوم کی طرف راجع ہوکر منتفی نہیں بلکہ وہی من حیث الروایۃ سب سے اقوی ہے کہ خاص نص ظاہر الروایۃ کا مقتضی ہے۔
تنبیہ : (۴) علامہ عمر نے جبکہ قول چہارم اختیار فرمایا امام اجل قاضی خان وغیرہ کا ترك اسراف کو سنّت فرمانا بھی اسی طرف راجع کرنا چاہا کہ سنّت سے مراد مؤکدہ ہے اور اُس کا ترك مکروہ تحریمی۔
اقول : اقوال بعض متاخرین میں فــــ۲ اُس کی تائیدوں کا پتا چلے گا ۔ بحرالرائق فــــ۳ آخر مکروہات الصلوٰۃ پھر ردالمحتار میں ہے :
السنۃ اذا کانت مؤکدۃ قویۃ لایبعد ان یکون ترکہا مکروھا کراھۃ تحریم کترك الواجب [3]۔
سنّت جب مؤکدہ قوی ہو تو بعید نہیں کہ اس کا ترك واجب کی طرح مکروہ تحریمی ہو۔ (ت)
ابو السعود علی مسکین پھر طحطاوی علی الدرالمختار صدر مکروہاتِ نماز میں ہے :
الفعل اذا کان واجبا اومافی حکمہ
فعل جب واجب ہو یا واجب کے حکم
فــــ ۱ : تطفل اٰ خرعلی ھٰؤلاء الثلثۃ ۔
فــــ ۲ : تطفل علی النہر ۔
فــــ۳ : مسئلہ : سنت مؤکدہ کا ترك ایك آدھ بار مورث عتاب ہے مگر گناہ نہیں ہاں ترك کی عادت کرے تو گناہ گار ہوگا اور اس بارے میں دفع اوہام وتوفیق اقوال علماء کرام ۔
من سنۃ الھدٰی ونحوھا فالترك یکرہ تحریما وان کانت سنۃ زائدۃ اومافی حکمہا من الادب ونحوہ یکرہ تنزیھا [4] اھ
اقول اوّلا تبعا القھستانی فــــ۱ فانہ ذکرہ ثمہ ولم ینقلہ عن احد بل زعم ان کلامھم یدل علیہ فما کان للسید الازھری ان یسوقہ مساق المنقول۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع