30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـــــ : مسئلہ : وضو میں کلی یا ناك میں پانی ڈالنے کا ترك مکروہ ہے اور اس کی عادت ڈالے توگناہگارہوگایہ مسئلہ وہ لوگ خوب یاد رکھیں کہ جو کلیاں ایسی نہیں کرتے کہ حلق تك ہر چیز کو دھوئیں اور وہ کہ پانی جن کی ناك کو چھو جاتا ہے سونگھ کر اوپر نہیں چڑھاتے یہ سب لوگ گنہگا ر ہیں اور غسل میں ایسا نہ ہو تو سرے سے غسل نہ ہوگا نہ نماز۔
والزوائد وتارکھا لایستوجب اساء ۃ [1]۔
(۲) سنّتِ زائدہ ، اس کا تارك اسا ءت کا مستحق نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار فــــــ صدر سنن الوضوء میں ہے :
مطلق السنۃ شامل لقسمیہا وھما السنۃ المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الھدی وغیر المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الزوائد [2]۔
مطلق لفظ سنّت دونوں قسموں کو شامل ہے دونوں قسمیں یہ ہیں : (۱) سنّتِ مؤکدہ جس کا نا م سنّتِ ہدٰی ہے (۲) سنت غیرمؤکدہ جس کانا م سنّتِ زائدہ ہے ۔ ت
بحرالرائق سنن نماز مسئلہ رفع یدین للتحریمہ میں ہے :
انہ من سنن الھدی فھو سنۃ مؤکدۃ[3]۔
وہ سنن ہدٰی سے ہے تو وہ سنّتِ مؤکدہ ہے۔ (ت)
(۳) کراہت تنزیہ نہ مستحب کے مقابل ہے نہ سنّتِ مؤکدہ کے ، بلکہ سنّتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے ، اُسے مستحب کے مقابل کہنا خلافِ تحقیق ہے اور مطلق سنّت کے مقابل بتانا اعم ہے جبکہ اُسے اساء ت کو بھی شامل کرلیا جائے جس طرح کبھی اسا ء ت کو اعم لے کر سنّتِ زائدہ کے مقابل بولتے ہیں جس طرح اطلاق موسع میں خلافِ اولی کو مکر وہ تنزیہی کہہ دیتے ہیں ۔
(۴) خلاف اولی مستحب کا مقابل ہے اور معنی خاص پر مکروہ تنزیہی سے بالکل جدا بمعنی اعم اُسے بھی شامل اور کراہت تنزیہ کا اُس کی طرف مرجع ہونا اسی معنی پر ہے۔ بحر کے اشکال مذکور یشکل علیہ ما قالوہ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی[4] (اس پر علماء کے اس قول سے اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس کا مرجع خلاف اولٰی ہے۔ ت) منحۃ الخالق میں فرمایا :
الکراھۃ لابدلھا من دلیل خاص
کراہت کیلئے دلیل خاص ضروری ہے ۔ اسی سے
فـــــ : سنت ہدی سنت مؤکدہ کا نام ہے اور سنت زائدہ سنت غیر مؤکدہ کا ۔
وبذلك یندفع الاشکال لان المکروہ تنزیھا الذی ثبتت کراھتہ بالدلیل یکون خلاف الاولی ولا یلزم من کون الشیئ خلاف الاولی ان یکون مکروھا تنزیھا مالم یوجد دلیل الکراھۃ [5]۔
اشکال دفع ہوجاتا ہے اس لئے کہ مکروہ تنزیہی جس کی کراہت دلیل سے ثابت ہے وہ خلاف اولٰی ہے اور کسی شے کے خلاف اولٰی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ وہ مکروہ تنزیہی ہو جب تك کہ دلیل کراہت دستیاب نہ ہو۔ ( ت)
(۵) کراہت کیلئے اگرچہ تنزیہی ہو ضرور دلیل کی حاجت ہے
کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ وغیرھا وبیناہ فی رشاقۃ الکلام
(جیسا کہ اس پر حدیقۃ الندیہ وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور ہم نے اس کواس کو رسالہ رشاقۃ الکلام میں بیان کیا ہے۔ ت)
اقول : خلافِ سنت فــــ ہونا خود کراہت پر دلیل شرعی ہے۔
لقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منی[6] رواہ الشیخان عن انس
ولا بن ماجۃ عن ام المؤمنین رضی الله تعالٰی عنہا فمن لم یعمل بسنتی فلیس منی[7]
فما مر عن العلامۃ الشامی من انھا قد یعرف بلا دلیل خاص کان تضمن ترك
کیونکہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے جو میری سنّت سے روگردانی کرے وہ مجھ سے نہیں ، اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس سے روایت کیا۔
اور ام المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ابن ماجہ کی روایت میں ہے جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ۔
تو و ہ کلام جوعلامہ شامی سے نقل ہوا مناسب نہیں (وہ کہتے ہیں )کراہت کی معرفت کبھی دلیل خاص کے بغیر ہوتی ہے جیسے یہ کہ وہ کسی
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
واجباو سنۃ [8] لیس کما ینبغی ولا نعنی بالخاص خصوص النص فی الجزئی المعین اذلا حاجۃ الیہ قطعا لصحۃ الاحتجاج بالعمومات والقواعد الشرعیۃ الکلیۃ قطعا۔
واجب یا سنت کے ترك پر مشتمل ہو “ دلیل خاص سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اس معینہ جزئیہ میں کوئی خاص نص ہو اس لئے کہ اس کی حاجت قطعا نہیں کیونکہ شریعت کے عمومی احکام اور قوائد کلیہ سے بھی استدلال بلاشبہ درست ہے۔
(۶) یہ نفیس فــــ۱ جلیل تفرقے مقتضائے تقسیم عقلی واقتضائے نفس لفظ کراہت وقضیہ تفرقہ احکام ہیں نہ کہ نری اصطلاح اختیاری کہ جس کا جو چاہا نام رکھ لیا ،
کما قالہ المحقق فی الحلیۃ ان ھذا امر یرجع الی الاصطلاح والتزامہ لیس بلازم [9] اھ
[1] اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹
[2] ردا لمحتارکتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۱
[3] البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۰۲
[4] البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۲
[5] منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع