دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

کے ثبوت کو مستلزم ہو۔ دیکھومباح سے دونوں مرتفع ہیں تو ترك مستحب مطلقامستلزم کراہت کیوں ہوا ۔

ثانیًا اقول : اگر ترك مستحب موجب کراہت ہو تو آدمی جس وقت خالی بیٹھا ہو اور کوئی مطالبہ شرعیہ اس وقت اس پر لازم نہ ہو لازم کہ اس وقت لاکھوں مکروہ کا مرتکب ٹھہرے کہ مندوبات بے شمار ہیں اور وہ اس وقت ان سب کا تارک۔  

ثالثًا   اقو ل : کراہت کا لفظ ہی بتارہاہے کہ وہ مقابل سنت نہ مقابل مندوب جو بندہ ہو کر بلا وجہ وجیہ ایسی چیز کا ارتکاب کرے جسے اس کا مولٰی مکروہ رکھتا ہے وہ کسی ملامت و سرزنش کا بھی مستحق نہ ہو تو مولٰی کے نزدیك مکروہ ہونے کا کیا اثر ہوا اور جب فعل پرسرزنش چاہئے تواس کا مرتبہ جانب ترك میں وہی ہوا جو جانب فعل میں سنت کاہے کہ اس کے تر ك پر ملامت ہے نہ کہ مندوب کا جس کے ترك پر کچھ نہیں ، ظاہر ہے کہ کراہت کچھ ہے کی مقتضی ہے اورترك مستحب پر کچھ نہیں ، اور کچھ نہیں کچھ ہے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔

رابعًا اقول : وبالله التوفیق تحقیق بالغ وتنمیق بازغ یہ ہے کہ فعل مطلوب شرعی کاترك نادرًاہوگا یا عادۃً ، اور ہر ایك پر سزاکا استحقاق ہوگا یا سرزنش کا ، یا کچھ نہیں تو دونوں ترك تین قسم ہوئے ہیں ، اور تین کو تین میں ضرب دئیے سے نو قسمیں عقلی پیدا ہوئیں ان میں تین بداہۃًباطل ہیں : ۱ترك عادی پر کچھ نہ ہو اور نادر پر عذاب یا عتاب۲ ، سوم۳ترك عادی پر عتاب اور نادر پر عقاب۔ اور دو قسمیں شرعًا وجود نہیں رکھتیں ترك عادی پر عقاب یا عتاب اور نادر پر کچھ نہیں کہ شرعًا مستحب کے ترك نادر پر کچھ نہیں تو عادی پر بھی کچھ نہیں اور سنّت کے ترك عادی پر عتاب ہے تو نادر پر بھی ہے کہ وہ حکم سنّت ہے اور حکم شے کو شے سے انفکاك نہیں ۔ اصول امام فخرالاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے :

حکم السنۃ ان یطالب المرء باقامتھا من غیر افتراض ولا وجوب لانھا طریقۃ امرنا باحیائھا فیستحق اللائمۃ بترکہا [1]۔

سنت کا حکم یہ ہے کہ آدمی سے اسے قائم کرنے کا مطالبہ ہو بغیر اس کے کہ اس پر فرض یا واجب ہو ۔ کیونکہ یہ ایسا طریقہ ہے جسے زندہ کرنے کاہمیں حکم دیا گیا تو اس کے ترك پر ملامت کا مستحق ہوگا ۔ (ت)

لا جرم چار قسمیں رہیں :

(۱) ترك عادی ہونا یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت فرض ورنہ واجب ہے۔

(۲) عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب۔ یہ سنت مؤکدہ ہے کہ اگر نادر پر بھی عذاب ہو تو اُس میں اورواجب میں فرق نہ رہے گا اور عادی پر بھی عتاب ہی ہو تو اُس میں اور سنت مؤکدہ میں تفاوت نہ ہوگا حالانکہ وہ ان دونوں میں برزخ ہے۔

(۳) عادی ہو یا نادر مطلقا مورث عتاب ہو۔ یہ سنتِ زائدہ ہے۔
(
۴) مطلقا عذاب وعتاب کچھ نہ ہو۔ یہ مستحب ومندوب وادب ہے۔

پھر ازا نجا کہ فعل وترك میں تقابل ہے بغرض تعادل واجب ہے کہ ایسی ہی چار قسمیں جانب ترك نکلیں یعنی جس کا ترك مطلوب ہے :

(۱) اس کا فعل عادی ہو یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت حرام ورنہ مکروہ تحریمی ہے۔

(۲)فعل عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب یہ اساء ت ہے جس کی نسبت علماء نے تحقیق فرمائی کہ کراہت تنزیہی سے افحش اور تحریمی سے اخف ہے۔

(۳) مطلقا مورث عتاب ہی ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔
(
۴) مطلقا کچھ نہ ہو یہ خلافِ اولٰی ہے۔
تنویر : اس تقریر منیر سے چند جلیل فائدے متجلی ہوئے :
(
۱) سنتِ مؤکدہ کا ترك مطلقا گناہ نہیں بلکہ اُس کے ترك کی عادت گناہ ہے۔
(
۲) اساء ت کے بارے میں اگرچہ کلماتِ علماء مضطرب ہیں کوئی اسے کراہت سے کم کہتا ہے۔

کما فی الدر[2] صدر سنن الصلاۃ وبہ نص الامام عبدالعزیز فی الکشف وفی التحقیق۔

جیسا کہ درمختار میں سنن نماز کے شروع میں ہے اور امام عبد العزیز بخاری نے کشف میں اور تحقیق میں اسی کی تصریح کی ہے۔ (ت)

کوئی زائد ، کما فی الشامی [3]عن شرح المنار للزین (جیسا کہ شامی میں محقق زین بن نجیم کی شرح منار سے نقل ہے  ۔ ت) کوئی مساوی کما فی الطحطاوی [4]ثمہ وفی ادراك الفریضۃ عن الحلبی شارح الدر (جیسا کہ طحطاوی نے سنن نمازاور باب ادراك الفریضہ میں حلبی شارح دُر مختار نقل ہے ۔ ت) مگر عندالتحقیق اُس کا مقابل سنتِ مؤکدہ ہونا چاہئے کہ جس طرح سنتِ مؤکدہ واجب وسنت زائدہ میں برزخ ہے یوں ہی اساء ت کراہت تحریم وکراہت تنزیہ میں کما فی الشامی[5] (جیسا کہ شامی میں ہے۔ ت)عٰلمگیریہ فـــــ میں سراج وہاج سے ہے :

ان ترك المضمضۃ والاستنشاق اثم علی الصحیح لانھا من سنن الھدی وترکھا یوجب الاساء ۃ بخلاف السنن الزوائد فان ترکھا لا یوجب الا ساء ۃ [6] اھ

اقول : قولہ اثم ای ان اعتاد کما ھو معروف فی محلہ فیہ وفی نظائرہ۔

اگرمضمضہ واستنشاق کا تارك ہو تو بر قول صحیح گنہگار ہوگا اس لیے کہ یہ سنن ہدٰی سے ہے اور ان کا ترك موجب اساء ت ہے بخلاف سنن زوائد کے کہ ان کا ترك موجبِ اساء ت نہیں اھ۔ ت

اقول : قول مذکور “ گنہگار ہوگا “ یعنی اگر ترك کا عادی ہو جیسا کہ یہ معنی اپنی جگہ اس بارے میں اور اس کی نظیروں میں معروف ہے ۔ (ت)

اصول امام فخر الاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے :

والسنن نوعان سنۃ الھدی وتارکھا یستوجب اساء ۃ وکراھیۃ

سنت کی دو قسمیں ہیں ، (۱) سنّت ہدٰی ، اس کا تارك اسا ء ت وکراہت کا مستحق ہے

 



[1]   اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ1نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹

[2]   الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۷۳

[3]   ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۱۸

[4]   حاشیۃ الطحطاوی علی الد ر المختار کتاب الصلوٰ ۃ باب صفۃ الصلوٰۃ المکتبۃ ا لعربیہ کوئٹہ ۱ / ۲۱۳

[5]   ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۱۹

[6]   الفتاو ی الہندیہ بحوالہ السراج الوہاج کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶ ، ۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن