دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

والدلك عندنا سنۃ[1]

اعضاء کو ملنا ہمارے نزدیك سنّت ہے۔ (ت)

رہا اعضا ء فــــ۱ میں حدودِ شرعیہ سے اتنا تجاوز جس سے یقین ہوجائے کہ حدود فرض کا استیعاب ہو لیا۔

اقول : اگر یقین فــــ۲سے یقین فقہی مراد ہو جیسا کہ کتبِ فقہیہ میں وہی متبادر ہے تو یہ ادب وسنت درکنار خود واجب ولابدی ہے ، ہاں یقین کلامی مراد ہو تو ادب کہنا عجب نہیں

ھذا وقدنبہ من ھٰذہ الافعال الاربعۃ علی سنیۃ الاخیرین فی البحر ۔

اقول :  والعجب فــــ۳ ترك الاولین مع نقلہ ایاھما ایضا عن الفتح فالسکوت یکون اشد ایھامامما لولم یاثرھما ولا شك ان الثانی مثل الرابع الذی استند فیہ البحر الی ان الخلاصۃ جعلہ سنۃ فکذلك نص فیھا علی سنیۃ الثانی ایضا اما فــــ۴  الاول فاھم الکل واحقہا بالتنبیہ والبحر نفسہ صرح فی الاستنجاء      

یہ ذہن نشین رہے ، ان چار افعال میں سے آخری دو کے مسنون ہونے پر بحر میں تنبیہ کردی ۔ (ت)

اقول : اور تعجب ہے کہ پہلے دونوں کوترك کر دیا حالانکہ ان دونوں کو بھی فتح القدیر سے نقل کیا ہے اس لیے یہاں سکوت اس صورت سے زیادہ ایہام خیز ہے جبکہ ان دونوں کو نقل ہی نہ کیا ہوتااورچہارم (اعضا ء کو ملنا ) سے متعلق تو بحر نے خلاصہ کی سند پیش کی کہ اس میں اسے سنت قرار دیا ہے جبکہ بلاشبہ دوم (انگشتری کوحرکت دینا) بھی اسی کی طرح ہے کہ اس سے متعلق بھی خلاصہ میں مسنون ہونے کی تصریح ہے ، رہا اول (جس انگشتری

فــــ۱ :  اعضاء وضو دھونے میں حدشرعی سے اتنی خفیف تحریر بڑھانا جس سے حد شرعی تك استیعاب میں شبہہ نہ رہے واجب ہے ۔  

فــــ ۲  :  تطفل ما علی الفتح ۔                      فــــ ۳ :  تطفل علی البحر۔                                   فـــــ۴  :  تطفل اخر علیہ ۔

بما سمعت ولکن جل من لا یغیب عن علمہ شیئ قط۔

پر خدا ورسول کا نام ہو اسے اتار لینا ) تو وہ سب سے اہم اور سب سے زیادہ مستحق تنبیہ ہے اورخودبحر نے بیان استنجا میں وہ تصریح کی ہے جو پیش ہوئی لیکن بزرگ ہے وہ جس کے علم سے کوئی شے کسی وقت اوجھل نہیں ہوتی ۔ (ت)

یہاں سے واضح ہوا کہ محقق کا اس عبارت میں ترك اسراف (ادب)شمار فرمانا نفی کراہت پر حاکم نہیں ۔

اقول :  وکان من فـــــ۱ احسن الاعذار عن المحقق رحمہ الله تعالی انہ تجوز فاطلق الادب علی مایعم السنن لکنہ ھھنا قدمیز السنن من الاداب کما میز فی الخلاصۃ واخذ فـــــ۲ علی الکتاب فی جعلہ التیا من واستیعاب الرأس بالمسح مستحبین وقال بعد اقامۃ الدلیل فالحق عــــہ ان الکل سنۃ ومسح الرقبۃ مستحب [2]اھ ثم قال و من                                                                                                                                                                                                                                                             

اقول : محقق کی جانب سے بہتر عذر یہ تھا کہ انہوں نے مجازالفظ ادب کا اطلاق اس پر کیا ہے جو سنتوں کو بھی شامل ہو لیکن انہوں نے یہاں سُنتوں کوآداب سے الگ رکھا ہے جیسے خلاصہ میں الگ الگ رکھا ہے ، اور حضرت محقق نے کتاب (ہدایہ) پر داہنے سے شروع کرنے اور مسح کے پورے سر کے احاطہ کو مستحب قرار دینے پر گرفت کی ہے اوردلیل قائم کرنے کے بعد لکھا ہے : تو حق یہ ہے کہ سب سنت ہے اور گردن کا مسح مستحب ہے ۔ اھ پھر

فـــــ۱ : تطفل علی الفتح۔

فـــــ۲ مسئلہ : وضومیں ہاتھ اور یوں ہی پاوں بائیں سے پہلے داہنا دھونا یعنی سیدھے سے ابتدا کرنا سنت ہے اگر چہ بہت کتب میں اسے مستحب لکھا ۔

عـــــہ :  تبعہ علی الاول فی البرھان ثم الشرنبلالی وغیرھما وعلی الثانی من لایحصی اھ منہ

عــــہ : اول پر حضرت محقق کا اتبا ع برہان پھر شرنبلالی وغیرہما میں ہے اور ثانی پر بے شمار لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اھ منہ (ت)

النسننفـــــ۱ الترتیب بین المضمضۃ و الاشتنشاق (وعد اشیاء ثم قال)الآداب ترك الاسراف و المقتر [3] الخ فسیا کلامہ رحمہ الله تعالٰی ینفی العذر المذکور و الله تعالٰی اعلم۔                                                                                                                                                                                                                                                    

لکھا ہے : اور سنتوں میں سےمضمضہ و استنشاق کے درمیان ترتیب ہے اور کچھ دوسری چیزیں شمار کیں پھر لکھا : آداب : ترك اسراف وتقتیر الخ۔ تو  حضرت محقق رحمہ الله تعالیٰ کا سیاق ، عذر مذکور کی نفی کردیتا ہے۔ والله تعالٰی اعلم(ت)

ثالثًا اقو ل : عبارت فـــــ۲بدائع میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امام ملك العلماء رحمہم الله تعالی نے ترك اسراف کو صرف ادب ہی نہ فرمایا بلکہ حق بتایا تو اسراف خلاف حق ہوا باطل ہوا اور اس کاادنی درجہ کراہت فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ- [4](پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔ ت) بلکہ اسراف کو غلو کہا اور دین میں غلو ممنوع ، لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ [5](اپنے دین میں زیادتی نہ کرو ۔ ت)

رابعًا اقول : ان تمام تا ئیدات فـــــ۳کے بعد بھی نہر و ردالمحتار کا مطلب کہ قو ل سوم اور دوم کی طرف راجع کرنا ہے تمام نہیں ہوتا۔ مانا کہ بدائع وفتح کی عبارات نفی نہ کریں مانا کہ فتح کی رائے میں ترك ادب بھی مکروہ ہو مگرنص امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا کیا جواب ہے جس میں اس کے ادب ہونے کی تصریح فرمائی اور مستحبات محضہ کے ساتھ اس کی گنتی آئی ، اب اگر تحقیق یہ ہے کہ ترك مندوب مکروہ نہیں تو ضرور کلام امام کہ امام کلام ہے نفی کراہت کا اشعار فرمائے گا اس بارہ میں کلمات علماء کا اختلاف و اضطراب سن چکے۔

وانا اقول وبا لله التوفیق اولا  فـــــ۴ حب وکراہت میں میں تناقض نہیں کہ ایك کا رفع دوسرے

مسئلہ : جہاں اور اعضاء میں ترتیب سنت ہے کہ پہلےم نہ دھوئے پھر ہاتھ پھر سرکا مسح پھرکہ پہلے  پاؤں دھونا ، یونہی مضمضہ و استنشاق میں بھی۔ یعنی سنت ہے کہ پہلے کلی کرے اس کے بعد ناك میں پانی ڈالے۔

فـــــ ۲ : تطفل علی الحلیۃ۔

فــــــ۳ : تطفل علی النہر وش۔

فــــــ۴ : فائدہ جلیلہ : دربارہ مکروہ تنزیہی وتحریمی واساء ت وخلاف اولٰی مصنف کی تحقیق نفیس فوائدکثیرہ پر مشتمل اور واجب و سنت مؤکدہ وغیر مؤکدہ کے فرق احکام ۔

 



[1]   خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارات الفصل الثالث جنس آخرفی سنن الوضو مکتبہ حبیبیہ کو ئٹہ۱ / ۲۲

[2]      فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۱

[3]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن