دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اور ثانی مکروہ تنزیہی اھ۔ اور مکروہاتِ نمازکے آخرمیں رجوع کیا اس طرح کہ مذکورہ بالاعبارت کے بعدکہا : اوراسی سے ظاہر ہوتاہے کہ ترك مستحب خلافِ اولٰی کی طرف راجع ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں مگر یہ کہ خاص نہی ہواس لئے کہ کراہت ایك حکم شرعی ہے تو اس کے لئے کوئی دلیل ضروری ہے۔ اھ۔

فــــ۱  : معروضۃ اخری علیہ ۔                                                                          فـــــ۲  : معروضۃ ثالث علیہ۔  

ثم بعد فـــــ۱ ورقۃ رجع عن ھذا الرجوع فقال فی مسألۃ استقبال النیرین فی الخلاء الظاھر ان الکراھۃ فیہ تنزیہیۃ مالم یرد نھی خاص[1] اھ  

وقال فی فــــ۲ المنحۃ عند قول البحر قد صرحوا بان التفات فــــ۳ البصر یمنۃ ویسرۃ من غیر تحویل الوجہ اصلا غیر مکروہ مطلقا والاولی ترکہ لغیر حاجۃ مانصہ ای فیکون مکروھا تنزیھا کما ھو مرجع خلاف الاولی کما مر عـــــہ۱

و بہ صرح فی النھر وفی الزیلعی وشرح الملتقی للباقانی انہ مباح لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یلاحظ اصحابہ فی صلاتہ بموق عینیہ ولعل المراد عند عدم الحاجۃ عـــــہ۲فلا ینافی                                    

ھر ایك ورق کے بعد بیت الخلا میں سورج اور چاندکے رُخ پر ہونے کے مسئلہ میں اس سے رجوع کیا اورکہا : ظاہر یہ ہے کہ کراہت اس میں تنزیہی ہے جب تك کہ کوئی خاص نہی وارد نہ ہواھ۔ بحر کی عبارت ہے : علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ذرا بھی چہرہ پھیرے بغیر نگاہ سے دائیں بائیں التفات مطلقًا مکروہ نہیں اوراولٰی یہ ہے کہ کوئی حاجت نہ ہو تواس سے بازر ہے۔ اس پر منحۃ الخالق میں لکھا : یعنی ایسی صورت میں یہ مکروہ تنزیہی ہو گا جیسا کہ یہ خلافِ اولٰی کا مآل ہے ۔ جیساکہ

گزرا۔ اور نہر میں بھی اسی کی تصریح کی ہے۔ زیلعی میں اور باقانی کی شر ح ملتقی میں ہے کہ یہ مباح ہے اس لئے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماپنے اصحاب کو نماز میں گوشہ چشم سے ملاحظہ کیاکرتے تھے۔ اور شاید مراد عدم حاجت کی حالت ہے تو یہ اس کے

فـــــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔                                                                        فــــــ۲ : ٢ معروضۃ خامسۃ علیہ۔

فــــــ۳ مسئلہ : نماز میں اگر کن انکھیوں سے بے گردن پھیرے ادھر ادھر دیکھے تو مکروہ نہیں ہاں بے حاجت ہوتو خلاف اولٰی ہے ۔

عــــــہ۱ :  ای فی البحر صدر المکروہات ان المکروہ تنزیہا ومرجعہ الی ما ترکہ اولی [2]اھ منہ

عــــــہ۲   اقول :  لعل لفظۃ عدم وقعت زائدہ من قلم الناسخ فالصواب عدم العدم اھ منہ (م)                                              

عــــہ۱ یعنی بحر کے اندرمکروہات نماز کے شروع میں گزرا کہ مکروہ تنزیہی کا مرجع ترك  اولٰی ہے ۱۲منہ (ت)

عـــــہ۲ اقول : شاید لفظ “ عدم “ کاتب کے قلم سے سہوازائد ہوگیا ہے کیونکہ صحیح عدم عدم ہے(یعنی یہ کہ مراد وقت حاجت ہے ) ۱۲ منہ ۔ (ت)

ماھنا[3] اھ

ثم رجع عما قریب فقال خلاف الاولی اعم من امکروہ تنزیھا دائما بل قد یکون مکروھا ان وجد دلیل الکراھۃ والافلا [4] اھ

اقول : ومن العجب فـــــ۱١ ان البحر کان صرح فی الالتفات بنفی الکراھۃ مطلقا وان الاولی ترکہ لغیر حاجۃ فکان نصافی نفی الکراھۃ رأسا مع کونہ ترك الاولی فی بعض الصور ففسرہ بضدہ اعنی اثبات الکراھۃ لکونہ ترك الاولی مع نقلہ عن الزیلعی والباقانی انہ مباح وظاھرہ الاباحۃ الخالصۃ بدلیل الاستدلال بالحدیث فلم یتذکر ھناك ان خلاف الاولی لایستلزم الکراھۃ  مالم یرد نھی۔                                     

منافی نہیں جویہاں ہے اھ۔ پھرکچھ ہی آگے جاکر اس سے رجوع کرکے کہا : خلافِ اولٰی مکروہ تنزیہی سے اعم ہے اور ترك مستحب ہمیشہ خلافِ اولٰی ہوتا ہے ، ہمیشہ مکروہ تنزیہی نہیں ہوتا بلکہ کبھی مکروہ ہوتا ہے اگردلیل کراہت موجود ہوورنہ نہیں ۔

اقول : اور تعجب یہ ہے کہ بحر نے تصریح کی تھی کہ التفات میں کوئی بھی کراہت نہیں اوراولٰی یہ ہے کہ حاجت نہ ہوتواسے ترك کرے یہ اس بارے میں نص تھا کہ ذرا بھی کراہت نہیں باوجودیکہ یہ بعض صورتوں میں ترك اولٰی ہے۔ علامہ شامی نے اس کی تفسیر اس کی ضد سے کی یعنی چُوں کہ یہ ترك اولٰی ہے اس لئے مکروہ ہے باوجودیکہ زیلعی اور باقانی سے اس کامباح ہونا بھی نقل کیاہے اوراس کا ظاہر یہ ہے کہ مباح خالص ہے جس کی دلیل حدیث سے استدلال ہے توانہیں وہاں یہ یاد نہ رہا کہ خلاف اولٰی کراہت کو مستلزم نہیں جب تك کوئی نہی واردنہ ہو۔

بااینہمہ اس میں شك نہیں کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق کی تصریحات اسی طرف ہیں کہ ترك مستحب بھی مکروہ تنزیہی ہےتو ان کا فـــــ۲ آداب میں گننا نفی کراہت تزیہہ پر کیونکر دلیل ہو خصوصًا اسی بحث کے آخر میں وہ صاف صاف کراہت اسراف کی تصریح بھی فرماچکے۔

حیث قال یکرہ الزیادۃ علی ثلث

ان کے الفاظ یہ ہیں : اعضاء کو تین بار سے

فـــــ۱ :  معرو ضۃ سادسۃ علیہ ۔                                                                فـــــ۲ :  ٢تطفل علی البحر ۔

فی غسل الاعضاء[5]ا ھ

زیادہ دھونا مکروہ ہے اھ۔ (ت)

ثانیا ، اقول : اور خود علامہ صاحب بحر نے بھی اسے اُن سے نقل فرمایا تو اُس حمل پر باعث کیا رہا۔ اس سے قطع نظر بھی ہو تو محقق نے انہیں آداب میں یہ افعال بھی شمار فرمائے ،

نزع خاتم علیہ اسمہ تعالی واسم نبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حال الاستنجاء وتعاھد ما تحت الخاتم وان لایلطم وجہہ بالماء والدلك خصوصا فی الشتاء وتجاوز حدود الوجہ والیدین والرجلین لیستیقن غسلہما [6]۔

استنجاء کے وقت اس انگوٹھی کو اتارلینا جس پر باری تعالٰی کا یا اس کے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکانام ہو۔ اورانگشتری کے نیچے والے حصہ بدن دھونے میں خاص خیال رکھنا۔ چہرے پر پانی کا تھپیڑا نہ مارنا۔ اعضاء کو ملنا خصوصًا جاڑے میں ۔ چہرے ، ہاتھوں اور پیروں کی حدوں سے زیادہ پانی پہنچانا ، تاکہ ان حدوں کے دُھل جانے کا یقین ہوجائے۔ (ت)

 



[1]   ردالمحتار ، کتاب الصلوٰہ ،1با ب یفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن