دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اگر اکثر اعضاء ٹھیك ہوں (مثلًا) اس طرح کہ سر میں زخم ہو اورباقی جسم صحت مند ہو تو سر چھوڑ کر دیگر اعضاء کو دھولے ۔ (ت)

درمختار میں ہے :

صح اقتداء غاسل بماسح ولو علی جبیرۃ ([1])۔

جو اعضاء کو دھونے والا ہے وہ مسح کرنے والے کی اقتداء کرسکتا ہے اگرچہ زخم کی پٹی پر ہی مسح کرنے والا ہو۔ (ت)

اصل فـــ کلی یہ ہے کہ غسل میں اگر بعض جسم پر پانی ڈالنا مضر ہو تو کثرت کا اعتبار ہے ، اگر اکثر جسم وہی ہے جس پر پانی پہنچنا ضرر دے گا خواہ یوں کہ عارضہ خود اُسی جسم میں ہو یا یوں کہ اُس پر پانی ڈالنے سے پانی ایسی جگہ پہنچے گا جہاں پہنچنے سے ضرر ہے تو تیمم کرے اور اگر اکثر جسم سالم ہے تو جس قدر میں مضرت ہے وہاں مسح کرلے باقی پر پانی بہالے۔ درمختار میں ہے :

(تیمم لواکثرہ مجروحا) اوبہ جدری اعتبار اللاکثر (وبعکسہ یغسل) الصحیح ([2])۔

(اگر اکثر جسم میں زخم ہے ) یا اس میں چیچك ہے تو اکثر کا اعتبار کرتے ہوئے ( اسے تیمم کرلیناہے ، اور اس کے برعکس ہو تو دھونا ہے) یہی صحیح ہے ۔ (ت)

فـــ : مسئلہ : جب بدن کے بعض حصہ پر پانی ضرر دیتاہو اور بعض پر نہیں تو اکثر کااعتبار ہے ۔

ردالمحتار میں ہے :

لکن اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح والاتیمم حلیۃ ([3])۔

لیکن جب صحت مند حصے کو اس طرح دھونا ممکن ہوکہ زخمی حصے پر پانی نہ جائے تودھوئے ورنہ تیمم کرے ۔ حلیہ (ت)

ظاہر ہے کہ متن میں لفظ زخم یاشرح میں لفظ خارش کوئی قید نہیں مدار ضرر پر ہے کسی وجہ سے ہو کمالایخفی ھذا(جیساکہ پوشیدہ نہیں یہ ذہن نشین رہے۔ ت)

واعلم ان المدقق العلائی ذکر فی الدرالمختار اٰخر التیمم مانصہ(من بہ وجع راس لایستطیع معہ مسحہ)محدثاولا غسلہ جنباففی الفیض عن غریب الروایۃ تیمم وافتی قارئ الہدایۃ انہ(یسقط) عنہ(فرض مسحہ) وکذا یسقط غسلہ فیمسحہ([4]) اھ ملخصا

قال الشامی وماافتی بہ نقلہ فی البحر عن الجلابی و نظمہ العلامۃ ابن الشحنۃ فی شرحہ علی الوھبانیۃ اھ وقال تحت قولہ وکذا یسقط غسلہ ای غسل الرأس

واضح ہو کہ مدقق علائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے درمختار با ب التیمم کے آخر میں یہ کیاہے [ ہلالین کے درمیان متن تنویر الابصار کے الفاظ ہیں ۱۲م](جس کے سر میں ایسی بیماری ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے مسح نہیں کرسکتا) جب بے وضو ہے۔ اور نہ دھوسکتاہے جب حالت جنابت میں ہے۔ تو فیض میں غریب الروایہ سے نقل ہے کہ وہ تیمم کرے۔ اور قاری ہدایہ نے فتوی دیاکہ ( اس سے فرض مسح ساقط ہے) اور اسی طرح اس کا دھونا ساقط ہے توو ہ مسح کرے گا اھ ملخصًا۔

علامہ شامی نے کہا : قاری ہدایہ نے جو فتوی دیا ہے اسے البحر الرائق میں جلابی سے نقل کیا ہے اور اسی کو علامہ ابن الشحنہ نے وہبانیہ کی شرح میں نظم کیا ہے اھ۔ اور علامہ شامی نے عبارت درمختار “ اسی طرح اس کادھوناساقط ہے “ کے تحت لکھا ہے یعنی جنابت سے سر دھونا

من الجنابۃ([5])اھ

اقول :  فھذا الذی افتی بہ العلامۃ سراج الدین قاری الھدایۃ شیخ المحقق ابن الھمام موافق لما افتی بہ العبد الضعیف وھوالماشی علی الاصل المار الذی تظافرت علیہ کلماتھم جمیعاولم ازل اتعجب ممانقل عن غریب الروایۃ فی مسألۃ الجنابۃ من الامربالتیمم لاجل الضرر فی الرأس وحدہ ثم رأیت منحۃ الخالق فوجدت انہ نقل عن الفیض عن الغریب مافی الدرولصیقابہ ماقدمت من مسألۃ المرأۃ فزدت عجبافان فرع المرأۃ یخالف الفرع الاول صریحا ولذا قال فی الفیض عقیب نقلہ وھو عجیب کما فی المنحۃ([6])ایضا

ثم ان المولی فــــ سبحنہ وتعالی فتح بمااوضح المرام وازاح العجب فان عبارۃ غریب الروایۃ                              ساقط ہے اھ۔ (ت)

اقول : ( میں کہتا ہو ں ) علامہ سراج الدین قاری الہدایہ شیخ محقق ابن الہام نے جو فتوی دیا بندہ ضعیف کے فتوے کے مطابق ہے اور یہی اس قاعدے پر جاری ہے جس پر تمام علماء متفق ہیں اور اُس پر برابر مجھے تعجب رہا جو غریب الروایہ سے فیض میں منقول ہے کہ صرف سر میں ضرر کی وجہ سے تیمم کا حکم ہے پھرمیں نے منحۃ الخالق میں دیکھا کہ بحوالہ فیض غریب الراویہ سے وہی مسئلہ نقل کیا ہے جو درمختار میں ہے اور اس کے بعد بالکل متصل ہی وہ جزئیہ ہے جو عورت سے متعلق میں نے اس فتوے کے شروع میں پیش کیا۔ یہ دیکھ کر مجھے اور زیادہ تعجب ہوا اس لئے کہ جزئیہ عورت ، جزئیہ اول کے صراحۃ مخالف ہے۔ اسی لئے فیض میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا “ یہ عجیب ہے “ جیسا کہ منحۃ الخالق ہی میں ہے۔

پھر مولٰی سبحانہ و تعالٰی نے وہ امر منکشف فرمایا جس نے مقصد واضح کردیا اور تعجب جاتا رہا ۔ اس لئے کہ غریب الراویہ کی اصل عبارت اس

فــــ : توجیہ نفیس لمافی غریب الروایۃ ۔

علی مافی المنحۃ عن الفیض عنہ ھکذا من برأسہ صداع من النزلۃ ویضرہ المسح فی الوضوءاو الغسل فی الجنابۃ یتیمم والمرأۃ لوضرھا([7])الخ فتحدس فی خاطری ولله الحمدان الغسل ھھنا بضم الفاء دون فتحہافلیس فـــــ المراد غسل الرأس کما اوھمہ عبارۃ الدر بل المعنی ضرہ الغسل واسالۃ الماء علی بدنہ ولو بترك الرأس لماتصعد بہ الابخرۃ الی الدماغ فیزداد بہ ضررافی بعض الصورکماعلم فی الطب وھذاحکم صحیح لاغبار علیہ ولاخلاف فیہ للاصل السابق ولا للفرع اللاحق وانماخص المرأۃ بالذکرلیعلم حکم الرجل بالاولی فانہ اذاامر بمسح الشعرالنازل الذی لایکون ضررغسلہ کضررغسلہ نفس الرأس فنفسہ اجدر بالحکم ھذاکلہ بالغسل واماالوضوء فمن المعلوم ان من بلغ بہ النزلۃ مبلغا یضرہ مسح ربع                        

 



[1]   الدرالمختار کتا ب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵

[2]   الدرالمختار کتاب الطہارۃ (آخر باب التمیم) مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵

[3]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ (آخر باب التیمم) داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۷۱

[4]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ (آخر باب التیمم)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن