دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

قال فی المنحۃ قال فی النھر لانسلم ان ترك المندوب غیر مکروہ تنزیھا لما فی فتح القدیر من الجنائز والشہادات ان مرجع کراھۃ التنزیہ خلاف الاولی ولا شك ان تارك المندوب اٰت بخلاف  الاولٰی[1]۔  اھ

منحۃ الخالق میں ہے نہر میں کہا : ہم اسے نہیں مانتے کہ ترك مندوب ، مکروہ تنزیہی نہیں اسلئے کہ فتح القدیر میں جنائز اورکتاب الشہادات میں لکھا ہے کہ کراہت تنزیہ کامآل خلافِ اولٰی ہے اور مندوب کوترك کرنے والا بلاشبہ خلافِ اولٰی کا مرتکب ہے اھ۔ (ت)

یہی جواب کلام بدائع پر محقق حلبی کی تقریر سے ہوگا۔ علّامہ شامی نے یہاں اُسے مقرر رکھا اور ردالمحتار میں صراحۃً اس کا اتباع کیا

حیث قال مامشی علیہ فی الفتح والبدائع وغیرھما من جعل ترکہ مندوبا فیکرہ تنزیھا [2] اھ

(اس طرح کہ وہ لکھتے ہیں : جس پرفتح ، بدائع وغیرہما میں گئے ہیں وہ یہ ہے کہ ترك اسراف کو مندوب قراردیاہے تووہ اسراف تنزیہی ہوگا اھ۔ (ت)

اقول : وبالله استعین ( میں الله سے مدد طلب کرتا ہوں ) اولا : فـــــ یہ معلوم کیجئے کہ مکروہ تنزیہی کی تحدید میں کلمات علما ء مختلف بھی ہیں اور مضطرب بھی ، فتح القدیر کی طرح نہ ایك کتاب بلکہ بکثرت کتب میں ہے کہ کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی ہے اس طور پر ہر مستحب کا ترك بھی مکروہ تنزیہی ہونا چاہئے۔ درمختار آخر مکروہاتِ نماز میں ہے :

یکرہ ترك کل سنۃ ومستحب [3]

ہر سنت اور مستحب کا ترك مکروہ ہے۔ (ت)

فــــــ : مکروہ تنزیہی کی تحدید میں علماء کا اختلاف اورعبارات میں اضطراب۔

اور بہت محققین کراہت کیلئے دلیل خاص یا صیغہ نہی کی حاجت جانتے ہیں یعنی جبکہ فعل سے باز رہنے کی طلب غیر حتمی پر دال ہو۔

اقول :  ولو قطعی فـــــ۱ الثبوت فان المدار علی ما ذکرنا من حال الطلب کما قدمنا تحقیقہ فی الجود الحلووان قال فی الحلیۃ من صدر الکتاب المنہی خلاف المامور فان کان النھی المتعلق بہ قطعی الثبوت والدلالۃ فحرام وان کان ظنی الثبوت دون الدلالۃ اوبالعکس فمکروہ تحریما وان کان ظنی الثبوت والدلالۃ فمکروہ تنزیہا [4]اھ                                                                                                                                                                                                                                                                

اقول : اگرچہ دلیل قطعی الثبوت ہواس لئے کہ مداراسی پر ہے جسے ہم نے ذکرکیا یعنی یہ کہ طلب کاحال کیا ہے حتمی ہے یا غیر حتمی ، جیساکہ اس کی تحقیق الجَود الحَلُو میں ہم کر چکے ۔ اگرچہ حلیہ کے اندر شروع کتاب میں یہ لکھا ہے : منہی ، مامور کامخالف ہے۔ اگراس سے تعلق رکھنے والی نہی ثبوت اور دلالت میں قطعی ہوتووہ حرام ہے۔ اور اگرثبوت میں ظنی ہودلالت میں نہیں ، یا برعکس صورت ہوتومکروہِ تحریمی ہے۔ اوراگر ثبوت ودلالت میں ظنی ہوتومکروہ  تنزیہی ہے اھ۔ (ت)

اور شك نہیں کہ اس تقدیر پر ترك مستحب مکروہ نہ ہوگا ، مجمع الانہر باب الاذان میں ہے :

لاکراھۃ فی ترك المندوب [5]

(ترك مندوب میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)

اضطراب یہ کہ جن صاحب فـــــ٢ فتح قدس سرہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ خلاف اولٰی مکروہ تنزیہی ہے اور اوقاتِ مکروھہ نماز میں فرمایا کہ جانب ترك میں مکروہ تنزیہی جانب فعل میں مندوب کے رتبہ میں ہے

حیث قال التحریم فی مقابلۃ الفرض فی الرتبۃ وکراھۃ التحریم فی رتبۃ الواجب والتنزیہ برتبہ المندوب [6]

(ان کے الفاظ یہ ہیں : تحریم رتبہ میں فرض کے مقابل ہے اورکراہت تحریم رتبہ میں واجب کے مقابل اورکراہت تنزیہ مندوب کے رتبہ میں ہے۔ (ت)

فـــــ۱  : تطفل علی الحلیۃ۔                                      فــــــ۲ تطفل ما علی الفتح ۔

اُنہی نے تحریر الاصول میں تحریر فرمایا کہ مکروہ تنزیہی وہ ہے جس میں صیغہ نہی وارد ہوا جس میں نہی نہیں وہ خلاف اولی ہے اور کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی کی طرف ہونا ایك اطلاق موسع کی بنا پر ہے

حیث قال فی الباب الاول من المقالۃ الثانیۃ من التحریر مسألۃ اطلاق المامور بہ علی المندوب مانصہ “ المکروہ منھی ای اصطلاحا حقیقۃ مجاز لغۃ والمراد تنزیھا ویطلق علی الحرام وخلاف الاولی مما لاصیغۃ فیہ والا فالتنزیھیۃ مرجعہا الیہ[7]۔                    

اس طرح کہ تحریر الاصول مقالہ دوم کے با ب اول مسألہ اطلاق الماموربہ علی المندوب کے تحت لکھا : مکروہ اصطلاح میں حقیقۃً منہی ہے اور لغت میں مجازًا۔ ۔ ۔ اورمکروہ سے مراد تنزیہی ہے اور اس کا اطلاق حرام پر بھی ہوتاہے اور اس خلافِ اولٰی پربھی جس سے متعلق صیغہ نہی وارد نہیں ورنہ کراہت تنزیہ کامرجع وہی ہے (جس میں صیغہ نہی وارد ہو)۔ (ت)

جس حلیہ فـــــ۱ میں یہ فرمایا کہ : علی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ [8](اسراف کو خلاف ادب ٹھہرانے والے قول پر اصراف مکروہ نہ ہوگا (ت)اُسی کے صدر میں ہے

المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان [9]

مکروہ تنزیہی کا مرجع خلاف اولٰی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ (ت)

جس غنیہ فـــــ۲ کے اوقات میں باتباع فتح تصریح فرمائی کہ التنزیھیۃ مقابلۃ المندوب [10](کراہت تنزیہیہ بمقابلہ مندوب ہے۔ ت)اُسی کے مکروہات صلوٰۃ میں فرمایا :

الفعل ان تضمن ترك واجب فھو مکروہ کراھۃ تحریم وان تضمن ترك سنۃ فھو مکروہ

 



[1]   منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱ / ۲۹

[2]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الاسراف فی الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۰                       

[3]   الدر المختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکر ہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۹۳

[4]   حلیۃ ا لمحلی شرح منیۃ المصلی

[5]   مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ، کتاب الصلوۃ باب الاذان دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۵

[6]   فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت فصل فی اوقات المکروھۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۲

[7]   التحریر فی الاصول الفقہ المقا لۃ الثا نیۃ البا ب الاول مصطفی البابی مصر ص۲۵۷۔ ۲۵۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن