دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

فـــــ : تاریخ وفات حضرت امام ابراہیم نخعی وعمر بن عبد العزیز  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔

رسالہ

برکات السماء فی حکم اسراف الماء

(بے جا پانی خرچ کرنے کے حکم کے بار ے میں آسمانی برکات )

امر پنجم : طہارت فــــ  میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنا کیا حکم رکھتا ہے۔  

اقول : ملاحظہ کلمات علما ء سے اس میں چار قول معلوم ہوتے ہیں ، ان میں قوی تر دو ہیں اور فضلِ الٰہی سے امید ہے کہ بعد تحقیق وحصول توفیق اختلاف ہی نہ رہے وبالله التوفیق۔

(۱) مطلقًا حرام وناجائز ہے حتی کہ اگر نہر جاری میں وضو کرے یا نہائے اُس وقت بھی بلاوجہ صرف گناہ وناروا ہے یہ قول بعض شافعیہ کا ہے جسے خود شیخ مذہب شافعی سیدنا امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں نقل فرماکر ضعیف کردیا اور اسی طرح دیگر محققین شافعیہ نے اُس کی تضعیف کی۔

(۲) مکروہ ہے اگرچہ نہر جاری پر ہو اور کراہت صرف تنز یہی ہے۔ اگرچہ گھر میں ہو یعنی گناہ نہیں صرف خلاف سنت ہے حلیہ وبحرالرائق میں اسی کو اوجہ اور امام نووی نے اظہر اور بعض دیگر ائمہ شافعیہ نے صحیح کہا اور حکم آب جاری کو عام ہونے سے قطع نظر کریں تو کلام امام شمس الائمہ حلوانی وامام فقیہ النفس سے بھی اُس کا استفادہ ہوتا ہے ہاں شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں عموم کی طرف صاف اشارہ کیا ، اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا :

اجمع العلماء علی النھی عن الاسراف فی الماء ولوکان علی شاطیئ البحر والاظھر انہ مکروہ کراھۃ تنزیہ وقال بعض اصحابنا الاسراف حرام [1]۔

اس پر علماء کا اجماع ہے کہ پانی میں اسراف منع ہے اگرچہ سمندرکے کنارے پرہو ، اوراظہریہ ہے کہ مکروہِ تنزیہی ہے ، اورہمارے بعض اصحاب نے فرمایاکہ اسراف حرام ہے۔ (ت)

منیہ وحلیہ میں فرمایا :

م ولا یسرف فی الماء [2] ش ای لا یستعمل منہ فوق الحاجۃ الشرعیۃ [3]

(م کے تحت متن کے الفاظ ہیں ش کے تحت شرح کے۱۲م) م پانی میں اسراف نہ کرے

فــــ : مسئلہ : وضو یا غسل میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے کا کیا حکم ہے اور اس باب میں مصنف کی تحقیق مفرد ۔

م وان کان علی شط نھر جار [4] ش ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ سنۃ وعلیہ مشی قاضی خان و ھو اوجہ کما ھو غیر خاف فالاسراف یکون مکروھا کراھۃ تنزیہ وقد صرح النووی انہ الا ظھر وحکی حرمۃ الاسراف عن بعض اھل مذھبہ وعبارۃ بعض المتأخرین منھم والزیادہ فی الغسل علی الثلث مکروہ علی الصحیح وقیل حرام وقیل خلاف الاولی [5]               

ش یعنی حاجتِ شرعیہ سے زیادہ پانی استعمال نہ کرے۔

م اگرچہ بہتے دریاکے کنارے ش شمس الائمہ حلوانی نے ذکرکیا کہ یہ سنت ہے۔ اسی پر قاضی خاں چلے اور یہ اَوجہ ہے جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ اور امام نووی نے اس کے اظہر ہونے کی تصریح کی اوراسراف کا حرام ہونا اپنے بعض اہل مذہب سے حکایت کیا اوران حضرات شافعیہ کے بعد متاخرین کی عبارت یہ ہے : تین بار سے زیادہ دھونا صحیح قول پر مکروہ ہے او ر کہا گیا کہ حرام ہے اور کہا گیا کہ خلاف اولٰی ہے (ت)

بحرالرائق میں ہے :

الاسراف ھو الاستعمال فوق الحاجۃ الشرعیہ وان کان علی شط نھر وقد ذکر قاضی خان ترکہ من السنن ولعلہ الاوجہ فیکون مکروھا تنزیھا[6]۔

اسراف یہ ہے کہ حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرے اگرچہ دریاکے کنارے ہو ، اور قاضی خاں نے ذکرکیا ہے کہ اس کا ترك سنت ہے اور شاید یہی اَوجہ ہے تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)

(۳)مطلقا مکروہ تك نہیں نہ تحریمی نہ تنزیہی صرف ایك ادب وامر مستحب کے خلاف ہے بدائع امام ملك العلما ابو بکر مسعود وفتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنیۃ المصلی وغیرہا میں ترك اسراف کو صرف آداب ومستحبات سے شمار کیا سنت تك نہ کہا اور مستحب کا ترك مکروہ نہیں ہوتا بلکہ سنت کا۔ حلیہ میں ہے :

قال فی البدائع والادب فیما بین الاسراف والتقتیر اذالحق بین الغلو و

بدائع میں فرمایا ادب اسراف اور تقتیر(زیادتی اورکمی) کے درمیان ہے اس لئے کہ حق ، غلو اور

التقصیر قال النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خیر الامور اوسطہا انتھی وذکر الحلوانی انہ سنہ فعلی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ وعلی الثانی کراھۃ تنزیہ [7]۔

تقصیر(حد سے تجاوز اور کوتاہی)کے مابین ہے ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : کاموں میں بہتر درمیانی ہیں ، انتہی۔ اور امام حلوانی نے ذکرفرمایاکہ ترك اسراف سنّت ہے توقول اول کی بنیاد پر اسراف مکروہ نہ ہوگا اورثانی کی بنیاد پر مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)

بحر میں ہے :

فی فتح القدیر ان المندوبات نیف وعشرون ترك الاسراف والتقتیر وکلام الناس [8] الخ فعلی کونہ مندوبا لایکون الاسراف مکروھا وعلی کونہ سنۃ یکون مکروھا تنزیھا۔

فتح القدیر میں ہے کہ مندوباتِ وضو بیس۲۰ سے زیادہ ہیں ۔ اسراف وتقتیر اورکلام دنیاکاترك الخ۔ توترك مندوب ہونے کی صورت میں اسراف مکروہ نہ ہوگااورسنّت ہونے کی صورت میں مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)

غنیہ میں ہے :

(و) من الاداب (ان کان یسرف فی الماء) کان ینبغی ان یعدہ فی المناھی لان ترك الادب لا باس بہ [9]۔

 



[1]   شرح صحیح مسلم للنووی کتا ب الطہارۃ باب القدر المستحب من الماء الخ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۳۷۴

[2]   منیۃ المصلی آداب الوضوء مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۹

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[4]   منیۃ المصلی آداب الوضوء مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۹

[5]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[6]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹

[7]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[8]   البحرالرائق ، کت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن