دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

الاخری ثم غسل کفیہ ثم تمضمض واستنثر ثم ادخل یدیہ فی الاناء جمیعا فاخذ بہما حفنۃ من ماء فضرب بھا علی وجہہ ثم الثانیۃ ثم الثالثۃمثل ذلک[1] ورواہ الطحاوی مختصرا فقال اخذ حفنۃ من ماء بیدیہ جمیعا فصك بھما وجہہ ثم الثانیۃ مثل ذلک[2] ثم الثالثۃ فذکر               

حضرت ابن عباس کی حدیث میں دونوں ہاتھوں اور پیروں سے متعلق جو مذکور ہے اس کا بھی یہ عمدہ محمل ہوگا۔ مگر یہ ہے کہ چہرے سے متعلق دونوں تاویلیں اس سے مکدر ہوتی ہیں کہ ان کا قول ہے “ ایك چُلو پانی لے کر اسے اس طرح کیا ، اسے دوسرے ہاتھ سے ملا کرچہرہ دھویا۔

مگر یہ کہ بتکلف اسی معنی پر محمول کیاجائے کہ انہوں نے چلو لینے میں دوسرے ہاتھ کو بھی ملالیاایك ہاتھ پر اکتفانہ کی تو یہ دونوں ہاتھ سے چلو لینے کے معنی کی طرف راجع ہوجائے گا اوراسی طرح ہوجائے گا جیسے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماکی حدیث ، حضرت علی کرم الله وجہہ سے ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرکے اس سے دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہتھیلیوں کودھویا ، پھر کُلی کی اورناك میں پانی ڈال کر جھاڑا پھربرتن میں دونوں ہاتھ ڈال کر ایك لپ پانی لے کر چہرے پر مارا ، پھر دوسری پھر تیسری باراسی طرح کیا۔

اسے امام طحاوی نے مختصرًا روایت کیا۔ اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرے پر مارا ، پھر دوسری بار اسی طرح کیا ، پھرتیسری بارایسے ہی۔ تومضمضہ و

الی المضمضۃ والاستنشاق الاغتراف بکف واحدۃ فاذا اتی علی الوجہ اضافہ الی الید الاخری ایضا فان لم یقبل ھذا فقد علمت ان استیعاب الوجہ بکف واحدۃ متعسر بل متعذر۔

اقول :  بل لربما تبقی الحفنۃ باقیۃ فضلا عن الکفۃ والدلیل علیہ ھذا الحدیث الذی ذکرنا تخریجہ عن الامام احمد وابی داؤد وابن خزیمۃ وابو یعلی والامام الطحاوی وابن حبان والضیاء عن ابن عباس عن علی عن النبی صلی الله علیہ وعلیہم وسلم حیث قال بعد ذکر غسل الوجہ بثلث حفنات کما تقدم ثم اخذ بکفہ الیمنی قبضۃ من ماء فصبہا علی ناصیتہ فترکہا تستن علی وجہہ ثم غسل ذراعیہ الی المرفقین ثلثا ثلثا[3] الحدیث وھذا ایضا معلوم مشاھد۔

وبالجملۃ لولم یصرف حدیث الغرفۃ عن ظاھرہ لرجع الغسل الی الدھن وھو خلاف الروایۃ والدرایۃ بل الاجماع والروایۃ الشاذۃ عن

استنشاق تك توایك ہاتھ سے چلو لینا ذکر کیا۔ جب چہرے پرآئے تودوسراہاتھ بھی ملایا۔ اگر یہ تاویل نہ مانی جائے تو معلوم ہوچکا کہ ہتھیلی بھر پانی سے چہرے کا استیعاب دشوار بلکہ متعذر ہے۔ (ت)

اقول : بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے لینے پر بھی کچھ حصہ باقی رہ جائے گا صرف ہتھیلی بھر لینے کی توبات ہی کیاہے۔ اس پر دلیل یہی حدیث ہے جس کی تخریج ہم نے امام احمد ، ابوداؤد ، ابن خزیمہ ، ابو یعلی ، امام طحاوی ، ابن حبان اور ضیاء سے ذکر کی ، جو حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی روایت سے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے مروی ہے اس میں جیسا کہ گزرا تین لپ سے چہرہ دھونے کے تذکرے کے بعد ہے ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھرپانی لے کر پیشانی پر ڈال کر اسے چہرے پر بہتا چھوڑدیا۔ پھر اپنی کلائیوں کوکہنیوں تك تین تین بار دھویا۔ یہ بھی تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے۔

الحاصل اگرچُلّو لینے والی حدیث کو اس کے ظاہر سے نہ پھیریں تودھونا بس ملنا ہو کر رہ جائے گا۔ اوریہ روایت ، درایت بلکہ اجماع کے بھی خلاف ہے۔۔۔ اور امام ابو یوسف

الامام الثانی رحمہ الله تعالی مؤولۃ کما فی رد المحتار عن الحلیۃ عن الذخیرۃ وغیرھا فاذن لایبقی الا ان نقول انالا نقدر علی مثل مافعل ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما تلك المرۃ فضلا عن فعل صاحب الاعجاز الجلیل المُرْوی مرار اللجمع الجزیل بالماء القلیل علیہ من ربہ اعلی صلوۃ واکمل تبجیل۔  ویقرب منہ اواغرب منہ ماوقع فی سنن سعید بن منصور عن الامام الاجل ابرھیم النخعی رضی الله تعالی عنہ قال لم یکونوا یلطموا وجوھھم بالماء وکانوا اشد استبقاء للماء منکم فی الوضوء وکانوا یرون ان ربع المد یجزئ من الوضوء وکانوا صدق ورعا واسخی نفسا واصدق عندالباس[4]۔

اقول :  فلا ادری کیف اجتزؤا بربع ما جعلہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مجزئابل لایظن بھم انھم قنعوا بالفرائض دون السنن فاذن یکفی                                

رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے جو شاذروایت آئی ہے وہ مؤول ہے جیسا کہ ردالمحتار میں حلیہ سے ، اس میں ذخیرہ وغیرہا سے نقل ہے۔ تاویل نہ کریں تو بس یہی صورت رہ جاتی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس بار حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے جس طرح وضوکیاویسے وضو پرہمیں قدرت نہیں ۔ اوران کے عمل کی تو بات ہی اور ہے جو ایسے عظیم اعجاز والے ہیں کہ بار ہا بڑے لشکر کو قلیل پانی سے سیراب کردیا۔ ان پران کے رب کی جانب سے اعلٰی واکمل درود وتحیّت ہو۔ اور اسی سے قریب یا اس سے بھی زیادہ عجیب وہ ہے جو سُنن سعید بن منصور میں اما م اجل ابراہیم نخعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت آئی ہے کہ انہوں نے فرمایا : وہ حضرات اپنے چہروں پر زورسے پانی نہ مارتے تھے اور وضومیں وہ تم سے بہت زیادہ پانی بچانے کی کوشش رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ چوتھائی مُدوضو کے لئے کافی ہے اس کے ساتھ وہ سچے ورع وپرہیز گاری والے ، بہت فیاض طبع ، اورجنگ کے وقت نہایت ثابت قدم بھی تھے۔

اقول : نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے جسے کافی قرار دیا(ایك مد۔ دو رطل) معلوم نہیں اس کے چوتھائی سے ان حضرات نے کیسے کفایت حاصل کرلی ، بلکہ ان کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کیاجاسکتا کہ سنتیں چھوڑ کر

لغسل الیدین الی الرسغین والمضمضۃ والاستنشاق وغسل الوجہ والیدین الی المرفقین والرجلین الی الکعبین کل مرۃ سدس رطل من الماء وھذا مما لایعقل ولا یقبل الا بمعجزۃ نبی اوکرامۃ ولی صلی الله تعالی علی الانبیاء والاولیاء وسلم۔  

فان قلت مایدریك لعل المراد بالمد المد العمری المساوی لصاع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الاربعا فیکون ربع المد ثلثۃ ارباع المد النبوی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔

قلت کلا فان ابرھیم سبق خلافۃ عمر ھذا رضی الله تعالی عنھما مات فـــــ سنۃ خمس اوست وتسعین و امیر المؤمنین فی رجب سنۃ احدی ومائۃ و خلافتہ سنتان ونصف رضی الله تعالی عنہ والله تعالٰی اعلم۔   

انہوں نے صرف فرائض پرقناعت کرلی تو(سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ چوتھائی مُد میں تین تین بار جب انہوں نے سارے اعضاء دھوئے۱۲م)لازم ہے کہ گُٹّو ں تك دونوں ہاتھ دھونے ، کُلی کرنے ، ناك میں پانی ڈالنے ، چہرہ اور کہنیوں تك دونوں ہاتھ ، اور ٹخنوں تك دونوں پاؤں ہرایك کے ایك بار دھونے میں صرف ۶ / ۱ رطل پانی کافی ہوجاتاتھا۔ یہ عقل میں آنے والی اور ماننے والی بات نہیں مگر کسی نبی کے معجزے یا ولی کی کرامت ہی سے ایسا ہوسکتا ہے ، تمام انبیاء اور اولیاپرخدائے برترکادرودوسلام ہو۔

اگر کہئے آپ کو کیا معلوم شاید مُد سے حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مُد مرادہوجوچوتھائی کمی کے ساتھ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے صاع کے برابر تھا تو وہ چوتھائی مُد حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے تین چوتھائی(۴ / ۳) مُد کے برابر ہوگا۔

میں کہوں گا یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ حضرت ابراہیم نخعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دورِ خلافت سے پہلے وفات فرماگئے۔ ان کی وفات  ۹۵ھ یا ۹۶ھ میں ہوئی اورامیرالمومنین کی وفات رجب  ۱۰۱ھ میں ہوئی اور مدّتِ خلافت ڈھائی سال رہی ، رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت

 



[1]   سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۶

[2]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن