30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : اس کی تقویت اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن ابی شیبہ کے یہاں یہ حدیث مطوّلًا اس اضافہ کے ساتھ ہے : ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ( پھر ایك چلو لے کر اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا) توجس چلوسے چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں میں سے ہر ایك کا وضو ہوجاتا تھا وہ اگر سرمیں استعمال ہوتاتواسے دھونے کاکام کر دیتا(نہ کہ اس سے صرف مسح ہوتا۱۲م)
المرۃ مع التجدید ورحم الله ابا حاتم اذقال ماکنا نعرف الحدیث حتی نکتبہ من ستین وجہا وانا اعلم ان الجادۃ فی روایات الوقائع حمل الاعم علی الاخص ولکن لاغروفی العکس لاجل التصحیح۔
والثانی : حمل الغرفۃ علی الحفنۃ ای بکلتا الیدین وربما تطلق علیھا فروی البخاری عن ام المومنین رضی الله تعالی عنہا فیما حکت غسلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم “ ثم یصب علی رأسہ ثلث غرف بیدیہ[1] ولا بی داؤد عن ثوبان رضی الله تعالٰی عنہ ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، اما المرأۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا [2]ویؤیدہ حدیث ابی داؤد
تو مراد۔ والله تعالٰی اعلم۔ وہی ایك ایك بار ہے ساتھ ہی پانی کی تجدید بھی۔
خدا کی رحمت ہوابوحاتم پرکہ وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث کی معرفت نہ ہوتی جب تك اسے ساٹھ طریقوں سے نہ لکھ لیتے۔ اورمجھے معلوم ہے کہ واقعات کی روایات میں عام راہ یہ ہے کہ اعم کواخص پر محمول کیا جائے مگر تصحیح کی اطر اس کے برعکس کرنا بھی جائے عجب نہیں ۔
دوسرا طریقہ : یہ کہ غرفہ کو حفنہ پر (چلو کو لَپ پر) یعنی دونوں ہاتھ ملا کر لینے پر محمول کیاجائے۔ اور بعض اوقات لفظ غرفہ کا اس معنٰی پر اطلاق ہوتاہے(۱)بخاری کی روایت میں ہے جو حضرت ام المومنین رضی الله تعالی ٰعنہا سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے غسل مبارك کی حکایت میں آئی ہے کہ : “ پھر اپنے سرپرتین چلو دونوں ہاتھوں سے بہاتے “ ۔ (۲) ابو داؤد کی روایت میں ہے جوحضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ہے “ لیکن عورت پراس میں کوئی حرج نہیں کہ بال نہ کھولے ، وہ اپنے سرپردونوں ہاتھوں سے تین چلوڈالے “ (۳) اور اس کی تائید ابوداؤد اور
والطحاوی عن محمد بن اسحٰق عن محمد بن طلحۃ عن عبید الله الخولانی عن عبدالله بن عباس عن علی رضی الله تعالی عنہم عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وفیہ ثم ادخل یدیہ جمیعا فاخذ حفنۃ من ماء فضرب بھا علی رجلہ وفیھا النعل فغسلھا بھا ثم الاخری مثل ذلك [3]
ولفظ الطحاوی ثم اخذ بیدیہ جمیعا حفنۃ من ماء فصك بھا علی قدمہ الیمنی والیسری کذلك [4] واخرجہ ایضا احمد وابو یعلی وابن خزیمۃ[5] و ابن حبان والضیاء وھذا معنی مامر من حدیث سعید بن منصور اِن شاء الله تعالٰی و المعنی الاخر المسح وقد نسخ اوکان وفی القدمین جوربان ثخینان علی مابینہ الامام الطحاوی رحمہ الله تعالی۔
طحاوی کی روایت سے ہوتی ہے جس کی سند یہ ہے ۔ عن محمد بن اسحاق۔ عن محمد بن طلحہ عن عبیدالله الخولانی۔ عن عبد الله بن عباس عن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔ عن النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔ اس میں یہ ہے کہ پھر اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر لپ بھر پانی لے کر اسے پاؤں پرمارا۔ جبکہ پاؤں میں جوتا موجود تھا۔ تواس سے پاؤں دھویاپھر اسی طرح دوسرا پاؤں دھویا۔
اور روایت طحاوی کے الفاظ میں یہ ہے : پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے لپ بھر پانی لیا ، تواسے دائیں قدم پر زور سے ماراپھر بائیں پر بھی اسی طرح کیا۔ اس کی تخریج امام احمد ، ابویعلی ، ابن خزیمہ ، ابن حبان اور ضیاء نے بھی کی ہے۔ اوریہی اس کا معنی ہے۔ ان شاء الله تعالٰی۔ جوسعید بن منصور کی حدیث میں آیا(کہ فرش علٰی قدمیہ تو اپنے دونوں قدموں پر چھڑکا “ ۱۲م) دوسرا معنی مسح ہے جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔ یا مسح اس حالت میں ہوا کہ قدموں پر موٹے پاتا بے تھے جیسا کہ امام طحاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بیان کیا۔
اقول : وما ذکرت من الوجہین فلنعم المحملان ھما لمثل طریق ابن ماجۃ حدثنا ابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا یحیی بن سعید القطان عن سفیان عن زید وفیہ رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ[6]
وحدیث ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ وقال لایقبل الله صلاۃ الابہ [7]
فیکون علی الحمل الاول کحدیث سعید بن منصور وابن ماجۃ والطبرانی والدار قطنی والبیہقی عن ابن عمروابن ماجۃ والدار قطنی عن ابی بن کعب والدار قطنی فی غرائب مالك عن زید بن ثابت وابی ھریرۃ معارضی الله تعالی عنھم ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ وقال ھذا وضؤ لایقبل الله صلاۃ الابہ [8]وکذا
اقول : میں نے جو دوطریقے ذکرکئے یہ بہت عمدہ محمل ہیں اس طرح کی روایات کے جو مثلًا بطریق ابن ماجہ یوں آئی ہیں ہم سے ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا ہم سے یحیٰی بن سعیدقطان نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے وہ زیدسے راوی ہیں ۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے دیکھا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایك ایك چُلو سے وضوکیا۔
اور ابن عساکر کی حدیث حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایك ایك چُلو سے وضوکیا۔ اورفرمایا : الله نماز قبول نہیں فرماتامگراسی سے ۔
تویہ ہمارے بیان کردہ پہلے طریقہ کے مطابق حضرت ابن عمر سے سعیدبن منصور ، ابن ماجہ ، طبرانی ، دارقطنی اور بیہقی کی حدیث کی طرح ہوجائے گی ، اور جیسے حضرت ابی بن کعب سے ابن ماجہ ودارقطنی کی حدیث ، اور حضرت زید بن ثابت اور ابو ہریرہ دونوں حضرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے غرائب مالك میں دارقطنی کی حدیث ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایك ایك بار وضوکیااورفرمایا : یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر الله کوئی نماز قبول نہیں فرماتا۔ اسی طرح
للیدین والرجلین فی حدیث ابن عباس غیرانہ یکدرھما جمیعا فی الوجہ قولہ اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ [9]الا ان یتکلف فیحمل علی ان اضاف الغرفۃ ای الاغتراف الی الید الاخری ایضا غیر قاصر لہ علی ید واحدۃ فیرجع ای الاغتراف بالیدین ویکون کحدیث ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما ایضا عن علی کرم الله تعالٰی وجہہ عن رسول الله تعالٰی علیہ وسلم ادخل یدہ الیمنی فافرغ بھا علی
[1] صحیح البخاری کتاب الغسل با ب الوضوء قبل الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
[2] سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا عند الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴
[3] سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضوء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۶
[4] شرح معانی الآثار کتاب الطہارزۃ باب فرض الرجلین فی الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
[5] صحیح ابن خزیمہ حدیث ۱۴۸ المکتب الاسلامی بیروت۱ /
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع