30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے تواس میں اتنا پانی نہ رہ سکے گا جو ملنے سے زیادہ کام کرسکے۔ یہی حال پاؤں کاہے مزید اس میں یہ بھی ہے کہ پانی کو نیچے اترنے کے بعد پھر ٹخنوں کے اوپر تك بہنے کے لئے چڑھنا بھی ہے۔ اورہاتھ کیا کام کرسکتاہے بس وہی جو ہم نے ابھی بتایا۔ جودعوی رکھتا ہوکہ یہ آسان ہے وہ کر کے دکھادے کہ امتحان ہی سے آدمی کوعـزت ملتی ہے یا ذلّت۔
الکواکب الدراری میں امام کرمانی کو اس اعتراض کاخیال ہوا اور صرف ناقابل تسلیم کہہ کر گزر گئے اورامام عینی نے بھی ان کا کلام نقل کرکے
اقر حیث قال قال الکرمانی فان قلت لایمکن غسل الرجل بغرفۃ واحدۃ قلت الفرق ممنوع ولعل الغرض من ذکرہ علی ھذا الوجہ بیان تقلیل الماء فی العضو الذی ھو مظنۃ الاسراف فیہ [1] اھ۔
اقول : ومجرد فــــ المنع فی امثال الواضحات لا یسمع ولا ینفع وحملہ المحقق فی الفتح علی تجدید الماء لکل عضو فقال وما فی حدیث ابن عباس فاخذ غرفۃ من ماء الی اخر ما تقد م یجب صرفہ الی ان المراد تجد ید الماء بقرینۃ قولہ بعد ذلك ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ومعلوم ان لکل من الیدین ثلث غرفات لا غرفۃ واحدۃ فکان المراد اخذ ماء للیمنی ثم ماء للیسری اذلیس یحکی الفرائض فقد حکی السنن من
برقرار رکھا۔ وہ لکھتے ہیں کرمانی فرماتے ہیں : اگر یہ کہوکہ ایك چلو میں پاؤں دھونا ممکن نہیں تو میں کہوں گا ہم یہ فرق نہیں مانتے۔ اور شاید اس طرح ذکر کرنے سے ان کامقصد یہ ہے کہ پانی اس عضو میں کم صرف کیاجائے جس میں اسراف ہونے کاگمان ہے اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں ) اس طرح کی واضح باتوں میں صرف منع سے کام نہیں چلتا نہ ہی یہ قابل قبول ہوتا ہے۔ اور حضرت محقق نے فتح القدیر میں اس کواس پرمحمول کیاہے کہ ہر عضوکے لئے نیا پانی لیتے۔ وہ لکھتے ہیں : وہ جوحضرت ابن عباس کی حدیث میں ہے کہ پھر ایك چلو پانی لیا۔ الٰی آخر الحدیث ۔ اسے اس طرف پھیرناضروری ہے کہ مراد نیا پانی لینا ہے اس کا قرینہ اس کے بعد ان کایہ قول ہے کہ پھر ایك چلو پانی لیاتو اس سے دایاں ہاتھ دھویا ، پھر ایك چلو پانی لیا تو اس سے بایاں ہاتھ دھویا۔ اورمعلوم ہے کہ ہر ہاتھ کے لئے تین چلو لئے ہوں گے ایك ہی چلو نہیں ، تومرادیہ ہے کہ کچھ پانی دائیں ہاتھ کے لئے لیا پھر کچھ پانی بائیں ہاتھ کے لئے لیا۔ اس لئے کہ وہ صرف فرائض کی حکایت نہیں فرما رہے ہیں بلکہ
فـــــ : تطفل علی الامام العینی والکرمانی ۔
المضمضۃ وغیرھا ولو کان لکان المراد ان ذلك ادنی مایمکن اقامۃ المضمضۃ بہ کما ان ذلك ادنی مایقام فرض الید بہ لان المحکی انما ھو وضوء ہ الذی کان علیہ لیتبعہ المحکی لھم[2] اھ وتبعہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ۔
قلت ومطمح نظرہ رحمہ الله تعالی سلخ الغرفۃ عن الواحدۃ مستندا الی ان المحکی الوضوء المسنون بدلیل ذکر المضمضۃ والاستنشاق والمسنون التثلیث فکیف یراد الواحدۃ وانما معناہ اخذ لکل عمل ماء جدید اوھو اعم من اخذہ مرۃ اومرارا فیکون معنی قولہ غرفۃ من ماء فتمضمض بہا واستنشق ان اخذلھا ماء جدیدا ولو مرارا فلا یدل علی انھما بماء واحد کما یقولہ الامام الشافعی رضی الله تعالٰی عنہ فھذا مرادہ وھو قد ینفعنا فیما نحن
مضمضہ وغیرہ سنتیں بھی بیان کی ہیں ۔ اوراگر وہی ہوتومراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنٰی مقدار ہے جس سے عمل مضمضہ کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔ جیسے یہ وہ ادنی مقدار ہے جس سے فرضِ دست کی ادائیگی ہوجاتی ہے اس لئے کہ حکایت اُس وضو کی ہورہی ہے جو سرکار نے کیاتھا تاکہ دیکھنے والے لوگ اسی طریقہ کی پیروی کریں اھ۔ محقق حلبی نے غنیہ کے اندر اس کلام میں حضرت محقق کی پیروی کی ہے۔
قلت حضرت محقق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکامطمحِ نظر یہ ہے کہ چلو کے لفظ سے وحدت کامفہوم الگ کردیں ، اس پران کا استناد اس سے ہے کہ یہاں وضوئے مسنون کی نقل ہو رہی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ مضمضہ اور استنشاق کا ذکر ہے۔ اورمسنون تین بار دھونا ہے تو وحدت کیسے مرادہوسکتی ہے۔ اس کا معنی بس یہ ہے کہ ہر عمل کے لئے نیاپانی لیا۔ اور یہ اس سے اعم ہے کہ ایك بار لیا یا چند بارلیا تو ان کے قول “ پانی کا ایك چلو لے کر اس سے مضمضہ اوراستنشاق کیا “ کا معنٰی یہ ہوگا کہ دونوں کے لئے جدید پانی لیااگرچہ چندبار۔ تو وہ یہ نہیں بتاتا کہ مضمضہ اور استنشاق دونوں ایك ہی پانی میں ہوا جیسا کہ امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاس کے قائل ہیں ۔ یہ ہے حضرت محقق کی مراد۔ اور وہ ہمارے زیرِبحث
فیہ وان کان کلامہ فی مسألۃ اخری۔
اقول : لکن فـــــ۱ فیہ بعد لایخفی والمحقق عارف بہ ولذا قال یجب صرفہ لکن الشان فی ثبوت الوجوب وما استند بہ سیاتی الکلام علیہ۔
علی ان الحدیث فـــــ۲ رواہ ابن ماجۃ عن زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما وھذا ھومخرج الحد یث رواہ البخاری عن سلیمن بن بلال عن زید والنسائی عن ابن عجلان عن زید مطولا وقال ابن ماجۃ حدثنا عبدالله بن الجراح وابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا عبدالعزیز بن محمد عن زید فاخرجہ مقتصرا علی قولہ ان رسول الله تعالٰی علیہ وسلم مضمض واستنشق من غرفۃ [3] واحدۃو
مسئلہ میں بھی کارآمد ہے اگرچہ ان کا کلام ایك دوسرے مسئلہ کے تحت ہے۔
اقول : لیکن اس میں نمایاں بعدہے۔ اورحضرت محقق اس سے واقف ہیں اسی لئے فرمایا : “ اسے پھیرنا “ واجب ہے ۔ لیکن مشکل معاملہ ثبوت وجوب ہے اورجس سے انہوں نے استناد فرمایا اس پر آگے کلام ہوگا۔
علاوہ ازیں یہ حدیث ابن ماجہ نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے وہ عطابن یسارسے وہ حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی ہیں ۔ اورمخرج حدیث یہی زیدبن اسلم ہیں ۔ اسے امام بخاری نے سلیمان بن بلال سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں ۔ اورنسائی نے ابن عجلان سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں مطوّلًا۔ اور ابنِ ماجہ نے کہا : ہم سے عبدالله بن جراح اور ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمدنے حدیث بیا ن کی وہ راوی ہیں زیدسے۔ پھر اس میں صرف یہ روایت کیا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایك چلو (من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا۔ اور
فـــــ۱ : تطفل علی المحقق والغنیۃ ۔ فــــــ۲ : تطفل اٰخرعلیہما ۔
من ھذا الطریق اخرجہ النسائی فقال اخبرنا الھیثم بن ایوب الطالقانی قال عبد العزیز بن محمد قال ثنازید وفیہ رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا فغسل یدیہ ثم تمضمض واستنشق من غرفۃ واحدۃ [4] الحدیث فھذا لایقبل الانسلاخ عن الواحدۃ وکافٍ فی الجواب ماافادہ اخرا بقولہ ولو کان لکان الخ مع ماقد م من احادیث ناطقۃ بالمذھب وزاد تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ حد ثنا اخر رواہ البزار بسند حسن۔
وانا اقول : وبالله التوفیق للعبد الضعیف فی الحدیث وجہان :
الاوّل حمل الغرفۃ علی المرۃ ای غسل کل عضو مرۃ مرۃ بھذا تنحل العقد بمرۃ ولانسلم ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق یستلزم استیعاب جمیع السنن لِمَ
[1] عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء ، تحت الحدیث۱۴۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۴۰۰ ، ۴۰۱
[2] فتح القدیر ، کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۴
[3] سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب المضمضۃ والا ستنشاق الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳
[4] سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب مسح الاذنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۱ / ۲۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع