دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

صلی الله تعالی علیہ وسلم اکثر من شعرك واطیب [1] وھو نص فی ان محمدا لم یشھد مخاطبتہ جابر والحسن وانما حکاھا لہ جابر بخلاف حدیث الباب وفی الکلام ایضا نوع تفاوت بل الرجل القائل ھو الامام ابو جعفر نفسہ اومن قال منھم مع تسلیم الباقین اخرج النسائی عن ابی اسحاق عن ابی جعفر قال تمارینا فی الغسل عند جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنھما فقال جابر یکفی من الغسل من الجنابۃ صاع من ماء قلنا مایکفی صاع ولا صاعان قال جابر قدکان یکفی من کان خیرا منکم واکثر شعرا [2] صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔

قال فی الحلیۃ یشعر ایضا بان ھذا التقدیر لیس بلازم فی کل حالۃ لکل واحد ومن ثمہ قال الشیخ عزالدین بن عبدالسلام ھذا فی حق من

صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے بال تمہارے بالوں سے زیادہ اور پاکیزہ ترتھے۔ یہ روایت اس بارے میں نص ہے کہ امام محمد باقرحضرت جابروحسن کی جگفتگوکے وقت موجود نہ تھے اور ان سے حضرت جابر نے قصہ بتایا بخلاف زیر بحث حدیث کے ، (جس میں خود ان کی موجودگی مذکورہے) اورکلام میں کچھ تفاوت ہے۔ بلکہ اس حدیث میں ناکافی ہونے کی بات کہنے والے خود امام ابو جعفرہیں یاان حضرات میں سے کوئی اورشخص جنہوں نے کہا اور باقی نے تسلیم کیا۔ (کیوں کہ نسائی کی روایت میں یہ تفصیل ہے)امام نسائی نے ابواسحٰق سے روایت کی وہ ابو جعفر سے راوی ہیں انہوں نے کہا : ہم نے حضرت جابر بن عبداللهرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس غسل کے بارے میں اختلاف کیا۔ حضرت جابرنے کہا : غسل جنابت میں ایك صاع پانی کافی ہے۔ ہم نے کہا : ایك صاع دو صاع ناکافی ہے۔ حضرت جابرنے فرمایا : کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم لوگوں سے بہتراورتم سے زیادہ بال والے تھے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔

حلیہ میں لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ تحدید ہر حال میں ، ہرشخص کے لئے لازم نہیں ۔ اسی لئے شیخ عزّالدین بن عبدالسلام نے فرمایایہ اس کے حق میں ہے جس کا جسم ، نبی کریم

یشبہ جسدہ جسدالنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انتھی یعنی فی الحجم ولعل انکار جابر وردہ علی القائل لظھور ان جسد القائل کان نحوجسد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مع فھم جابر عند الشك فی کون ذلك کافیا لہ اما لوسوسۃ اوغیرھا فاتی برد عنیف لیکون اقلع لذلك السبب من النفس واجمع فی التأسی بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ذلک۔

ھذا التوجیہ الذی وفقنا لہ اولی من قول غیر واحد من المشائخ ان مافی ظاھر الروایۃ (ای ماتقدم ان الصاع والمداد فی مایکفی) بیان لمقدار الکفایۃ ثم یرد فونہ بقولھم حتی ان من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلك اجزاء ہ وان لم یکفہ زاد علیہ وکذا الکلام فیما روی الحسن عن ابی حنیفۃ (ای ماتقدم من رطل ورطلین وثلثۃ فی الاحوال) فی الوضوء [3] اھ کلامہ الشریف مزید اما بین الاھلۃ۔                     

صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے جسم کی طرح ہو۔ انتہی۔ یعنی حجم میں ۔ شاید حضرت جابرکاانکاراورقائل کی تردید اسی لئے تھی کہ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے جسم کی طرح تھا ، ساتھ ہی حضرت جابرنے قائل سے متعلق یہ سمجھا کہ اسے ایك صاع کے کافی ہونے میں شك ہے جس کی وجہ وسوسہ ہے یااورکچھ۔ تو اس کی ایسی سخت تردید فرمائی جو نفس سے اس شك کا سبب نکال باہر کردے اور اس بارے میں رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اقتدا پر طمانینت قلب پیدا کردے۔

یہ توجیہ جس کی ہمیں توفیق ملی متعددمشائخ کے اس قول سے بہتر ہے کہ ظاہرالروایۃ کاکلام (یعنی وہ جوپہلے گزرا کہ صاع اورمُد ، ادنٰی مقدار کفایت ہے)مقدار کفایت کابیان ہے پھر اس کے بعد وہی مشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو وضو اور غسل اس سے کم مقدار میں کامل کرلے اس کے لئے وہی کافی ہے اوراگر یہ اس کے لئے کافی نہ ہوتواضافہ کرلے ۔ اسی طرح اس میں بھی کلام ہے جوحسن بن زیادنے وضو کے بارے میں امام ابو حنیفہ سے روایت کی(یعنی وہ جوگزرا کہ مختلف احوال میں ایك رطل ، دو رطل اورتین رطل کافی ہے)محقق حلبی کا کلام ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوا۔

اقول اولا :  نظر فــــ۱ رحمہ الله تعالٰی الی لفظ البخاری قال رجل ولوکان متذکرا ما فی النسائی من قول الامام الباقر رضی الله تعالی عنہ قلنا لم یرض[4] بذکر الوسوسۃ فحاشا محمد الباقر عنھا۔

ثانیا لوکانت فـــــ۲ علی ذکر منہ لم یذکر قولہ لظھور ان جسد القائل الخ فان ذلك ان فرض مستقیما ففی جسد بعضھم کالامام الباقر لا کلھم والقائلون القوم لقولہ قلنا وقول جابر من کان خیرا منکم وان تولی التکلم احدھم۔

وثالثا لایقتصر فــــ۳ الامر علی المقاربۃ فی الحجم وحدہ بل یختلف فـــــ۴             

اقول اوّلًا : صاحب حلیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بخاری کے الفاظ “ ایك شخص نے کہا “ پرنظررکھی اگر انہیں وہ یاد ہوتا جونسائی میں امام باقررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاقول مذکورہے کہ “ ہم نے کہا “ تو وسوسہ کا تذکرہ پسندنہ کرتے۔ کیوں کہ امام محمد باقر وسوسہ سے دُور ہیں ۔

ثانیًا : وہ روایت یاد رہتی تو یہ بات نہ کہتے کہ “ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم الخ “ ۔ کیوں کہ اسے اگر درست بھی مان لیاجائے توان میں سے بعض جیسے امام باقر کے جسم سے متعلق یہ بات ہوسکتی ہے سب سے متعلق نہیں جب کہ قائل سبھی حضرات تھے کیونکہ امام باقر کے الفاظ یہ ہیں کہ “ ہم نے کہا “ اورحضرت جابر کے الفاظ یہ ہیں کہ “ تم لوگوں سے بہتر تھے “ ۔ اگرچہ بولنے والے ان حضرات میں سے ایك ہی فرد رہے ہوں ۔

ثالثًا : معاملہ صرف حجم میں قریب قریب ہونے پرمحدود نہیں ، بلکہ فرق یوں بھی ہوتا ہے

فـــــ۱ : تطفل اٰخرعلیہا۔                                              فــــــ۲ تطفل آخر علیھا۔                                                                                                 فـــــ۳  :  تطفل ثالث علیہا۔

فــــ۴ : مسئلہ : سب کے لیے غسل و وضو میں پانی کی مقدارجس طرح عوام میں مشہور ہے محض باطل ہے ایك شخص دیو قامت ہے ایك نہایت نحیف دبلا پتلا ، ایك بہت درازقد ہے دوسراکمال ٹھنگنا ، ایك بدن نرم و نازك و تر دوسرا خشك کُھرّا ، ایك کے تمام اعضاء پر بال ہیں دوسرے کا بدن صاف ، ایك کی داڑھی بڑی اور گھنی ، دوسرا بے ریش یا چند بال ، ایك کے سر پر بڑے بڑے بال انبوہ دوسرے کا سر منڈھا ہوا۔ ان سب کے لئے ایك مقدار کیونکر ممکن بلکہ شخص واحد کیلئے فصلوں اور شہروں اور عمر و مزاج کے تبدل سے مقدار بدل جاتی ہے ، برسات میں بدن میں تری ہوتی ہے پانی جلد دوڑتا ہے ، جاڑے میں خشکی ہوتی ہے وعلٰی ہذاالقیاس۔

باختلاف بدنین نعومۃ وخشونۃ و رطوبۃ و یبوسۃ وکون الشخص اجرد اواشعر وکث اللحیۃ اوخفیفھا وتام الوفرۃ اومحلوقہا الی غیر ذلك من الاسباب بل یختلف لشخص واحد باختلاف الفصول والبلدان والعمر والمزاج وغیر ذلك ۔

ورابعا بہ فــــ۱ ظھران لوفرض لھم مداناۃ فی الحجم کان من المحال العادی المداناۃ فی جمیع اسباب الاختلاف بل ھو محال قطعا فمن اعظمھا النعومۃ ومن بدنہ کبدن ھذا القمر الزاھر صلی الله تعالٰی علیہ وسلم

وخامسا  :  لقی فــــ۲ الامام الباقر سیدنا جابرا رضی الله تعالی عنہما انما کان بعد ما صار بصیرا فکیف یعرف حجم ابدانھم۔

وسادسا :  کلام فـــــ۳ جابر نفسہ یدل انہ انما بناہ علی کثرۃ شعرالراس وقلتہ ۔                           

کہ ایك بدن نرم ہو دوسرا سخت ، ایك رطب ہودوسرا یابس ، اور یُوں بھی کہ ایك شخص کم بال والا ہو دوسرا زیادہ بال والا ، ایك کی داڑھی گھنی دوسرے کی خفیف ، ایك کے سر پرلمبے لمبے بال ہوں دوسرے کا سر مُنڈاہوا ہو ، اور اس طرح کے فرق کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں ۔ بلکہ موسم ، شہر ، عمر ، مزاج وغیرہ کی تبدیلیوں سے خود ایك ہی شخص کاحال مختلف ہواکرتاہے۔

 



[1]   صحیح مسلم کتاب الحیض ، باب استحباب افاضۃ الماء علٰی الرأس وغیرہ...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹

[2]   سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للغسل نورمحمد کارخانہ تجار ت کراچی۱ / ۴۶

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[4]   سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل... الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن