30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حد کوپہنچ جائے کہ اگر ممنوع چیز نہ کھائے تو ہلاك ہوجائے یا ہلاکت کے قریب پہنچ جائے۔ اس سے حرام کاکھانا ، جائز ہوجاتا ہے۔ اورحاجت جیسے اتنا بھُوکا ہوکہ اگر کھانے کی چیز نہ پائے توہلاك تونہ ہومگر تکلیف اور مشقت میں پڑجائے۔ اس سے حرام کا کھانا ، جائز نہیں ہوتااورروزے میں افطار مباح ہوجاتاہے۔ منفعت جیسے وہ شخص جوگیہوں کی روٹی ، بکری کے گوشت اور چکنائی والے کھانے کی خواہش رکھتاہو۔ زینت جیسے حلوے اورشکرکی خواہش رکھنے ولا۔ اور فضول یہ کہ حرام اور مشتبہ چیزکھانے کی وسعت اختیارکرنا۔ (ت)
اقول : حضرت محقق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے صرف ایك بات (کھانے) پرکلام کیااورتعریفات پیش کرنے کے بجائے فہم سامع کے حوالے کرتے ہوئے مثالوں پر اکتفاکی۔ اورحلوے وشکّر کوزینت شمارکرنا محلّ تامل ہے اس لئے کہ حلوے میں کچھ ایسے فوائد ہیں جو دوسری چیز میں نہیں اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمحلوا اورشہد پسندفرماتے تھے جیساکہ
فـــ : تطفل علی الفتح والحموی ۔
کما اخرجہ الستۃ [1] عن ام المومنین رضی الله تعالٰی عنہا وما کان لیحب ما لا منفعۃ فیہ وقد نہاہ ربہ تبارك وتعالٰی عن زھرۃ الحیوۃ الدنیا فلولم تکن الازینۃ لما احبہا ولعل ماذکر العبد الضعیف امکن وامتن۔
اصحابِ ستّہ نے ام المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے۔ اور سرکار کی یہ شان نہ تھی کہ ایسی چیز محبوب رکھیں جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ حالاں کہ انہیں رب تعالٰی نے دنیاوی زندگی کی آرائش سے منع فرمایا ہے تویہ اگر محض زینت ہوتا توسرکار اسے پسند نہ فرماتے۔ اورشاید بندہ ضعیف نے جوذکرکیاوہ زیادہ پختہ اورمضبوط ہے۔ (ت)
انہیں مراتب کو طہارت میں لحاظ کیجئے تو جس عضو کا جتنا دھونا فرض ہے اُس کے ذرّے ذرّے پر ایك بار پانی تقاطر کے ساتھ اگرچہ خفیف بہہ جانا مرتبہ ضرورت میں ہے کہ بے اس کے طہارت ناممکن اور تثلیث مرتبہ حاجت میں ہے یوں ہی وضو میں مُنہ دھونے سے پہلے کی سنن ثلاث کہ یہ چاروں مؤکدات ہیں اور ان کے ترك میں ضرر من زادا ونقص فقد تعدی وظلم (جس نے اس سے زیادہ یا کم کیا تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ ت) اور ہر بار پانی بفراغت بہنا جس سے کمال تثلیث میں کوئی شبہ نہ گزرے اور ہر ہر ذرّہ عضو پر غور وتامل کی حاجت نہ پڑے یہ منفعت ہے اور غرہ وتحجیل فـــــ کی اطاعت زینت اور کسی عضو کو قصدًا چار بار دھونا فضول۔ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
ان امتی یدعون یوم القٰیمۃ غرا محجلین من اٰثار الوضوء
یعنی میری امت کے چہرے اورچاروں ہاتھ پاؤں روزِقیامت وضو کے نور سے روشن و منور
فــــ : مسئلہ : وضو میں غرہ و تحجیل کا بڑھانا مستحب ہے اور اس کے معنٰی کا بیان۔
فمن استطاع منکم ان یطیل غرتہ فلیفعل [2] رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ وفی لفظ المسلم عنہ انتم الغر المحجلون یوم القٰیمۃ من اسباغ الوضوء فمن استطاع منکم فلیطل غرتہ وتحجیلہ[3]۔
ہوں گے تو تم میں جس سے ہوسکے اسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے اسے شیخین نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا اور مسلم کی ایك روایت کے الفاظ یہ ہیں : تم لوگ وضو کامل کرنے کی وجہ سے روزِقیامت روشن چہرے ، چمکتے دست و پا والے ہوگے تو تم میں جس سے ہوسکے اپنے چہرے اورہاتھوں کی روشنی زیادہ کرے۔ (ت)
یعنی میری اُمّت کے چہرے اور چاروں ہاتھ پاؤں روزِقیامت وضو کے نور سے روشن ہوں گے توتم میں جس سے ہوسکے اُسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے یعنی چہرہ کے اطراف میں جو حدیں شرعًا مقرر ہیں اُس سے کچھ زیادہ دھوئے اور ہاتھ نصف بازو اور پاؤں نیم ساق تک۔ دُرمختار میں ہے :
من الاٰداب اطالۃ غرتہ وتحجیلہ[4]۔
آدابِ وضو میں سے یہ ہے کہ اپنے چہرے اور دست و پا کے نشاناتِ نور زیادہ کرے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی البحر اطالۃ الغرۃ بالزیادۃ علی الحد المحدود وفی الحلیۃ التحجیل فی الیدین والرجلین وھل لہ حد لم اقف فیہ علی شیئ لاصحابنا ونقل النووی اختلاف الشافعیۃ علی ثلثۃ اقوال الاول الزیادۃ بلا توقیف الثانی الی نصف العضد و الساق الثالث
بحر میں ہے : چہرے کی روشنی زیادہ کرنااس طرح کہ مقررہ حد سے زیادہ دھوئے۔ اورحلیہ میں ہے کہ تحجیل کا تعلق دونوں ہاتھ پاؤں سے ہے(ہاتھ پاؤں کومقدار سے زیادہ دھوئے)کیا زیادتی کی کوئی حدبھی ہے اس بارے میں اپنے اصحاب کی کسی بات سے واقفیت مجھے نہ ہوئی۔ امام نووی نے اس بارے میں شافعیہ کے تین اقوال لکھے ہیں اول یہ کہ بغیر کسی تحدید کے زیادتی ہو۔
الی المنکب والرکبتین قال والاحادیث تقتضی ذلك کلہ اھ ونقل ط الثانی عن شرح الشرعۃ مقتصرا علیہ[5] اھ
دوم یہ کہ آدھے بازو اورنصف ساق تك زیادتی ہو۔ سوم یہ کہ کاندھے اور گھٹنوں تك زیادتی ہو۔ فرمایاکہ احادیث کامقتضا یہ سب ہے اھ۔ اور علامہ طحطاوی نے قولِ دوم کوشرح شرعہ سے نقل کیااوراسی پراکتفا کی اھ۔ (ت)
درمختار مکروہات وضو میں ہے :
والاسراف ومنہ الزیادۃ علی الثلاث[6]۔
اور اسراف ، اسی سے یہ بھی ہے کہ تین بار سے زیادہ دھوئے ۔ (ت)
اُسی میں ہے :
لوزاد (ای علی التثلیث) لطمانینۃ القلب لاباس بہ[7]۔
اگر اطمینانِ قلب کے لئے تین بارسے زیادہ دھویا تواس میں حرج نہیں ۔ (ت)
[1] صحیح البخاری کتاب الاشربۃ ، باب شرب الحلواء والعسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۴۰ ، سنن ابی داؤد کتاب الاشربۃ ، باب فی شرب العسل آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۶۶ ، سنن الترمذی کتاب الاطعمۃباب ماجاء فی حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحلو و العسل ، حدیث ۱۸۳۸ دارالفکربیروت ۳ / ۳۲۷ ، سنن ابن ماجۃ کتاب الاطعمۃ ، باب الحلواء ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۶
[2] صحیح البخاری کتاب الوضوء ، باب فضل الوضوء الغر المحجلون من آثار الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵ ، صحیح مسلم کتاب الطہارۃ ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۶
[3] صحیح مسلم کتاب الطہارۃ ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۶
[4] الدرالمختار کتاب الطہارۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
[5] رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع