30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : وبالله التوفیق فـــ۲ مراتب پانچ ہیں :
(۱) ضرورت(۲) حاجت(۳) منفعت(۴) زینت(۵) فضول۔
ضرورت : یہ کہ اُس کے بغیر گزر نہ ہوسکے جیسے مکان میں جُحر یتدخلہ[1]وہ سوراخ جس میں آدمی بزور سما سکے۔ کھانے میں لقیمات یقمن صلبہ[2] چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سدرمق کریں ادائے
فـــ۱ : مسئلہ : غسل میں ایك صاع سے زیادہ پانی خرچ کرناافضل ہے جب تك حداسراف بے سبب یاوسوسہ کی حالت نہ ہو۔
فـــ۲ : شیئ کے پانچ مرتبے ہیں : ضرورت ، حاجت ، منفعت ، زینت ، فضول ، اوران کی تحقیق اورمکان وطعام ولباس وطہارت میں ان کی مثالیں۔
فرائض کی طاقت دیں ۔ لباس میں خرقۃ تواری عورتہ [3]اتنا ٹکڑا کہ ستر عورت کرے۔
حاجت : یہ کہ بے اُس کے ضرر ہو ، جیسے مکان اتنا کہ گرمی جاڑے برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے ، کھانا اتنا جس سے ادائے واجبات وسُنن کی قوت ملے ، کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے اتنا بدن ڈھکے جس کا کھولنا نماز و مجمع ناس میں خلاف ادب وتہذیب ہے مثلًا خالی پاجامے فـــــ سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
ابو داؤد والحاکم عن بریدۃ رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی ان یصلی الرجل فی سراویل ولیس علیہ رداء [4]۔
ابو داؤد اورحاکم نے حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے منع فرمایا کہ آدمی بے چادر اوڑھے صرف پاجامے میں نماز پڑھے ۔
مسند احمد وصحیحین میں ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
لایصلین احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقیہ من شیئ[5]۔
ہرگزکوئی ایك کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ دونوں شانے کھُلے ہوں ۔
ولفظ البخاری عاتقۃ بالافراد (اور بخاری نے مفرد لفظ عاتقہ ذکر کیا ہے۔ ت)فتاوٰی خلاصہ میں ہے :
لوصلی مع السراویل والقمیص
اگر کُرتا ہوتے ہوئے صرف پاجامے میں نماز
فــــ : مسئلہ : خالی پاجامہ سے نمازمکروہ تحریمی ہے ۔
عندہ یکرہ[6]۔
پڑھی تومکروہ ہے۔ (ت)
یوں ہی تنہا فــــپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالۃ مردود الشہادۃ خفیف الحرکات ہے۔ یہ مسئلہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ آج کل اکثر لوگوں میں اس کی بے پرواہی پھیلی ہے خصوصًا وہ جن کے مکان سرراہ ہیں ۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
لاتقبل شہادۃ من یمشی فی الطریق بسراویل وحدہ لیس علیہ غیرہ کذا فی النھایۃ٢[7]۔
اس کی شہادت مقبول نہیں جو راستے میں اس طرح چلتاہوکہ اس کے جسم پرصرف پاجامہ ہو ، اور کچھ نہ ہو۔ ایسا ہی نہایہ میں ہے۔ (ت)
منفعت : یہ کہ بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں مگر اُس کا ہونا اصل مقصود میں نافع ومفید ہے جیسے مکان میں بلندی و وسعت ، کھانے میں سرکہ چٹنی سیری ، لباس نماز میں عمامہ۔
زینت : یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایك معمولی افزائش حسن وخوشنمائی کے سوا اور نفع وتائید غرض نہیں جیسے مکان کے دروں میں محرابیں ، کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سُرخ ہو فرنی نہایت سفید براق ہو ، کپڑے میں بخیہ باریك ہو قطع میں کج نہ ہو۔
فضول : یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع وتدقیق جیسے مکان میں سونے چاندی کے کلس دیواروں پر قیمتی غلاف ، کھانا کھائے پر میوے شیرینیاں ، پائچے گٹوں سے نیچے اوّل مرتبہ فرض میں ہے دوم واجب وسنن مؤکدہ سوم وچہارم سنن غیر مؤکدہ سے مستحبات وآداب زائدہ تك پنجم باختلاف مراتب مباح ومکروہ تنزیہی وتحریمی سے حرام تک ،
قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح ثم السید الحموی فی الغمز قاعدۃ الضرر یزال ھھنا خمسۃ مراتب ضرورۃ وحاجۃ ومنفعۃ وزینۃ وفضول فالضرورۃ
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں ، پھر سیدحموی نے غمزالعیون میں فرمایا : قاعدہ -ضرر دورکیاجائے گا۔ یہاں پانچ مراتب ہیں ۔ ضرورت ، حاجت ، منفعت ، زینت ، فضول۔ ضرورت : اس
فــــ : مسئلہ : تنہاپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والاساقط العدالۃ مردودالشہادۃ ہے ۔
بلوغہ حدا ان لم یتناول الممنوع ھلك او قارب وہذا یبیح تناول الحرام والحاجۃ کالجائع الذی لولم یجد ما یاکلہ لم یھلك غیرانہ یکون فی جہد ومشقۃ وھذا لایبیح الحرام ویبیح الفطر فی الصوم والمنفعۃ کالذی یشتھی خبزا لبر ولحم الغنم والطعام الدسم والزینۃ کالمشتھی الحلوی والسکر و الفضول التوسع باکل الحرام والشبھۃ[8] اھ
اقول : تکلم رحمہ الله تعالٰی فی مادۃ واحدۃ بخصوصہا وقنع عن التعریفات بالامثلۃ احالۃ علی فھم السامع وفی جعل فــ الحلوی والسکر من الزینۃ تامل فان فی الحلوی منافع لیست فی غیرھا وقد کان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع