30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ بحکم متون واحادیث اظہر ، وہی مختار بدائع وزیلعی وحلیہ ہے کہ مسواك وضو کی سنت قبلیہ ہے ، ہاں سنت مؤکدہ اُسی وقت ہے جبکہ منہ میں تغیر ہو ، اس تحقیق پر جبکہ مسواك وضو کی سنّت ہے مگر وضو میں نہیں بلکہ اُس سے پہلے ہے تو جو پانی کہ مسواك میں صرف ہوگا اس حساب سے خارج ہے سنّت یہ ہے کہ مسواك فــــ۲ کرنے سے پہلے دھولی جائے اور فراغ کے بعد دھو کر رکھی جائے اور کم از کم اُوپر کے دانتوں اور نیچے کے دانتوں میں تین تین بار تین پانیوں سے کی جائے۔ دُرمختار میں ہے :
اقلہ ثلاث فی الاعالی وثلاث فی الاسافل بمیاہ ثلثۃ [1]۔
اس کی کم سے کم مقداریہ ہے کہ تین بار اوپرکے دانتوں میں ، تین بارنیچے کے دانتوں میں ، تین تین پانیوں سے ہو۔
فـــ١ : تطفل علی الفتح ۔
فـــ۲ : مسئلہ : مسواك دھو کر کی جائے اور کرکے دھولیں اورکم ازکم تین تین بارتین پانیوں سے ہو۔
صغیری میں ہے :
یغسلہ عد الاستیاك وعند الفراغ منہ [2]۔
مسواك کو مسواك کرنے کے وقت اوراس سے فارغ ہونے کے بعد دھولے۔ (ت)
(۵) اس قدر تو درکار ہی ہے اور اُس کے ساتھ اگر منہ میں کوئی تغیر رائحہ ہوا تو جتنی بار مسواك اور کُلّیوں سے اس کا ازالہ ہو لازم ہے اس کیلئے کوئی حد مقرر نہیں بدبو دار کثیف فــــ۱ بے احتیاطی کا حقّہ پینے والوں کو اس کا خیال سخت ضروری ہے اور اُن سے زیادہ سگریٹ والے کہ اس کی بدبو مرکب تمباکو سے سخت تر اور زیادہ دیرپا ہے اور ان سب سے زائد اشد ضرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں اُس کا جِرم دبا رہتا اور منہ کو اپنی بدبو سے بسا دیتا ہے یہ سب لوگ وہاں تك مسواك اور کُلّیاں کریں کہ منہ بالکل صاف ہوجائے اور بُو کا اصلًا نشان نہ رہے اور اس کا امتحان یوں ہے کہ ہاتھ اپنے منہ کے قریب لے جاکر منہ کھول کر زور سے تین بار حلق سے پوری سانس ہاتھ پر لیں اور معًا سونگھیں بغیر اس کے اندر کی بدبو خود کم محسوس ہوتی ہے ، اور جب منہ میں فــــ۲ بدبو ہوتو مسجد میں جانا حرام نماز میں داخل ہونا منع والله الھادی۔
(۶) یوں ہی جسے تر کھانسی ہو اور بلغم کثیر ولزوج کہ بمشکل بتدریج جُدا ہو اور معلوم ہے کہ مسواك کی تکرار اور کُلیوں غراروں کا اکثار اُس کے خروج پر معین تو اُس کے لئے بھی حد نہیں باندھ سکتے۔
(۷) یہی حال زکام کا ہے جبکہ ریزش زیادہ اور لزوجت دار ہو اُس کے تصفیہ اور بار بار ہاتھ دھونے میں جو پانی صرف ہو وہ بھی جدا اور نامعین المقدار ہے۔
(۸) پانوں کی فــــ۳ کثرت سے عادی خصوصًا جبکہ دانتوں میں فضا ہو تجربہ سے جانتے ہیں کہ چھالیا کے باریك ریزے اور پان کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس طرح منہ کے اطراف واکناف میں جاگیر ہوتے
فــــ۱ : مسئلہ : حقہ اورسگرٹ پینے اورتمباکوکھانے والوں کے لئے مسواك میں کہاں تك احتیاط واجب ہے اوران کے امتحان کاطریقہ۔
فــــ۲ : مسئلہ : منہ میں بدبو ہوتوجب تك صاف نہ کرلیں مسجدمیں جانایانمازپڑھنامنع ہے۔
فــــ۳ : مسئلہ : پان کے عادی کوکلیوں میں کتنی احتیاط لازم ۔
ہیں کہ تین۳ بلکہ کبھی دس۱۰ بارہ۱۲ کُلیاں بھی اُن کے تصفیہ تام کو کافی نہیں ہوتیں ، نہ خلال اُنہیں نکال سکتا ہے نہ مسواك سوا کُلیوں کے کہ پانی منافذ میں داخل ہوتا اور جنبشیں دینے سے اُن جمے ہوئے باریك ذرّوں کو بتدریج چھڑ چھڑا کرلاتا ہے اس کی بھی کوئی تحدید نہیں ہوسکتی اور یہ کامل تصفیہ بھی بہت مؤکد ہے متعدد فـــ احادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بندہ نماز کو کھڑا ہوتا ہے فرشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھتا ہے یہ جو کچھ پڑھتا ہے اس کے منہ سے نکل کر فرشتہ کے منہ میں جاتا ہے اُس وقت اگر کھانے کی کوئی شے اُس کے دانتوں میں ہوتی ہے ملائکہ کو اُس سے ایسی سخت ایذا ہوتی ہے کہ اور شے سے نہیں ہوتی۔
البیہقی فی الشعب وتمام فی فوائدہ والدیلمی فی مسند الفردوس والضیاء فی المختارۃ عن جابر رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا قام احدکم یصلی من اللیل فلیستك فان احدکم اذا قرأ فی صلاتہ وضع ملك فاہ علی فیہ ولا یخرج من فیہ شیئ الادخل فم الملك [3]وللطبرانی فی الکبیر عن ابی ایوب الانصاری رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال لیس شیئ اشد علی الملکین من ان یریابین اسنان صاحبھما شیئا وھو قائم یصلی [4]وفی
بیہقی شعب الایمان میں ، تمام فوائد میں ، دیلمی مسندالفردوس میں ، اور ضیاء مختارہ میں حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بسندِ صحیح راوی ہیں کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑاہوتو مسواك کرلے اس لئے کہ جب وہ اپنی نمازمیں قراء ت کرتاہے توایك فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور جو قراء ت اس کے منہ سے نکلتی ہے فرشتے کے منہ میں جاتی ہے۔ اورمعجم طبرانی کبیر میں حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : دونوں فرشتوں پر اس سے زیادہ گراں کوئی چیزنہیں کہ وہ اپنے ساتھ والے انسان کے دانتوں کے درمیان کھانے کی کوئی چیز پائیں جب وہ کھڑانماز پڑھ رہاہو۔ اوراس
فـــ : مسئلہ : نمازمیں منہ کی کمال صفائی کالحاظ لازم ہے ورنہ فرشتوں کوسخت ایذاہوتی ہے ۔
الباب عند ابن المبارك فی الزھد عن ابی عبدالرحمن السلمی عن امیر المومنین علی رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم والدیلمی عن عبدالله بن جعفر رضی الله تعالی عنہما عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وابن نصر فی الصّلاۃ عن الزھری عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مرسلا والاٰجری فی اخلاق حملۃ القراٰن عن علی کرم الله وجہہ موقوفا۔
بارے میں امام عبدالله بن مبارك کی کتاب الزہد میں بھی حدیث ہے جوابوعبدالرحمٰن سلمی سے مروی ہے وہ امیر المومنین حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے وہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے راوی ہیں ۔ اوردیلمی نے بھی عبدالله بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کی ہے۔ اورابن نصرنے کتاب الصّلوٰۃ میں امام زہری سے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے مرسلًا ، اورآجری نے اخلاق حملۃ القرآن میں حضرت علی کرم الله تعالٰی وجہہ سے موقوفًا روایت کی ہے۔ (ت)
تنبیہ : سیدنا فــــ امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حسن بن زیاد کی روایت کہ مستثنی پانیوں سے آب اول کے نیچے گزری جس کا حاصل یہ تھا کہ ایك رطل پانی سے استنجا اور ایك رطل منہ اور دونوں ہاتھ اور ایك رطل دونوں پاؤں کیلئے ، اور اسی کو علّامہ شرف بخاری رحمہ الباری نے مقدمۃالصلاۃ میں ذکرفرمایاکہ ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع