30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب رہا وہ جو عمدۃ القاری میں ہے : اس کے بارے میں علماء کااختلاف ہے ، بعض نے فرمایا سنتِ وضوہے بعض دیگر نے کہاسنتِ نماز ہے۔ اور کچھ حضرات نے فرمایاسنتِ دین ہے ، اوریہی زیادہ قوی ہے ، یہ امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منقول ہے اھ ، یہ علامہ عینی نے ابواب الوضو کے باب السواك میں ذکرکیا ، اور باب السواك یوم الجمعہ میں اتنا اضافہ کیا : امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منقول ہے کہ “ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے “ ۔ تو اس میں تمام احوال برابر ہوں گے اھ۔
اقول : اس کی تائید دیلمی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جوحضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : مسواك سنت ہے توتم جس وقت چاہومسواك کرو۔
ولکن اولا لاکونہ فــــ۱ سنۃ فی الوضوء ینفی کونہ من سنن الدین بل یقررہ ولاکونہ سنۃ مستقلۃ ینافی کونہ من سنن الوضوء کما قررنا الا تری ان الماثور عنہ رضی الله تعالی عنہ انہ من سنن الدین واطبقت حملۃ عرش مذھبہ المتین المتون انہ من سنن الوضوء ونصھا عین نصہ رضی الله تعالی عنہ ۔
وثانیا ھذا الامام العینی فــــ۲نفسہ ناصا قبل ھذا بنحو ورقۃ ان باب السواك من احکام الوضوء عند الاکثرین [1]اھ فلم نعدل عن قول الاکثرین وعن اطباق المتون لروایۃ عن الامام لاتنافیہ اصل۔
وثالثا اعجب فــــ۳من ھذا قولہ رحمہ الله تعالٰی فی شرح قول الکنز وسنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواك
لیکن اوّلًا نہ تواس کاسنتِ وضوہونا ، سنتِ دین ہونے کی نفی کرتاہے۔ بلکہ اس کی تائیدکرتاہے۔ اورنہ ہی اس کا سنت مستقلہ ہونا ، سنتِ وضو ہونے کے منافی ہے جیسا کہ ہم نے تقریر کی۔ یہی دیکھئے کہ امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منقول ہے کہ مسواك دین کی ایك سنت ہے اوران کے مذہب متین کے حامل جملہ متون کااس پر اتفاق ہے کہ مسواك وضو کی ایك سنت ہے۔ اورنصِ متون خود امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکانص ہے۔
ثانیًا خود امام عینی نے اس سے ایك ورق پہلے صراحت فرمائی ہے کہ اکثرحضرات کے نزدیك مسواك کاباب احکامِ وضوسے ہے اھ توہم قولِ اکثراوراتفاق متون سے امام کی ایك ایسی روایت کے سبب عدول کیوں کریں جو اس کے منافی بھی نہیں ہے۔
ثالثا اس سے زیادہ عجیب شرح کنز میں علامہ عینی کاکلام ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ کنز کی عبارت یہ ہے : “ سنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواک “ ۔
ـــــ۱ : تطفل علی الامام العینی۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔ فـــــ۳ : ثالث علیہ۔
اذ قال الامام الزیلعی قولہ والسواك یحتمل وجھین احدھما ان یکون مجرورا عطفا علی التسمیۃ والثانی ان یکون مرفوعا عطفا علی الغسل والاول اظھر لان السنۃ ان یستاك عند ابتداء الوضوء[2]اھ مانصہ بل الاظھر ھو الثانی لان المنقول عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ علی ما ذکرہ صاحب المفید ان السواك من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال[3] اھ۔
اقول : کونہ من سنن الدین کان یقابل عندکم کونہ من سنن الوضوء فما یغنی الرفع مع کونہ عطفا علی خبر سنتہ ای سنۃ الوضوء وبوجہ اخر فــــ ما المراد باستواء الاحوال نفی ان یختص بہ حال
(وضو کی سنت گٹوں تك دونوں ہاتھوں کو شروع میں دھونا ہے جیسے تسمیہ اور مسواک)۔ اس پر امام زیلعی نے فرمایا : لفظ السواك کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں ایك یہ کہ لفظ التسمیۃ پر معطوف ہوکرمجرورہو۔ دوسری یہ کہ لفظ غسل (دھونا) پر معطوف ہوکر مرفوع ہو۔ اوراول زیادہ ظاہر ہے اس لئے کہ سنت یہ ہے کہ ابتدائے وضوکے وقت مسواك کرے اھ۔ اس پر علامہ عینی فرماتے ہیں : بلکہ زیادہ ظاہر ثانی ہے اس لئے کہ جیسا کہ صاحبِ مفید نے ذکرکیا ہے امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منقول یہ ہے کہ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے تواس صورت میں اس کے اندرتمام احوال برابر ہیں اھ۔
اقول : آپ کے نزدیك مسواك کا سنتِ دین ہونا ، سنتِ وضو ہونے کے مقابل تھا تولفظ السواك کے مرفوع ہونے سے کیاکام بنے گاجب کہ وہ لفظ سنتہ (یعنی سنتِ وضو)کی خبر پر عطف ہوگا(یعنی یہ ہوگاکہ اور - وضو کی سنت-مسواك کرنابھی ہے۔ تواس ترکیب پربھی سنتِ دین کے بجائے سنتِ وضو ہوناہی
فــــ : تطفل رابع علیہ ۔
بحیث تفقد السنیۃ فی غیرہ ام نفی التشکیك بحسب الاحوال بحیث لایکون التصاقہ بعضھا ازید من بعض علی الاول لاوجہ لاستظہار الثانی فلو کان سنۃ فی ابتداء الوضوء ای اشد طلبا فی ھذا الوقت والصق بہ لم ینتف استنانہ فی غیر الوضوء وعلی الثانی لاوجہ للثانی ولا للاول فضلا عن کون احدھما اظھر من الاخر۔
والعجب من البحر صاحب البحرانہ جعل الاولی کون وقتہ عند المضمضۃ لاقبل الوضوء وتبع الزیلعی فی ان الجر اظھر لیفید ان الابتداء بہ سنۃ نبہ علیہ اخوہ
نکلتاہے۱۲م)بطرزِ دیگر تمام احوال کے برابر ہونے سے کیا مراد ہے (۱)یہ کہ کسی حال میں مسواك کی ایسی کوئی خصوصیت نہیں جس کے باعث وہ دوسرے حال میں مسنون نہ رہ جائے (۲)یا احوال کے لحاظ سے تشکیك کی نفی مقصود ہے اس طرح کہ مسواك کابعض احوال سے تعلق بعض دیگر سے زیادہ نہ ہو۔ اگرتقدیراول مراد ہے تولفظ السواك کے رفع کوزیادہ ظاہرکہنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ کیونکہ مسواك اگر ابتدائے وضو میں سنت ہو۔ یعنی اس وقت میں اس کا مطالبہ اوراس سے اس کا تعلق زیادہ ہو۔ تواس سے غیر وضو میں اس کی مسنونیت کی نفی نہیں ہوتی۔ برتقدیر دوم نہ ترکیب ثانی کی کوئی وجہ رہ جاتی ہے نہ ترکیب اوّل کی کسی ایك کادوسری سے زیادہ ظاہر ہوناتودرکنار۔ (کیونکہ تمام احوال کے برابر ہونے کا مطلب جب یہ ٹھہراکہ کسی بھی حال سے اس کا تعلق دوسرے سے زیادہ نہیں ، تو نہ یہ کہنے کی کوئی وجہ رہی کہ ابتدائے وضومیں سنت ہے نہ یہ ماننے کی وجہ رہی کہ وضو میں مطلقًا سنّت ہے۱۲م)
اور صاحبِ بحر پرتعجب ہے کہ ایك طرف توانہوں نے یہ ماناہے کہ وقت مسواك حالتِ مضمضہ میں ہونااولٰی ہے قبلِ وضونہیں ، اوردوسری طرف انہوں نے کنز میں لفظ السواك کاجرزیادہ ظاہر ماننے میں امام زیلعی کی پیروی بھی کرلی ہے جس کا مفادیہ ہے مسواك وضو کے
فی النھر رحمھم الله تعالی جمیعا۔
اما تعلیل الفتح ان لاسنیۃ دون المواظبۃ[4]ولم تثبت عند الوضوء۔
اقول : الدلیل فــــ۱ اعم من الدعوی فان المقصود نفی الاستنان للوضوء والدلیل نفی کونہ من السنن الداخلۃ فیہ فلم لایختار کونہ سنۃ قبلیۃ للوضوء۔
شروع میں ہوناسنّت ہے۔ اس پر ان کے برادر نے النہر الفائق میں تنبیہ کی ، رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیجمیعا۔
اب رہی فتح القدیر کی یہ تعلیل کہ بغیر مداومت کے سنّیت ثابت نہیں ہوتی اور وقتِ وضو مداومت ثابت نہیں ۔
اقول : دلیل دعوی سے اعم ہے ، اس لئے کہ مدعایہ ہے کہ مسواك وضو کے لئے سنت نہیں ۔ اور دلیل یہ ہے کہ مسواکوضو کے اندر سنت نہیں ۔ توکیوں نہ یہ اختیارکیاجائے کہ مسواك وضو کی سنتِ قبلیہ ہے(یعنی وضو کے اندر تو نہیں مگر اس سے پہلے مسواك کرلینا سنتِ وضو ہے۱۲م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع