دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

حدیث سوم سنن بیہقی میں ہے :

عن عبدالله بن المثنی قال حدثنی بعض اھل بیتی عن انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ ان رجلا من الانصار من بنی عمرو بن عوف قال یا رسول الله انك رغبتنا فی السواك فھل دون ذلك من شیئ قال اصبعك سواك عند وضوء ک                                               

عبدالله بن المثنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیان کیاکہ حضرت انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ بنی عمرو بن عوف سے ایك انصاری نے عرض کی یارسول اللہ! حضورنے مسواك کی طرف ہمیں ترغیب فرمائی کیااس کے سوابھی کوئی صورت ہے؟ فرمایا : وضوکے وقت تیری انگلی مسواك ہے کہ

تمر بھا علی اسنانك انہ لاعمل لمن لانیۃ لہ ولا اجر لمن لاخشیۃ لہ [1]۔

اپنے دانتوں پرپھیرے ، بیشك بے نیت کے کوئی عمل نہیں اوربے خوف الہٰی کے ثواب نہیں ۔

اقول : اولًا یہ حدیث ضعیف ہے لما تری من الجہالۃ فی سندہ وقد ضعفہ البیہقی۔ (جیساکہ تو دیکھتا ہے اس کی سند میں جہالت ہے ، اور امام بیہقی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ت)

ثانیا و ثالثًا لفظ عند وضوء ك میں وہی مباحث ہیں کہ گزرے۔

حدیث چہارم ایك حدیث مرسل میں ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

الوضوء شطر الایمان والسواك شطر الوضوء رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ[2]عن حسان بن عطیۃ و رستۃ فی کتاب الایمان عنہ بلفظ السواك نصف الوضوء والوضوء نصف الایمان[3] ۔

وضوایمان کا حصّہ ہے اور مسواك وضوکاحصہ ہے۔ اس کو ابوبکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ، اور رستہ نے اس کو ان سے کتاب الایمان میں ان الفاظ سے روایت کیاکہ : مسواك نصف وضو ہے اور وضونصف ایمان۔ (ت)

اقول : یعنی ایمان بے وضو کامل نہیں ہوتا اور وضو بے مسواک۔ اس سے مسواك کا داخل وضو ہونا ثابت نہیں ہوتا جس طرح وضو داخل ایمان نہیں ہاں وجہ تکمیل ہونا مفہوم ہوتا ہے وہ ہر سنت کیلئے حاصل ہے قبلیہ ہو یا بعدیہ جس طرح صبح و ظہر کی سنتیں فرضوں کی مکمل ہیں والله تعالٰی اعلم۔

ثالثا اقول : جب محقق ہو لیا کہ مسواك سنّت ہے اور ہمارے علما اُسے سنّتِ وضو مانتے اور شافعیہ کے ساتھ اپنا خلاف یونہی نقل فرماتے ہیں کہ اُن کے نزدیك سنّتِ نماز ہے اور ہمارے نزدیك سنّتِ وضو اور متون مذہب قاطبۃًیك زبان یك زبان صریح فرمارہے ہیں کہ مسواك سننِ وضو سے ہے تو اُس سے عدول کی کیا وجہ ہے ، سنّتِ شے قبلیہ ہوتی ہے یا بعدیہ یا داخلہ جیسے رکوع میں تسویہ ظہر۔ مگر روشن بیانوں سے ثابت ہواکہ مسواك وضو کی سنت داخلہ نہیں کہ سنت بے مواظبت نہیں اور وضو کرتے میں مسواك فرمانے پر مداومت درکنار اصلا ثبوت ہی نہیں اور سنت بعدیہ نہ کوئی مانتا ہے نہ اس کا محل ہے کہ مسواك سے خون نکلے تو وضو بھی جائے۔ بحرالرائق میں ہے :

وعلله السراج الھندی فی شرح الھدایۃ بانہ اذا استاك للصلاۃ ربما یخرج منہ دم وھو نجس بالاجماع وان لم یکن ناقضا عندالشافعی رضی الله تعالی عنہ[4] ۔

اور سراج ہندی نے اپنی شرح ہدایہ میں اس کی علّت یہ بیان فرمائی کہ جب نماز کے لئے وضوکرے گاتوبعض اوقات اس سے خون نکل جائے گا۔ اوریہ بالاجماع نجس ہے اگرچہ امام شافعی کے نزدیك ناقضِ وضو نہیں ۔ (ت)

لاجرم ثابت ہواکہ سنت قبلیہ ہے اوریہی مطلوب تھااورخود حدیث صحیح مسلم اس کی طرف ناظر ، اورحدیث ابی داؤد اس میں نص ۔

کما تقدم اما تعلیل التبیین عدم استنانہ فی الوضوء بانہ لایختص بہ ۔

اقول :  اولا لا یلزم فــــ۱ لسنۃ الشیئ الاختصاص بہ الا تری ان ترك اللغوسنۃ مطلقا ویتأکد استنانہ للصائم والمحرم والمعتکف والتسمیۃ کمالا تختص بالوضوء لاتختص بالاکل ولا یسوغ انکار انھا سنۃ للاکل ، وثانیا اذا فـــــ۲ واظب النبی صلی الله علیہ وسلم علی شیئ فی شیئین فہل یکون ذلك سنۃ فیہما او فی احدھما اولا فی شیئ منھما الثالث      

جیسا کہ گزرا ، مگر تبیین میں مسواك کے سنتِ وضونہ ہونے کی علّت یہ بتانا کہ مسواك وضو کے ساتھ خاص نہیں ۔ (ت)

اقول : اس پر اوّلا یہ کلام ہے کہ سنّتِ شَے ہونے کے لئے یہ لازم نہیں کہ اس شَے کے ساتھ خاص بھی ہو۔ دیکھئے ترك لغومطلقًا سنت ہے اورروزہ درا ، صاحبِ احرام اورمعتکف کے لئے اس کامسنون ہونااورمؤکّد ہو جاتاہے۔ اورتسمیہ جیسے وضو کے ساتھ خاص نہیں کھانے کے ساتھ بھی خاص نہیں مگر تسمیہ کے کھانے کی سنت ہونے سے انکارکی گنجائش نہیں ۔ دوسرا کلام یہ ہے کہ جب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکسی عمل پردوچیزوں کے اندر مواظبت فرمائیں تووہ ان دونوں میں سنت ہوگا یاایك میں ہوگایاکسی میں نہ ہوگا۔ تیسری

فــــ۱ : تطفل علی الامام الزیلعی ۔                                              فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔

باطل و الا یختلف المحدود مع صدق الحد وکذا الثانی مع علاوۃ الترجیح بلا مرجح فتعین الاول وثبت ان الاختصاص لایلزم الاستنان۔

اما ما فی عمدۃ القاری اختلف العلماء فیہ فقال بعضھم انہ من سنۃ الوضوء وقال اخرون انہ من سنۃ الصلاۃ وقال اخرون انہ من سنۃ الدین وھو الاقوی نقل ذلك عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ[5] اھ ذکرہ فی باب السواك من ابواب الوضوء زاد فی باب السواك یوم الجمعۃ ان المنقول عن ابی حنیفۃ انہ من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال [6] اھ۔  

اقول :  یؤیدہ حدیث الدیلمی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم السواك سنۃ فاستاکوا ای وقت شئتم[7] ۔                   

شق باطل ہے ورنہ لازم آئے گا کہ تعریف صادق ہے اور مُعَرَّف صادق ہی نہیں ۔ یہی خرابی دوسری شق میں بھی لازم آئے گی ، مزیدبرآں ترجیح بلامرجّح بھی۔ توپہلی شق متعین ہوگئی اورثابت ہوگیا کہ سنت ہونے کے لئے خاص ہونا لازم نہیں ۔

 



[1]   السنن الکبری کتاب الطہارۃ ، باب الاستیاک بالاصابع دارصادربیروت ۱ / ۴۱

[2]   المصنّف لابن ابی شیبہ ماذکر فی السواک حدیث ۱۸۰۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۷

[3]   الجامع الصغیر(للسیوطی ) بحوالہ رستۃ حدیث ۴۸۳۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۹۷

[4]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰

[5]   عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء ، باب السواک تحت حدیث ۲۴۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۷۴ 

[6]   عمدۃ القاری شرح صح

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن