دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

والطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن علی [1] وفی الکبیر عن تمام بن العباس [2] وابن جریر عن زید بن خالد [3]رضی الله تعالی عنہم اجمین۔                                 ہر وضو کے ساتھ یا ہر وضوکے وقت ۔ اسے امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد ، نسائی ، ابن خزیمہ ، ابن حبان ، حاکم اوربیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے ۔

اور طبرانی نے معجم اوسط میں بسندِ حسن حضرت علی سے ۔ اورمعجم کبیر میں تمام بن عباس سے۔ اور ابن جریرنے زید بن خالد سے روایت کی۔ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماجمعین۔ (ت)

جب روایات متواترہ میں عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ آنے سے ہمارے ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے نزدیك نماز سے اتصال بھی ثابت نہ ہوا بلکہ اتصال حقیقی اصلا کسی کا قول نہیں حتی کہ شافعیہ جو اُسے سننِ نماز سے مانتے ہیں تو بعض روایات میں عند کل وضوء آنے سے داخل وضو ہوناکیونکر رنگ ثبوت پائے گا۔

فلیست فــــ عند لجعل مدخولہاظرفا لموصوفہا بحیث یقع فیہ انما مفادھا القرب والحضور حسا اومعنی فلا تقول زید عند الدار اذا کان فیہا بل اذا کان قریبا منھا والقرب المفہوم ھو العرفی دون الحقیقی ولہ عرض عریض الاتری الی قولہ تعالی

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ(۱۵) [4] مع ان السدرۃ فی السماء السادسۃ کما فی صحیح مسلم عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ[5] والجنۃ فوق السمٰوٰت ۔

وبما قررنا ظھرضعف ماوقع فی عمدۃ القاری تحت الحدیث فیہ اباحۃ السواك فی المسجد لان عند یقتضی الظرفیۃ حقیقۃ فیقتضی استحبابہ فی کل صلاۃ وعند بعض المالکیۃ

کیونکہ لفظ “ عند “ یہ بتانے کے لئے نہیں کہ اس کا مدخول اس کے موصوف کاایساظرف ہے کہ وہ اسی کے اندرواقع ہے بلکہ اس کا مفاد صرف قریب اور حاضرہوناہے حسًّا یا معنًی۔ زید عندالدار(زید گھر کے پاس ہے)اُس وقت نہیں بولتے جب زید گھر کے اندر ہو بلکہ اس وقت بولتے ہیں جب گھر سے قریب ہو۔ اوریہاں جو قریب سمجھاجاتاہے وہ عرفی ہوتاہے حقیقی نہیں ہوتا۔ اور قرب عرفی کا میدان بہت وسیع ہے۔ دیکھئے باری تعالٰی کا ارشاد ہے : “ سدرۃ المنتہٰی کے پاس ، اسی کے پاس جنۃ الماوٰی ہے “ ۔ حالاں کہ سدرہ چھٹے آسمان میں ہے۔ جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے۔ اور جنت آسمانوں کے اوپرہے۔

ہماری اس تقریر سے اس کا ضُعف واضح ہوگیاجوعمدۃ القاری میں اس حدیث کے تحت رقم ہوگیاکہ : اس سے مسجد کے اندرمسواك کرنے کا جواز ثابت ہوتاہے ، اس لئے کہ “ عند “ حقیقۃً ظرفیت چاہتاہے تواس کا تقاضایہ ہوگاکہ مسواك ہرنمازکے اندرمستحب ہو۔ اور بعض مالکیہ

فـــ : بیان مفاد عند۔

کراھتہ فی المسجد لاستقذارہ والمسجد ینزہ عنہ[6] اھ۔

اقول اولا : فــــ۱حقیقۃالظرفیۃغیر معقولۃ فی الصّلوٰۃ ولا ھی مفاد عند کما علمت۔

وثانیا :  قد قال فـــــ۲الامام العینی نفسہ قبل ھذا بورقۃ مانصہ فان قلت کیف التوفیق بین روایۃ عند کل وضوء وروایۃ عند کل صلاۃ قلت السواك الواقع عند الوضوء واقع للصلاۃ لان الوضوء شرع لہا [7] اھ۔

وثالثا :  کیف فـــــ۳ یباح الاستیاك فـــــ۴  فی المسجد مع حرمۃ المضمضۃ والتفل فیہ والسواك یستعمل مبلولا ویستخرج الرطوبات فلا یؤمن ان یقطر منھا شیئ وکل ذلك لایجوز فی المسجد الا ان یکون فی اناء اوموضع فیہ                                              کے نزدیك یہ ہے کہ مسجد میں مسواك کرنامکروہ ہے کیونکہ اس سے گندگی ہوگی اور مسجدکواس سے بچایاجائے گااھ۔

اقول : ا س پرچند کلام ہیں ، اول نماز کے اندرحقیقی ظرفیت کا تصورنہیں ہوسکتااوریہ “ عند “ کا مفاد بھی نہیں جیساکہ ابھی واضح ہوا۔

دوم : اس سے ایك ورق پہلے خود امام عینی یہ لکھ چکے ہیں : اگرسوال ہوکہ عندکل وضوء کی روایت اور عند کل صلوٰۃ کی روایت میں تطبیق کیسے ہوگی؟ تومیں کہوں گا : وضو کے وقت ہونے والی مسواك نماز کے لئے بھی واقع ہے اس لئے کہ وضو نماز ہی کے لئے مشروع ہواہے اھ۔

سوم : مسجدمیں مسواك کرنا ، جائزکیسے ہوگا جب اس میں کُلی کرنااور تھوکناحرام ہے ۔ اورمسواك ترکرکے استعمال ہوتی ہے اورمنہ سے رطوبتیں بھی نکالتی ہے جن میں سے کچھ مسجد میں ٹپکنے کابھی اندیشہ ہے اور یہ سب مسجد میں جائز نہیں مگریہ کہ کسی برتن کے اندر ہویا کوئی ایسی جگہ ہو

فـــــ۱ : تطفل علی الامام العینی ۔                                                          فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔                                         فـــــ۳ : تطفل ثالث علیہ ۔

فــــ۴ : مسئلہ : مسجد میں مسواك کرنی نہ چاہیے ۔ مسجد میں کلی کرناحرام مگریہ کہ کسی برتن میں یابانی مسجد نے وقت بنا ئے مسجداس میں کوئی جگہ خاص اس کام کے لےے بنادی ہوورنہ اجازت نہیں ۔

معد لذلك من حین البناء کما بیناہ فی فتاوٰنا۔

و رابعا :  ما ذکرہ فــــ۱لیس قول بعض المالکیۃ بل قول امام دارالھجرۃنفسہ حکاہ عند القرطبی فی المفھم کما فی المواھب اللدنیۃ۔

جو تعمیر مسجدکے وقت ہی سے اسی لئے بنارکھی گئی ہو۔ جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے۔

چہارم : جو انہوں نے ذکرکیا وہ بعض مالکیہ کاقول نہیں بلکہ خودامام دارالہجرۃ کا قول ہے ان سے قرطبی نے المفہم میں اس کی حکایت کی ہے ، جیساکہ مواہب لدنیہ میں ہے۔

ثانیا عند الوضوء فــــ۲میں خصوصیت وقت مضمضہ بھی نہیں تو حدیث اگر بوجہ عدم افادہ مواظبت سنیت ثابت نہ کرے گی بوجہ عدم تعین وقت استحباب عند المضمضہ بھی نہ بتائے گی فافھم

حدیث دوم طبرانی اوسط میں ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتےہیں :

ان العبداذا غسل رجلیہ خرجت خطایاہ واذا غسل وجہہ وتمضمض وتشوص واستنشق ومسح براسہ خرجت خطایا سمعہ وبصرہ و لسانہ واذا غسل ذراعیہ وقدمیہ کان کیوم ولدتہ امہ [8]۔

 



[1]   المعجم الاوسط حدیث ۱۲۶۰ مکتبۃ المعارف بیروت ۲ / ۱۳۸

[2]   المعجم الکبیر حدیث ۱۳۰۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ / ۶۴

[3]   کنزالعمال بحوالہ ابن جریر عن زید بن خالد حدیث ۲۶۱۹۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن