30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر سوال ہو آپ نے یہ قیدکیوں لگائی کہ “ اوربروقت اس کے پاس مسواك موجودنہیں “ ۔ حالانکہ سرکار کی یہ حدیث موجود ہے کہ “ انگلیاں مسواك کی جگہ کافی ہیں “ ۔ اسے ابن عدی ، دارقطنی ، بیہقی نے اورضیاء مقدسی نے مختارہ میں حضرت انس سے روایت کیا ، اس کی سند سے متعلق ضیاء نے کہا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اھ۔ ابن عدی اور بیہقی نے اسے ضعیف کہا۔ اور امام بخاری نے اس حدیث کے حضرت انس سے روایت کرنے والے شخص عبدالحکم قسملی کو منکر الحدیث کہا۔ اورتقریب میں اسے ضعیف کہا ۔ اور بیہقی نے ایك اور سند سے اس کو روایت کیا اور اسے غیرمحفوظ کہا۔ اوراس کے ہم معنی طبرانی ، ابن عدی اورابونعیم
فــــ : تضعیف عبد الحکم القسملی۔
اخر وقال غیر محفوظ و نحوہ للطبرانی وابن عدی وابی نعیم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا۔
قلت روی ابو نعیم فی کتاب السواك عن عمرو بن عوف المزنی رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الاصابع تجزئ مجزی السواك اذا لم یکن سواک١[1] وقد اطبق فــــ علماؤنا علی ھذا التقیید قال فی الحلیۃ لا یقوم الاصبع مقام السواك عند وجودہ فان لم یوجد یقم مقامہ ذکرہ فی الکافی وغیرہ یعنی ینال ثوابہ کما ذکرہ فی الخلاصہ [2]اھ وفی الغنیۃ لاتقوم الاصبع مقام العود عند وجودہ وتجویز بعض الشافعیۃ اصبع الغیر دون اصبع نفسہ تحکم بلا دلیل اھ [3]وفی الہندیۃ عن المحیط والظھیریۃ
نے حضرت ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کی ہے۔
میں کہوں گا ابونعیم نے کتاب السواك میں حضرت عمر وبن عوف مزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : انگلیاں مسواك کی جگہ کافی ہوں گی جب مسواك نہ ہو۔ اور اس تقیید پر ہمارے علماء کا اتفاق ہے۔ حلیہ میں ہے کہ : مسواك موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی ، اور موجود نہیں ہے تواس کے قائم مقام ہوجائے گی۔ اسے کافی وغیرہ میں ذکرکیا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ مسواك کا ثواب مل جائے گا جیسا کہ خلاصہ میں ذکرکیا ہے اھ۔ اورغنیہ میں ہے کہ لکڑی موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہ ہوسکے گی۔ اور بعض شافعیہ کایہ کہنا کہ دوسرے کی انگلی بھی اپنی انگلی کی جگہ رواہے بلادلیل اور زبردستی کاحکم ہے اھ۔ ہندیہ میں محیط اور
فــــ : مسئلہ : مسواك موجود ہوتو انگلی سے دانت مانجنا ادائے سنت و حصول ثواب کے لئے کافی نہیں ۔ ہاں مسواك نہ ہو تو انگلی یا کھر کھرا کپڑا ادائے سنت کردے گا اور عورتوں کے لئے مسواك موجود ہو جب بھی مسّی کافی ہے۔
لاتقوم الاصبع مقام الخشبۃ فان لم توجد فحینئذ تقوم الاصبع من یمینہ مقام الخشبۃ [4]اھ وفی الدر عند فقدہ اوفقد اسنانہ تقوم الخرقۃ الخشنۃ اوالاصبع مقامہ کما یقوم العلك مقامہ للمراۃ مع القدرۃ علیہ [5] اھ وھو ماخوذ من البحر و زاد فیہ تقوم فی تحصیل الثواب لاعند وجودہ [6]اھ
ظہیریہ سے نقل ہے کہ انگلی ، لکڑی کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ اگرمسواك موجودنہیں ہے تو داہنے ہاتھ کی انگلی اس کے قائم مقام ہوجائے گی۔ اھ۔ درمختارمیں ہے : مسواك نہ ہویا دانت نہ ہوں توکُھردرا کپڑا یا انگلی مسواك کے قائم مقام ہوجائے گی۔ جیسے عورت کو مسواك کی قدرت ہو جب بھی مسّی اس کے قائم مقام ہوجائے گی اھ۔ یہ کلام ، بحر سے ماخوذ ہے اور بحر میں مزیدیہ بھی ہے کہ انگلی تحصیلِ ثواب میں مسواك کے قائم مقام ہوجائے گی اور مسواك موجود ہوتونہیں اھ۔ (ت)
امام زیلعی نے قول اول اختیار فرمایا کما سیاتی نقلہ (جیساکہ اسکی نقل آئیگی۔ ت) اور امام ابن امیر الحاج کے کلام سے اسکی ترجیح مفاد۔
حیث قال فی اٰداب الوضوء تحت قول المنیۃ وان یستاك بالسواك ان کان والا فبالاصبع کون الادب فی فعلہ ان یکون فی حالۃ المضمضۃ علی قول بعض المشائخ[7] اھ
اس طرح کہ انہوں نے آدابِ وضوکے بیان میں منیہ کی عبارت وان یستاك بالسواک(اور یہ کہ مسواك سے صفائی کرے) کے تحت فرمایا : اگر مسواك موجود ہوورنہ انگلی سے۔ بعض مشائخ کے قول پراس کے استعمال میں مستحب یہ ہے کہ کُلی کرتے وقت ہو۔ اھ۔ (ت)
جس کا مفاد فــــ یہ ہے کہ اکثر علما قولِ اول پر ہیں ، علامہ حسن شرنبلالی شرح وہبانیہ میں فرماتے ہیں :
فـــ : ھذا قول بعض المشائخ مفادہ ان اکثرھم علی خلافہ۔
قولہ واعتاقہ بعض الائمۃ ینکر مفھومہ ان اکثر الائمۃ یجوّز [8]۔ “
بعض ائمہ اس کی آزادی کا انکارکرتے ہیں “ ۔ اس کامفہوم یہ ہے کہ اکثر ائمہ جائز کہتے ہیں ۔ (ت)
اور یہ کہ قول فـــــ دوم نامعتمد ہے ، ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ میں ہے :
قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف المعتمد [9]۔
“ بعض کے نزدیك حرج نہیں “ یہ کہہ کرانہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیاکہ یہ قول خلافِ معتمدہے۔ (ت)
اور بحرالرائق میں دوم کو قولِ اکثر بتایا اور بہتر ٹھہرایا اور اُسی کے اتباع سے دُر مختار میں تضعیف اوّل کی طرف اشارہ کیا ، نہایہ وعنایہ وفتح میں دوم پر اقتصار فرمایا نہایہ وہندیہ میں ہے :
الاستیاك ھو وقت المضمضۃ [10]۔
مسواك کرنا وقتِ مضمضہ ہے ۔ (ت)
عنایہ میں ہے :
[1] کنزالعمال بحوالہ ابو نعیم1فی کتاب السواک ، حدیث ۲۶۱۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۱
[2] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[3] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہورص۳۳
[4] الفتاوی الہندیۃ ، کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوء ، الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷
[5] الدرالمختارکتاب الطہارۃ ، سنن الوضوءمطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۱
[6] بحرالرائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوءایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱
[7] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[8] شرح الوہبانیہ
[9] رد المحتار کتاب الصلوٰۃ ، فصل(فی بیان تألیف الصلوٰۃ الی انتہائہا) دار احیاء التراث العربی بیروت $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع