30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قلت نعم فــــ ارسل ھنا
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اس ارشاد کے کہ “ جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ پانی سے استنجا نہ کرتے تھے تو صحیح معتمد یہ ہے کہ پتھر کے ذریعہ استنجا سے بھی طہارت ہوجاتی ہے جب کہ نجاست قدر درہم سے زیادہ مخرج سے تجاوزنہ کرے ، جیسا کہ ردالمحتارپرمیں نے اپنے حواشی میں بیان کیا ہے تواحتمالِ نجاست پیدا کرنے اور نہ کرنے میں پانی سے استنجا کرنے اور نہ کرنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں ۔
قلت(میں کہوں گا)حدیث مسنونیت بتانے کے لئے ہے اور بدن میں نجاست متحقق ہونے کے وقت اس سنّت کامؤکدہونا مضمونِ کلام سے معلوم ہوا۔
اگرسوال ہو کہ محقق صاحبِ بحر ، البحرالرائق میں یہ لکھتے کہ : واضح ہوکہ دونوں ہاتھ دھونے سے ابتدأ واجب ہے جب ہاتھوں میں نجاست ثابت ہواور ابتدائے وضوکے وقت سنّت ہے ، اور احتمالِ نجاست کے وقت سنّتِ مؤکدہ ہے جیسے نیند سے اٹھنے کے وقت اھ۔ تو یہ عبارت اس بارے میں نص ہے کہ ہر نیند اس عمل کے سنّتِ مؤکدہ ہونے کاسبب ہے۔
میں کہوں گا ہاں یہاں پرانہوں نے
فــــ : تطفل علی البحر۔
ماابان تقییدہ بعداسطراذیقول علم بماقررناہ ان ما فی شرح المجمع من ان السنۃ فی غسل الیدین للمستیقظ مقیدۃ بان یکون نام غیرمستنج اوکان علی بدنہ نجاسۃ حتی لولم یکن کذلك لایسن فی حقہ ضعیف او المراد نفی السنۃ المؤکدۃ لااصلہا [1] اھ لاجرم ان قال فی الحلیۃ ھو مع الاستیقاظ اذاتوھم النجاسۃ اکد [2] اھ فلم یجعل کل نوم محل توھم۔
اقول : وھو معنی قول الفتح قیل سنۃ مطلقا للمستیقظ وغیرہ وھوالاولی نعم مع الاستیقاظ و توھم النجاسۃ السنۃ اٰکد [3]اھ فاراد بالواو الاجتماع لترتّب الحکم لامجرد التشریك فی ترتبہ وان کان کلامہ مطلقافی المستیقظ وغیرہ
مطلق رکھا مگر چند سطروں کے بعد اس کی قید واضح کردی ہے ، آگے وہ فرماتے ہیں : ہماری تقریرسابق سے معلوم ہواکہ شرح مجمع میں جولکھا ہے کہ “ نیند سے اٹھنے والے کے لئے دونوں ہاتھ دھونے کامسنون ہونا اس قید سے مقید ہے کہ بغیر استنجاسویا ہویاسوتے وقت اس کے بدن پر کوئی نجاست رہی ہویہاں تك کہ اگر یہ حالت نہ ہو تو اس کے حق میں سنّت نہیں ہے “ ۔ (شرح مجمع کایہ قول)ضعیف ہے۔ یااس سے مرادیہ ہوکہ سنّتِ مؤکدہ نہیں ہے ، یہ نہیں کہ سرے سے سنّت ہی نہیں اھ۔ یہی وجہ ہے کہ حلیہ میں کہا : نیندسے اٹھنے کے وقت جب احتمالِ نجاست ہوتو یہ زیادہ مؤکد ہے اھ۔ توانہوں نے ہرنیند کو محلِ احتمال نہ ٹھہرایا۔
اقول : یہی فتح القدیر کی اس عبارت کابھی معنی ہے کہ : کہاگیانیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے لئے یہ مطلقا سنت ہے اور یہی قول اولٰی ہے ، ہاں نیند سے اٹھنے اورنجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنّت زیادہ مؤکد ہے اھ۔ واؤ(اور) سے ان کی مراد یہ ہے کہ نیند سے اٹھنااور نجاست کااحتمال ہونادونوں باتیں جمع ہوں توسنت مؤکدہ ہے یہ مراد نہیں کہ نیند سے اٹھے
والتوھم غیرمختص بالمستیقظ علی ان السنن الغیرالمؤکدۃ بعضھااٰکد من بعض فافھم۔
جب بھی سنّتِ مؤکدہ اور احتمالِ نجاست ہوجب بھی سُنّتِ مؤکدہ اگرچہ ان کا کلام نیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے حق میں مطلق ہے اور احتمال نجاست ہونا نیند سے اٹھنے والے ہی کے لئے خاص نہیں ۔ علاوہ ازیں سُننِ غیر مؤکدہ میں بعض سنّتیں بعض دیگر کی بہ نسبت زیادہ مؤکدہوتی ہیں ۔ تو اسے سمجھو۔
(۴) اقول : اگرچہ فــــ مسواك ہمارے نزدیك سنّتِ وضوہے خلافاللامام الشافعی رضی الله تعالٰی عنہ فعندہ سنۃ الصلاۃ کمافی البحر وغیرہ (بخلاف امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کہ ان کے نزدیك سنّت نمازہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ ت) ولہٰذا جو ایك وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کیلئے مسواك کرنا مطلوب نہیں جب تك منہ میں کسی وجہ سے تغیر نہ آگیا ہو کہ اب اس دفع تغیر کیلئے مستقل سنّت ہوگی ، ہاں وضوبے مسواك کرلیا ہو تو اب پیش از نماز کرلے کما فی الدروغیرہ (جیساکہ در وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اُس کے وقت فــــ۲ میں ہمارے یہاں اختلاف ہے بدائع وغیرہ معتمدات میں قبل وضو فرمایااور مبسوط وغیرہ معتبرات میں وقت مضمضہ یعنی وضو میں کُلّی کرتے وقت ۔ حلیہ میں ہے :
وقت استعمالہ علی مافی روضۃ الناطفی والبدائع ونقلہ الزاھدی عن کفایۃ البیھقی والوسیلۃ والشفاء قبل الوضوء وربما یشھد
مسواك کے استعمال کاوقت قبل وضو ہے۔ ایسا ہی ر وضۃ الناطفی اور بدائع میں ہے اور زاہدی نے اسے کفایۃ البیہقی ، وسیلہ اورشفا سے نقل کیاہے۔ اوراس پرکچھ شہادت
فـــ۱ : مسئلہ : مسواك ہمارے نزدیك نماز کے لئے سنت نہیں بلکہ وضو کے لئے ، تو جو ایك وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کے لئے اس سے مسواك کامطالبہ نہیں جب تك منہ میں کوئی تغیر نہ آگیا ہو ہاں اگروضو بے مسواك کر لیاتھا تو اب وقت نماز مسواك کر لے ۔
فـــ۲ : مسواك کے وقت میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے کہ قبل وضو ہے یا وضو میں کلی کرتے وقت اوراس بارہ میں مصنف کی تحقیق ۔
لہ مافی صحیح مسلم عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما عن رسول الله تعالٰی علیہ وسلم انہ تسوك وتوضأ عــــہ ثم قام فصلی وفی سنن ابی داؤد عن عائشۃ رضی الله تعالٰی عنہاان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان لا یرقد من لیل ولا نھار فیستیقظ الا تسوك قبل ان یتوضأ وفی المحیط وتحفۃ الفقھاء وزادالفقہاء ومبسوط شیخ الاسلام محلۃ المضمضۃ تکمیلا للانقاء واخرج الطبرانی عن ایوب قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ استنشق ثلثا و تمضمض وادخل اصبعہ فی فمہ وھذا ربمایدل علی ان وقت الاستیاك حالۃ المضمضۃ فان الاستیاك بالاصبع بدل عن الاستیاك بالسواك والاصل کون الاشتغال بالبدل
صحیح مسلم کی اس حدیث سے ملتی ہے جو حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت فرمائی کہ سرکار نے مسواك کی اور وضو کیا پھر اٹھ کرنماز اداکی۔ اورسنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمدن یا رات میں جب بھی سوکربیدار ہوتے تو وضوکرنے سے پہلے مسواك کرتے۔ اورمحیط ، تحفۃ الفقہا ، زادالفقہا اور مبسوط شیخ الاسلام میں ہے کہ مسواك کاوقت کُلّی کرنے کی حالت میں ہے تاکہ صفائی مکمل ہو جائے ۔ اورطبرانی نے حضرت “ ایوب “ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب وضو فرماتے توتین بار ناك میں پانی لے جاتے اور کُلی کرتے اورانگلی منہ میں داخل کرتے۔ اس حدیث سے کچھ دلالت ہوتی ہے کہ مسواك کاوقت کُلی کرنے کی حالت میں ہے اس لئے کہ انگلی استعمال کرنامسواك استعمال کرنے کابدل ہے
عــــہ : ھکذاھو فی نسختی الحلیۃ بالواو والذی فی صحیح مسلم رجع فتسوك فتوضأ ثم قام فصلی[4]ولعلہ اظھردلالۃ علی المراد اھ
عــــہ : میرے نسخہ حلیہ میں اسی طرح وتوضّأ(اور وضوکیا) واؤ کے ساتھ ہے۔ اورصحیح مسلم میں یہ ہے رجع فتسوك فتوضأثم قام فصلی (لوٹ کرمسواك کی پھروضوکیاپھر اٹھ کرنمازادا کی) اورشاید دلالت مقصودمیں یہ زیادہ ظاہر ہے اھ۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع