30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲) ظاہر ہے کہ اگر بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ ہو جیسے حاجتِ غسل میں ران وغیرہ پر منی تو اس کی تطہیر کاپانی اس حساب میں نہیں اور یہیں سے ظاہر کہ بعد جماع اگر کپڑا نہ ملے تو پانی کہ اب استنجے کو درکار ہوگا معمول سے بہت زائد ہوگا۔
(۳)پیش ازاستنجاتین فــــ۱بار دونوں کلائیوں تك دھونا مطلقًا سنّت ہے اگرچہ سوتے سے نہ جاگا ہو یہ اُس سنّت سے جُداہے کہ وضو کی ابتدا میں تین تین بار ہاتھ دھوئے جاتے ہیں سنّت یوں ہے کہ تین بار ہاتھ دھو کر استنجا کرے پھر آغاز وضو میں باردیگر تین بار دھوئے پھر منہ فــــ۲ دھونے کے بعد جوہاتھ کہنیوں تك دھوئے گااُس میں ناخن دست سے کہنیوں کے اوپر تك دھوئے تو دونوں کفدست تین مرتبہ دھوئے جائیں گے ہر مرتبہ تین تین بار۔ اخیر کے دونوں داخل حساب وضو ہیں اور اوّل خارج ، ہاں اگر استنجا کرنا نہ ہوتو دو ہی مرتبہ تین تین بار دھونا رہے گا۔ درمختار میں ہے :
(سنتہ البداءۃ بغسل الیدین) الطاھرتین ثلثا قبل الاستنجاء وبعدہ وقیدالاستیقاظ اتفاقی (الی الرسغین جوھو) سنۃ (ینوب عن الفرض) ویسن غسلہماایضامع الذارعین [1] اھ ملتقطا۔
وضو کی سنت گٹوں تك دونوں پاك ہاتھوں کے دھونے سے ابتدا کرنا۔ تین بار استنجا سے پہلے اور اس کے بعدبھی۔ اور نیند سے اٹھنے کی قید ، اتفاقی ہے اور یہ ایسی سنت ہے جو فرض کی نیابت کردیتی ہے۔ اور کلائیوں کے ساتھ بھی ہاتھوں کو دھونامسنون ہے اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
خص المصنف بالمستیقظ تبرکابلفظ
مصنّف نے نیندسے اٹھنے والے کے ساتھ لفظ
فـــ۱ : مسئلہ : استنجے سے پہلے تین بار دونو ں ہاتھ کلائیوں تك دھونا سنت ہے اگرچہ سوتے سے نہ اٹھاہو ہاں سوتے سے جاٹھا اور بدن پر کوئی نجاست تھی توزیادہ تاکید یہاں تك کہ سنت مؤکدہ ہے۔
فـــ۲ : مسئلہ : وضو کی ابتداء میں جو دونوں ہاتھ کلائیوں تك تین تین بار دھوئے جاتے ہیں سنت یہ ہے کہ منہ دھونے کے بعد جوہاتھ دھوئے اس میں پھر دونوں کفدست کو شامل کرلے سر ناخن سے کہنیوں کے اوپر تك تین بار دھوئے۔
الحدیث والسنۃ تشمل المستیقظ وغیرہ وعلیہ الاکثرون اھ وفی النھر الاصح الذی علیہ الاکثر انہ سنۃ مطلقالکنہ عند توھم فــ النجاسۃ سنۃ مؤکدۃ کما اذا نام لاعن استنجاء اوکان علی بدنہ نجاسۃ وغیر مؤکدۃعند عدم توھمھا کما اذا نام لاعن شیئ من ذلك اولم یکن مستیقظا عن نوم اھ ونحوہ فی البحر [2]اھ۔
اقول : ووجہہ ان النجاسۃ اذا کانت متحققۃ کمن نام غیرمستنج واصابۃ الید فی النوم غیر معلومۃ کانت النجاسۃ متوھمۃ امااذا لم تکن نفسھا
حدیث سے برکت حاصل کرنے کے لئے کلام خاص کیا۔ اورسنت نیند سے اٹھنے والے کے لئے بھی اور اس کے علاوہ کے لئے بھی ہے۔ اسی پر اکثر حضرات ہیں اھ۔ النہرالفائق میں ہے : اصح جس پر اکثرہیں ، یہ ہے کہ وہ مطلقاسنت ہے لیکن نجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنتِ مؤکدہ ہے مثلًا بغیراستنجاکے سویاہو ، یاسوتے وقت اس کے بدن پرکوئی نجاست رہی ہو۔ اور نجاست کا احتمال نہ ہونے کی صورت میں سنّتِ غیر مؤکدہ ہےمثلًا ان میں سے کسی چیز کے بغیر سویا ہویانیند سے اٹھنے کی حالت نہ ہو۔ اھ۔ اسی کے ہم معنی بحر میں بھی ہے اھ
اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ نجاست جب متحقق ہے۔ جیسے اس کے لئے جوبغیراستنجاکے سویاہو۔ اورنیند میں نجاست پر ہاتھ کاپہنچنا معلوم نہیں ہے توہاتھ میں نجاست لگنے کا صرف احتمال ہے لیکن جب خودنجاست ہی
فـــــ : مسئلہ : بدن پر کوئی نجاست ہومثلاتر خارش ہے یازخم یاپھوڑا یا پیشاب کے بعد بے استنجاسورہا کہ پسینہ آکر تری پہنچنے کااحتمال ہے جب تو گٹوں تك ہاتھ پہلے دھونا سنت مؤکدہ ہے اگرچہ سویانہ ہو جب کہ ہاتھ کااس نجاست پر پہنچنا محتمل ہو اور اگر بدن پر نجاست نہیں تو ان کا دھونا سنت ہے مگر مؤکدہ نہیں اگرچہ سو کر اٹھاہو یوں ہی اگر نجاست ہے اوراس پر ہاتھ نہ پہنچنا معلوم ہے یعنی جاگ رہاہے اوریادہے کہ ہاتھ وہاں تك نہ پہنچے تواس صورت میں بھی سنت مؤکدہ نہیں ہاں سنت مطلقا ہے۔
متحققۃ فالتنجس بالاصابۃ توھم علی توھم فلا یورث تاکدالاستنان
فان قلت الیس ان النوم مظنۃ الانتشار و الانتشارمظنۃ الامذاء والغالب کالمتحقق فالنوم مطلقا محل التوھم۔
قلت بینا فی رسالتنا الاحکام والعلل ان الانتشار لیس مظنۃ الامذاء بمعنی المفضی الیہ غالبا وقد نص علیہ فی الحلیۃ
فان قلت انما علق فی الحدیث الحکم علی مطلق النوم وعلله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بقولہ فانمالایدری این باتت یدہ[3] والنوم لاعن استنجاء ان اریدبہ نفیہ مطلقا فمثلہ بعیدعن ذوی النظافۃ فضلاعن الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنھم وھم المخاطبون اولا بقولہ صلی الله تعالٰی
متحقق نہیں تو ہاتھ میں نجاست لگنے کااحتمال دراحتمال ہے اس لئے اس سے مسنونیت مؤکد نہ ہوگی۔
اگریہ سوال ہو کہ کیا ایسانہیں کہ نیند انتشارآلہ کا مظنّہ ہے ، اور انتشارمذی نکلنے کامظنّہ ہے۔ اور گمان غالب متحقق کاحکم رکھتا ہے تونیندمطلقًا احتمال نجاست کی جگہ ہے۔
میں کہوں گا ہم نے اپنے رسالہ “ الاحکام والعلل “ میں بیان کیا ہے کہ انتشار مذی نکلنے کا مظنہ اس معنی میں نہیں کہ یہ اکثر خروجِ مذی تك موصل ہوتاہے۔ حلیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
پھر اگر یہ سوال ہو کہ حدیث میں اس حکم کو مطلق نیندسے متعلق فرمایا ہے اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اس ارشاد سے اس کی علّت بیان فرمائی ہے کہ “ وہ نہیں جانتاکہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا “ ۔ اگریہ کہئے کہ لوگ بغیر استنجا کے سوتے تھے اس لئے یہ ارشاد ہوا تواس سے اگر یہ مراد ہے کہ مطلقًا استنجا ہی نہ کرتے تھے توایساتوہر صاحبِ نظافت سے بعید ہے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے تو اور زیادہ بعید ہے اور وہی حضرات اولین مخاطب ہیں
اذااستیقظ احدکم من نومہ[4] وان ارید خصوص الاستنجاء بالماء فالصحیح المعتمدان الاستنجاء بالحجر مطھراذا لم تتجاوزالنجاسۃ المخرج اکثرمن قدرالدرھم کمابینتہ فیما علقتہ علی ردالمحتارفلا یظھر فرق بین الاستنجاء بالماء وترکہ فی ایراث التوھم و عدمہ۔
قلت الحدیث لافادۃ الاستنان اماتاکدہ عند تحقق النجاسۃ فی البدن فبالفحوی ۔
فان قلت ھذا البحرقائلا فی البحراعلم ان الابتداء بغسل الیدین واجب اذاکانت النجاسۃ محققۃ فیھما وسنۃ عند ابتداء الوضوء وسنۃ مؤکدۃ عند توھم النجاسۃ کمااذا استیقظ من النوم [5] اھ فھذانص فی کون کل نوم موجب تاکداالاستنان۔
[1] الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰،۲۱
[2] ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۵
[3] سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ حدیث۲۴ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۰۰ ، سنن ابن ماجہ1ابواب الطہارۃ باب الرجل یستیقظ من منامہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲
[4] سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ حدیث ۲۴ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۰۰
[5] البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷ ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع