دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

امر سوم یہ صاع فـــ کس ناج کا تھاظاہرہے کہ ناج ہلکے بھاری ہیں جس پیمانے میں تین سیر جو آئیں گے گیہوں تین سیر سے زیادہ آئیں گے اور ماش اور بھی زائد ، ابو شجاع ثلجی نے صدقہ فطر میں ماش یا مسور کا پیمانہ لیا کہ ان کے دانے یکساں ہوتے ہیں تو اُن کا کیل و وزن برابر ہوگا بخلاف گندم یا جو کہ اُن میں بعض کے دانے ہلکے بعض کے بھاری ہوتے ہیں تو دو قسم کے گیہوں اگرچہ ایك ہی پیمانے سے لیں وزن میں مختلف ہوسکتے ہیں اور اسی طرح جو۔ دُرِّمختار میں اسی پر اقتصار کیا اور امام صدرالشریعۃ نے شرح وقایہ میں فرمایا کہ احوط کھرے گیہوں کا صاع ہے۔ اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں جو کا صاع احوط بتایا اور حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا :

ان الذی علیہ مشائخنابالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوا یفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر [1]۔

یعنی حرمِ مکہّ میں ہمارے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ اس پر ہیں کہ آٹھ رطل جَو سے صاع کا اندازہ کیا جائے اور اکابر اسی پر فتوٰی دیتے تھے۔ (ت)

اقول ظاہر ہے کہ صاع اُس ناج کا تھا جو اُس زمان برکت نشان میں عام طعام تھا اور معلوم ہے کہ وہاں عام طعام جو تھا گیہوں کی کثرت زمانہ امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی۔ حدیث ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں ہے :

لما کثرالطعام فی زمن معٰویۃ جعلوہ مدین من حنطۃ [2]۔

جب حضرت معاویہ کے زمانے میں طعام کی فراوانی ہوئی تواسے گیہوں کے دو مُدٹھہرائے (ت)

فـــ : مسئلہ : زیادہ احتیاط یہ ہے کہ صدقہ فطر وفدیہ روزہ ونماز وکفارہ  قسم وغیرہ میں نیم صاع گیہوں جوکے پیمانے سے دئیے جائیں یعنی جس برتن میں ایك سو چوالیس روپے بھر جوٹھیك ہموارسطح سے آجائیں کہ نہ اونچے رہیں نہ نیچے اس برتن بھرکرگیہووں کوایك صدقہ سمجھاجائے ہم نے تجربہ کیاپیمانہ نیم صاع جومیں بریلی کے سیرسے کہ سوروپیہ بھرکاہے اٹھنی بھراوپرپونے دوسیرگیہوں آتے ہیں فی کس اتنے دئیے جائیں ۔

شرح صحیح مسلم امام نووی میں ہے :

الطعام فی عرف اھل الحجاز اسم للحنطۃ خاصۃ [3]۔

طعام اہلِ حجاز کے عرف میں صرف گیہوں کانام ہے۔ (ت)

صحیح ابن خزیمہ میں عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے ہے :

قال لم تکن الصدقۃ علی عھد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الا التمرو الزیب والشعیر ولم تکن الحنطۃ [4]۔

فرمایا : رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں صدقہ کھجور ، خشك انگور او رجَو سے دیا جاتااور گیہوں نہ ہوتا۔

صحیح بخاری شریف میں ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے :

کان طعامنا یومئذ الشعیر الخ [5]

ہمارا طعام اس وقت جَو تھا۔ (ت)

اور اس سے قطع نظر بھی ہوتو شك نہیں کہ مُد وصاع کا اطلاق مُد وصاع شعیر کو بھی شامل ، تو اُس پر عمل ضرور اتباع حدیث کی حد میں داخل۔ فقیر نے ۲۷ ماہ مبارك رمضان ۲۷  کو نیم صاع شعیری کا تجربہ کیا جو ٹھیك چار طل جَو کا پیمانہ تھااُس میں گیہوں برابر ہموار مسطح بھر کر تولے تو ثمن رطل کو پانچ رطل آئے یعنی ایك سو چوالیس۱۴۴ روپے بھر جَوکی جگہ ایك سو پچھتر۱۷۵روپے آٹھ آنے بھر گیہوں کہ بریلی کے سیر سے اٹھنی بھر اوپر پَونے دو سیر ہوئے ، یہ محفوظ رکھنا چاہئے کہ صدقہ فطر وکفارات وفدیہ صوم وصلاۃ میں اسی اندازہ سے گیہوں اداکرنا احوط وانفع للفقراء ہے اگرچہ اصل مذہب پر بریلی کی تول سے چھ۶روپے بھر کم ڈیڑھ سیر گیہوں ہیں ۔ پھر اُسی پیمانے میں پانی بھر کر وزن کیا تو دو سو چودہ ۲۱۴ روپے بھر ایك دوانی کم آیا کہ کچھ کم چھ رطل ہوا تو تنہا وضو فـــــ۱ کا پانی رامپوری سیر سے تقریبًا آدھ پاؤ سیر ہوا اور باقی غسل کا قریب ساڑھے چار سیر کے ، اور مجموع غسل کا چھٹانك اوپر ساڑھے پانسیر

فــــ۱ : مسئلہ : تنہاوضوکامسنون پانی رامپوری سیرسے کہ چھیانوے روپے بھرکاہے تقریباآدھ پاؤ اوپر سیر بھر ہے اورباقی غسل کاساڑھے چارسیر کے قریب ، مجموع غسل کاچھٹانك اوپرساڑھے پانسیر سے کچھ زیادہ۔

سے کچھ زیادہ۔ یہ بحمد الله تعالٰی قریب قیاس ہے بخلاف اس کے اگر تنقیحات مذکورہ نہ مانی جائیں تو مجموع غسل کا پانی صرف تین سیر رہتا ہے اور امام ابو یوسف کے طور پر دوہی سیر ، اُسی میں وضو اُسی میں غسل اور ہر عضو پر تین تین بار پانی کا بہنا یہ سخت دشوار بلکہ بہت دُور ازکار ہے۔

 فائدہ : فـــ ۱ اُن پانیوں کے بیان میں جو اس حساب سے جُدا ہیں :

(۱) آبِ استنجاء ہمارے فـــ۲ علما نے وضو کی تقسیم یوں فرمائی ہے کہ آدمی موزوں پر مسح کرے اور استنجے کی حاجت نہ ہوتونیم مُدپانی کا فی ہے اور موزے اور استنجا دونوں ہوں یا دونوں نہ ہوں تو ایك مُد ، اور موزے نہ ہوں اور استنجا کرنا ہو تو ڈیڑھ مُد۔ حلیہ میں ہے :

روی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ فی الوضوء ان کان متخففا ولا یستنجی کفاہ رطل لغسل الوجہ والیدین ومسح الرأس والخفین وان کان یستنجی کفاہ رطلان رطل للاستنجاء ورطل للباقی وان لم یکن متخففا ویستنجی کفاہ ثلثۃ ارطال رطل للاستنجاء ورطل للقدمین ورطل للباقی [6]۔             

امام حسن بن زیادنے امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے وضو بارے میں روایت کی ہے کہ اگر موزے پہنے ہیں اوراستنجا نہیں کرنا ہے توچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے دھونے اور سر اور موزوں کے مسح کے لئے ایك رطل کافی ہے۔ اوراگر استنجابھی کرنا ہے تو دو رطل۔ ایك رطل استنجا کے لئے اور ایك رطل باقی کے لئے اوراگر موزے نہیں ہیں اوراستنجاکرنا ہے توتین رطل کفایت کریں گے ، ایك رطل استنجا کے لئے ایك رطل دونوں پاؤں کے لئے ، اورایك رطل باقی کے لئے۔ (ت)

فــــ۱ : مسئلہ : ان پانیوں کابیان جواس حساب کے علاوہ ہیں ۔

فــــ۲ : مسئلہ : حالات وضوپرمسنون پانی کے اختلافات اوریہ کہ استنجے کے لئے چھٹانك آدھ سیرپانی چاہئے۔

 



[1]   ردالمحتار ،کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر داراحیاء التراث العربی بیروت۲ / ۷۷

[2]   شرح معانی الآثار ،کتاب الزکوۃ باب مقدار صدقۃ الفطر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۲

[3]   شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الزکوۃ باب الامر باخراج زکوۃ الفطر الخ تحت حدیث ۲۲۵۳ دارالفکربیروت ۴ / ۲۷۳۲

[4]   صحیح ابن خزیمہ ، باب الدلیل علی ان الامر الخ حدیث ۲۴۰۶ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۸۵

[5]   صحیح البخاری کتاب الزکوۃ باب الصدقۃ قبل العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن