دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

ارطال [1]من دون شك ۔

اندازہ کیا۔ یعنی اس روایت میں بغیر شك کے ہے(ت)

اقول : ظاہر ہے فـــــ کہ پیمانے ناج کیلئے ہوتے ہیں پانی مکیل نہیں کہ اُس کیلئے کوئی مُدو صاع جُدا موضوع ہوں بل نص علماؤنا انہ قیمی فاذن لاھو مکیل ولا موزون۔ (بلکہ ہمارے علماء نے تو تصریح کی ہے کہ پانی قیمت والی چیزوں میں ہے جب تووہ نہ مکیل ہے نہ موزون۔ ت)تواندازہ نہ بتایاگیامگر انہیں مُدو صاع سے جو ناج کیلئے تھے اور کسی برتن سے پانی کا اندازہ بتایا جائے تو اُس سے یہی مفہوم ہوگا کہ اس بھر پانی نہ یہ کہ اس برتن میں جتنا ناج آئے اس کے وزن کے برابر پانی۔

وھذا ظاھر جدا فاندفع ماوقع للعلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوۃ حیث قال تحت حدیث انس کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع المراد بالمد والصاع وزنالا کیلا [2] اھ فھذا قیلہ من قبلہ لم یستند فیہ لدلیل ولا قیل لاحد قبلہ واسمعناك نصوص العلماء والحجۃ الزھراء۔  

فان قلت الیس قدقال انس رضی الله تعالٰی عنہ کان رسول الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ برطلین ویغتسل بالصاع [3]رواہ الامام الطحاوی

اور یہ بہت واضح ہے تو وہ خیال دفع ہوگیا جو علامہ علی قاری سے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں واقع ہواکہ انہوں نے حضرت انس کی حدیث “ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك مُد سے وضو فرماتے اور ایك صاع سے غسل فرماتے “ کے تحت لکھاکہ مُد اور صاع سے مراد اتنے وزن بھر پانی ہے اتنے ناپ بھر نہیں اھ۔ یہ ضعیف قول خو دان کا ہے جس پر نہ تو انہوں نے کسی دلیل سے استناد کیانہ اپنے پہلے کے کسی شخص کے قول سے استناد کیا۔ اورعلماء کے نصوص اور روشن دلیل ہم  پیش کرچکے۔

اگر سوال ہو کہ کیا حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ نہیں فرمایا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمدورطل سے وضو فرماتے اورایك صاع سے غسل فرماتے۔ اسے امام طحاوی نے روایت

فــــ : تطفل آخرعلیہ ۔

والرطل من الوزن۔

قلت المراد بالرطلین ھوالمدبدلیل حدیثہ المذکور سابقاوالاحادیث یفسر بعضہا بعضا بل قد اخرج الامام الطحاوی عنہ رضی الله تعالٰی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد وھو رطلان [4] فاتضح المراد وبھذا استدل ائمتنا علی ان الصاع ثمانیۃ ارطال ولذا قال الامام الطحاوی بعداخراجہ الحدیث الذی تمسکت بہ فی السؤال فھذا انس قد اخبر ان مد رسول الله صلی الله علیہ وسلم رطلان والصاع اربعۃ امداد فاذا ثبت ان المدرطلان ثبت ان الصاع ثمانیۃ ارطال [5] اھ فقد جعل معنی قولہ توضأ برطلین توضأ بالمد وھو رطلان کما افصح بہ فی الروایۃ الاخری علی ان الرطل مکیال ایضا کما نص علیہ فی المصباح المنیر [6]والله تعالی اعلم۔                                         

کیا۔ اوررطل ایك وزن ہے۔

 میں کہوں گا دو رطل سے وہی مُد مراد ہے ، جس پردلیل خود اُن ہی کی حدیث ہے جو پہلے ذکرہوئی۔ اور احادیث میں ایك کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے بلکہ امام طحاوی نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك مُد سے وضو فرماتے اور وہ دورطل ہے۔ تو مراد واضح ہوگئی۔ اور اسی سے ہمارے ائمہ نے صاع کے آٹھ رطل ہونے پراستدلال کیا ہے اور اسی لئے امام طحاوی نے سوال میں تمہاری پیش کردہ حدیث روایت کرنے کے بعدفرمایا : یہ حضرت انس ہیں جنہوں نے بتایا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا مُد دورطل تھااورصاع چار مُد کا ہوتا ہے توجب یہ ثابت ہوگیاکہ مُد دو رطل ہے تویہ بھی ثابت ہوا کہ صاع آٹھ رطل ہے اھ۔ تو امام طحاوی نے “ توضأ برطلین “ (دورطل سے وضو فرمایا) کا معنی یہ ٹھہرایا کہ توضأ بالمُدوھو رطلان (ایك مُد سے وضو فرمایا اور وہ دورطل ہے)جیسا کہ دوسری روایت میں اسے صاف بتایا۔ علاوہ ازیں رطل ایك پیمانہ بھی ہے جیساکہ مصباح منیر میں اس کی صراحت کی ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

امر دوم غسل میں کہ ایك صاع بھر پانی ہے اُس سے مراد مع اُس وضو کے ہے جو غسل میں کیا جاتا ہے یا وضو سے جدا امام اجل طحاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے معنی دوم پر تنصیص فرمائی اور وہ اکثر احادیث میں ایك صاع اور حدیث انس میں پانچ مُد ہے اُس میں یہ تطبیق دی کہ ایك مُد وضو کا اور ایك صاع بقیہ غسل کا ، یوں غسل میں پانچ مُد ہوئے ، حدیث انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیغتسل بخمس مکاکی روایت کرکے فرماتے ہیں :

یکون الذی کان یتؤضا بہ مدا ویکون الذی یغتسل بہ خمسۃ مکاکی یغتسل باربعۃ منھا وھی اربعۃ امداد وھی صاع ویتوضأ باخرو ھو مدفجمع فی ھذا الحدیث ماکان یتوضأ بہ للجنابۃ وما کان یغتسل بہ [7] لھا وافرد فی حدیث عتبۃ (یعنی الذی فیہ الوضوء بمدوالغسل بصاع) ماکان یغتسل بہ لھا خاصۃ دون ماکان یتوضأ بہ [8] اھ

اقول :   لکن حدیثہ یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد لیس فی التوزیع فی التنویع کما لایخفی ای ان الغسل نفسہ کان تارۃ باربعۃ وتارۃ بخمسۃ سواء ارید بہ اسألۃ الماء علی سائر البدن وحدھا           

جتنے پانی سے وضوفرماتے وہ ایك مُد ہوگااورجتنے سے غسل فرماتے وہ پانچ مکّوك ہوگا۔ چار مکّوک۔ وہی چار مُد اور چار مُد ایك صاع۔ سے غسل فرماتے۔ اور باقی ایك مکّوك ۔ ایك مُد سے وضوفرماتے۔ تو اس حدیث میں جتنے سے جنابت کا غسل ووضو فرماتے دونوں کو جمع کردیا۔ اور حدیثِ عتبہ میں (یعنی جس میں یہ ہے کہ ایك مُد سے وضو اور ایك صاع سے غسل ) صرف اُس کو بیان کیا جس سے غسل فرماتے ، اُس کوذکرنہ کیاجس سے وضو فرماتے اھ۔

 اقول : لیکن حضرت انس کی یہ حدیث کہ حضورایك صاع سے پانچ مُدتك پانی سے غسل فرماتے ، بیان تقسیم میں نہیں بلکہ بیان تنویع میں ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ یعنی خود غسل ہی کبھی چارمُد سے ہوتااورکبھی پانچ مُد سے ہوتاخواہ اس سے صرف پورے بدن پر پانی بہانا مرادلیں یا اس کے

اومع الوضوء۔

ساتھ وضو بھی ملا لیں ۔ (ت)

 



[1]   عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۹۲

[2]   مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ مشکوۃ المصابیح تحت حدیث ۴۳۹ المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ۲ / ۱۴۳

[3]   شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷

[4]   شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷

[5]   شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷

[6]   المصباح المنیر کتاب الراء تحت لفظ ''رطل '' منشورات دارالھجرہ قم ایران۱ / ۲۳۰

[7]   شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن