30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وضو میں ایك مُد ، غسل میں ایك صاع کافی ہے۔
طبرانی معجم اوسط میں عبدالله بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صلی الله علیہ وسلم یغتسل بالصاع و یتوضأ بالمد[1] و ابن ماجہ لم یخرجہ عن جابر بن عبد الله بل عن عبد الله بن محمد بن عقیل بن ابی طالب رضی الله عنہم اھ منہ۔
حضرت جابر سے یہ ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك صاع سے غسل فرماتے اور ایك سے وضو فرماتے اور ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت جابر بن عبدالله سے روایت نہ کی بلکہ عبدالله بن محمد بن عقیل بن ابوطالب سے روایت کی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔
فذکر مثل حدیث عقیل غیرانہ قال فی مکان من فی الموضعین [2]۔
اس کے بعدحدیث عقیل ہی کے مثل ذکر کیافرق یہ ہے کہ دونوں جگہ “ من “ کے بجائے “ فی “ کہا۔ (ت)
امام احمد عـــــہ انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
یکفی احدکم مدمن الوضوء [3]۔
تم میں سے ایك شخص کے وضو کوایك مُد بہت ہے۔
ابو نعیم معرفۃ الصحابہ میں ام سعد بنت زید بن ثابت انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے راوی ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
الوضوء مدوالغسل صاع [4]۔
وضو ایك مُد اور غسل ایك صاع ہے۔
اقول : اب یہاں چند امر تنقیح طلب ہیں :
امر اوّل صاع اور مُد باعتبار وزن مراد ہیں یعنی دو اور آٹھ رطل وزن کا پانی ہوکہ رامپور کے سیر سے وضو میں تین پاؤ اور غسل میں تین سیر پانی ہوا اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ کے طور پر وضو میں آدھ سیر اور غسل میں دو سیر اور جانب کمی وضو میں پونے تین چھٹانك سے بھی کم اور غسل میں ڈیڑھ ہی سیر یا بااعتبار کیل وپیمانہ یعنی اتنا پانی کہ ناج کے پیمانہ مد یاصاع کوبھردے ظاہرہے کہ پانی ناج سے
عــــہ : وعزاہ الامام الجلیل فی الجامع الصغیر لجامع الترمذی بلفظ یجزئ فی الوضوء رطلان من ماء[5]قال المناوی واسنادہ ضعیف [6]اھ لکن العبد الضعیف لم یرہ فی ابواب الطھارۃ من الجامع فالله تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ (م)
عــــہ : یہ حدیث امام جلال الدین سیوطی نے جامع ترمذی کے حوالے سے ان الفاظ سے جامع صغیرمیں ذکرکی ہے : وضو میں دو رطل پانی کافی ہے۔ علامہ مناوی نے کہا اس کی سند ضعیف ہے اھ۔ لیکن میں نے جامع ترمذی کے ابواب الطہارۃ میں یہ حدیث نہ پائی ، فالله تعالٰی اعلم ۱۲منہ(ت)
بھاری ہے توپیمانہ بھرپانی اس پیمانے کے رطلوں سے وزن میں زائد ہوگا کلمات فـــ ائمہ میں معنی دوم کی تصریح ہے اور اسی طرف بعض روایات احادیث ناظر۔ امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
باب الغسل بالصاع ای بالماء قدرملء الصاع [7]۔
باب الغسل بالصاع یعنی اتنے پانی سے غسل جس سے صاع بھر جائے۔ (ت)
امام ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں ـ :
المراد من الروایتین ان الاغتسال وقع بملء الصاع من الماء [8]۔
دونوں روایتوں سے مراد یہ ہے کہ غسل پانی کی اتنی مقدار سے ہوا جس سے صاع بھر جائے (ت)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
ای بالماء الذی ھو قدر ملء الصاع [9]۔
یعنی اتنے پانی سے غسل جو صاع بھرنے کے بقدرہو۔ (ت)
نیز عمدۃ القاری میں حدیث طحاوی مجاہد سے بایں الفاظ ذکر کی :
قال دخلنا علی عائشۃ رضی الله تعالٰی عنہا فاستسقی بعضنا فاتی بعس قالت عائشۃ کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل بملء ھذا قال مجاھد فحررتہ فیما احزر ثمانیۃ ارطال تسعۃ ارطال عشرۃ ارطال قال واخرجہ النسائی حزرتہ ثمانیۃ
مجاہد نے کہاہم حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے یہاں گئے تو ہم میں سے کسی نے پانی مانگا۔ ایك بڑے برتن میں لایا گیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماس برتن بھر پانی سے غسل فرماتے تھے۔ امام مجاہد نے کہا : میں نے اندازہ کیاتووہ برتن آٹھ رطل ، یانورطل ، یا دس رطل کاتھا۔ امام عینی نے کہا : یہ حدیث امام نسائی نے روایت کی تو اس میں یہ ہے کہ میں نے اسے آٹھ رطل کا
فـــ : تطفل علی العلامۃعلی قاری ۔
[1] سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب ما یجزئ من الماء فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۳
[2] المعجم الاوسط ، حدیث ۷۵۵۱ ، مکتبۃ المعارف ریاض۸ / ۲۷۳
[3] مسند احمدبن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۲۶۴
[4] تلخیص الحبیرفی تخریج احادیث الرافعی الکبیر کتاب الطہارۃ حدیث ۱۹۴باب الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۳۸۶
[5] الجامع الصغیربحوالہ ت حدیث۹۹۹۷ دارلکتب العلمیہ بیروت۲ / ۵۸۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع