دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اقول : یہ اس فــــ کا محتاج ہے کہ مُد بمعنی صاع زبان عرب میں آتا ہو اور اس میں سخت تامل ہے ، صحاح وصراح و مختار وقاموس وتاج العروس لغات عرب ومجمع البحار ونہایہ ومختصر سیوطی لغاتِ حدیث وطلبۃ الطلبہ ومصباح المنیر لغاتِ فقہ میں فقیر نے اس کا پتا نہ پایا اور بالفرض کہیں شاذونادر ورود ہو بھی تو اُس پر حمل تجوز بے قرینہ سے کچھ بہتر نہیں ۔

اما جعل امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز المد بثلثۃ امداد فحادث لایحمل علیہ کلام ام المؤمنین رضی الله تعالٰی عنہما۔

لیکن یہ کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایك مدتین مد کے برابر بنایاتویہ بعدکی بات ہے ، اس پر حضرت ام المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا کلام محمول نہیں ہوسکتا۔ (ت)

سوم : یہ کہ حدیث میں زیادہ کا انکار نہیں حضور وامّ المومنین معًا تین مُد سے نہائے ہوں اور جب پانی ختم ہوچکا اور زیادہ فرمالیا ہو ،

ابداہ الامام النووی حیث قال یجوزا ن یکون وقع

یہ توجیہ امام نووی نے پیش کی ان کے الفاظ یہ ہیں : ہوسکتاہے یہ ایك وقت(مثلًا غسل شروع کرتے

فــــ : تطفل علی القاضی عیاض والامام النووی ۔

ھذا فی بعض الاحوال وزاداہ لما فرغ [1]۔

وقت)ہو اہو اور جب پانی ختم ہوگیاتودونوں حضرات نے اور لے لیا ہو۔ (ت)

اقول : یہ بھی بعید فــــ۱ہے کہ اس تقدیر پر ذکر مقدار عبث وبیکار ہوا جاتا ہے تو قریب تر وہی توجیہ اول ہے۔

وانا اقول :  لوحمل علی الاشتراك لم یمتنع فقد قدمنا روایۃ انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم توضأ بنصف مُد وروی عن الامام محمد رحمہ الله تعالی انہ قال ان المغتسل لایمکن ان یعم جسدہ باقل من مد ذکرہ العینی فی العمدۃ [2] فافاد امکان تعمیم الجسد بمد فکان المجموع مدا ونصفا والله تعالی اعلم۔            

اورمیں کہتاہوں : اگر شرکت پرمحمول کرلیاجائے توبھی(اتنی مقدارسے دونوں حضرات کا غسل) محال نہیں ، کیوں کہ یہ روایت ہم پیش کرچکے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے آدھے مُد سے وضو فرمایا۔ اورامام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے مروی ہے کہ ایك مُد سے کم پانی ہو توغسل کرنے والاپُورے بدن پر نہیں پہنچا سکتا۔ اسے علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں ذکرکیا۔ اس کلام سے مستفادہوا کہ ایك مُد ہو تو پورے بدن پر پہنچایا جاسکتاہے توکل ڈیڑھ مُد ہوا(آدھے سے وضو ، باقی سے اورتمام بدن-اس طرح تین مُد سے دو کا غسل ممکن ہوا ۱۲ م) والله تعالٰی اعلم(ت)

اور جانب زیادت میں اس قول کی تضعیف تو اوپر گزری کہ مکّوك سے صاع مراد ہے جس سے غسل کیلئے پانچ صاع ہوجائیں ۔ ہاں موطائے مالك وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں امّ المؤمنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ہے :

ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ

رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك برتن سے

فــــ١ : تطفل آخرعلی الامام النووی ۔

وسلم کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق من الجنابۃ [3]۔

غسل جنابت فرماتے تھے اور وہ فَرَق تھا۔

فرق فـــ میں اختلاف ہے ، اکثر تین۳صاع کہتے ہیں اوربعض دو۲صاع۔

ففی الحدیث عند مسلم قال سفٰین والفرق ثلثۃ اصع[4] وکذلك ھو نص الامام الطحاوی وقال النووی کذا قالہ الجماھیر[5]اھ قال العینی وقیل صاعان [6]وقال الامام نجم الدین النسفی فی طلبۃ الطلبۃ ھو اناء یاخذ ستۃ عشر رطلا [7]اھ وھکذا فی نھایۃ ابن الاثیروصحاح الجوھری وکذا نقلہ فی الطلبۃ عن القتبی ونقل عن شرح الغریبین انہ اثنا عشر مدا[8] اھ وقال ابو داؤد سمعت احمد بن حنبل یقول الفرق ستۃ عشر رطلا [9]ونقل الحافظ فی الفتح عن ابی عبدالله الاتفاق علیہ وعلی انہ

اس حدیث کے تحت امام مسلم کی روایت میں ہے کہ سفیان نے فرمایا فرق تین صاع ہوتاہے-یہی تصریح امام طحاوی نے فرمائی-اور امام نووی نے فرمایا یہی جمہور کا قول ہے اھ-علامہ عینی نے لکھا : اورکہاگیاکہ دوصاع اھ-امام نجم الدین نسفی نے طلبۃ الطلبہ میں لکھا : یہ ایك برتن ہے جس میں سولہ رطل آتے ہیں اھ-ایسے ہی نہایہ ابن اثیراورصحاع جوھری  میں ہے ، اور اسی طر ح اس کو طلبۃ الطلبہ میں قتبی سے نقل کیا ہے ، اور شرح غریبین سے نقل کیا ہے کہ یہ بارہ مُد ہوتا ہے اھ-اور ابو داؤد نے کہا : میں نے امام احمد بن حنبل سے سُناکہ فرق سولہ رطل کاہوتاہے۔

اورحافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابوعبد الله سے اس پر اور اس پر کہ وہ تین صاع

فــــ : تطفل علی الام القاضی عیاض ۔

ثلثۃ اٰصع قال لعلہ یرید اتفاق اھل اللغۃ [10]

اقول :  ویترا ای لی ان لاخلف فان ستۃ عشر رطلا صاعان بالعراق وثلثۃ اصوع بالحجاز۔

اھ ہوتا ہے اتفاق نقل کیا اور کہاشاید ان کی مراد یہ ہے کہ اہلِ لغت کا اتفاق ہے اھ۔

 



[1]   شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماءقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸

[2]   عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء بالمد تحت الحدیث ۶۴ / ۲۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۱۴۱

[3]   سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب المقدا رالماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۱

[4]   صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۱۴۸

[5]   شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸

[6]   عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل ، باب غسل الرجل مع امرأتہ تحت الحدیث۳ <

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن