دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

یعنی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اُس برتن سے وضو فرمایا جس میں ایك مُد یا سوا مُد ، اور دوسری روایت میں ہے کہ ایك مد یا ایك مُد اور تہائی مُد پانی تھا ، تو یہ مشکوك ہے اور شك سے زیادت ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں صحیحین وسنن ابی داؤد ونسائی و طحاوی میں انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ایك حدیث یوں ہے :

کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یتوضأ بمکوك ویغتسل بخمسۃ مکاکی [1]۔

رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك مکوك سے وضو اور پانچ سے غسل فرماتے۔

مکّوك فــــ میں کیلہ ہے اور کیلہ نصف صاع تو مکوك ڈیڑھ صاع ہوا کما فی الصحاح والقاموس وغیرھما فی اقاویل اخر اور ایك صاع کو بھی کہتے ہیں بعض علماء نے حدیث میں یہی مراد لی تو وضو کیلئے چار مُد ہوجائیں گے مگر راجح یہ ہے کہ یہاں مکّوك سے مُد مراد ہے جیسا کہ خود اُنھی کی دیگر روایات میں تصریح ہے والروایات تفسر بعضھا بعضا(اور روایات میں ایك کی تفسیردوسری سے ہوتی ہے ۔ ت)۔

فــــ : فائدہ : مکوك اورکیلہ کابیان

امام طحاوی نے فرمایا :

احتمل ان یکون اراد بالمکوك المد لانھم کانوا یسمون المد مکوکا [2]۔

یہ احتمال ہے کہ انہوں نے مکّوك سے مُدمرادلیاہواس لئے کہ وہ حضرات مُد کو مکّوك کہاکرتے تھے(ت)

نہایہ ابن اثیر جزری میں ہے :

اراد بالمکّوك المد وقیل الصاع والاول اشبہ لانہ جاء فی حدیث اخر مفسرا بالمُد والمکوك اسم للمکیال ویختلف مقدارہ باختلاف اصطلاح الناس علیہ فی البلاد [3]۔

انہوں نے مکّوك سے مُد مرادلیا۔ اورکہاگیاکہ صاع مراد لیا۔ اور اول مناسب ہے اس لئے کہ دُوسری حدیث میں اس کی تفسیر “ مُد “ سے آئی ہے۔ اور مکّوك ایك پیمانے کانام ہے۔ اس کی مقدار مختلف بلاد میں لوگوں کے عرف کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ (ت)

رہا غسل ، اُس میں کمی کی جانب یہ حدیث ہے کہ صحیح مسلم میں اُم المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ہے :

انھا کانت تغتسل ھی والنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی اناء واحد یسع ثلثۃ امداد اوقریبا من ذلك [4]۔

وہ اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك برتن میں کہ تین مُد یااس کے قریب کی گنجائش رکھتا نہالیتے۔

اس کے ایك معنی یہ ہوتے ہیں کہ دونوں کا غسل اُسی تین مُد پانی سے ہوجاتا تو ایك غسل کو ڈیڑھ ہی مُد رہا مگر علماء نے اسے بعید جان کر تین توجیہیں فرمائیں :

اوّل یہ کہ یہ ہر ایك کے جُداگانہ غسل کا بیان ہے کہ حضور اُسی ایك برتن سے جو تین مُد کی قدر تھا غسل فرمالیتے اور اسی طرح میں بھی ، ذکرہ الامام القاضی عیاض(یہ توجیہ امام قاضی عیاض نے ذکرفرمائی ۔ ت)

فان قلت فعلی ھذا یضیع قولھا

اگر یہ سوال ہو کہ پھر توان کا “ ایك برتن میں

فی اناء واحد فانما قصدھا بہ افادۃ اجتماعہا معہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الغسل من اناء واحد کما افصحت بہ فی الروایۃ الاخری کنت اغتسل فــــ انا ورسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد تختلف ایدینا فیہ من الجنابۃ رواہ الشیخان [5]  ، وفی اخری لمسلم من اناء بینی وبینہ واحد فیبادرنی حتی اقول دع لی [6] ۔  وللنسائی من اناء واحد یبادرنی وابادرہ حتی یقول دعی لی وانا اقول دع لی[7]۔                                              “

کہنابے کار ہوجاتاہے کہ اس لفظ سے ان کا مقصد یہی بتاناہے کہ وہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایك برتن سے غسل کرتی تھیں ، جیساکہ دوسری روایت میں اسے صاف طورپربیان کیا ہے : میں اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك ہی برتن سے غسلِ جنابت کیا کرتے اس میں ہمارے ہاتھ باری باری آتے جاتے-اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ اورمسلم کی ایك دوسری روایت میں ہے : ایك ہی برتن سے جو میرے اور ان کے درمیان ہوتا تو مجھ پر سبقت فرماتے یہاں کہ میں عرض کرتی میرے لیے بھی رہنے دیجئے اورنسائی کی روایت میں یہ ہے : ایك ہی برتن سے ، وہ مجھ سے سبقت فرماتے اور میں ان سے سبقت کرتی ، یہاں تك کہ حضور فرماتے : میرے لئے بھی رہنے دو۔ اور میں عرض کرتی : میرے لئے بھی رہنے دیجئے۔ (ت)

فـــ : مسئلہ : جائز ہے کہ زن وشوہردونوں ایك برتن سے ایك ساتھ غسل جنابت کریں اگرچہ باہم سترنہ ہو اور اس وقت متعلق ضرورت غسل بات بھی کرسکتے ہیں مثلا ایك سبقت کرے تودوسراکہے میرے لیے پانی رہنے دو۔

قلت لایلزم ان لاترید بھذا اللفظ کلما تکلمت بہ الا ھذہ الافادۃ  ، فقد ترید ھھنا ان ذلك الاناء الواحد کان یکفیہ اذا اغتسل ولا یطلب زیادۃ ماء وکذلك انا اذا اغتسلت۔

میں جواب دوں گا ضروری نہیں کہ جب بھی وہ یہ لفظ بولیں توانہیں یہی بتانامقصودہو ، یہاں اُن کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہی ایك برتن جب حضورغسل فرماتے تو ان کے لئے کافی ہوجاتا اور مزیدپانی طلب نہ فرماتے اوریہی حال میرا ہوتاجب میں نہاتی۔

دوم یہاں مُد سے صاع مراد ہے۔

قالہ ایضا صرفا لہ الی وفاق حدیث الفرق الاتی فانہ ثلثۃ اٰصع واقرہ النووی۔

یہ توجیہ بھی امام قاضی عیاض ہی نے پیش کی تاکہ اس میں اور اگلی حدیث فرق میں مطابقت ہوجائے کیوں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔ امام نووی نے بھی اس توجیہ کوبرقرار رکھا۔

 



[1]   صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹ ، سنن ابی داؤدکتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماءآفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، سنن النسائی کتاب الطہاۃباب القدرالذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۴ ، شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷

[2]   شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃباب وزن الصاع کم ہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷

[3]   النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر باب المیم مع الکاف تحت اللفظ مکلک دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۹۸

[4]   صحیح مسلم کتاب الزکوۃباب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸

[5]   صحیح البخاری کتا ب الغسل ، باب ھل یدخل یدہ فی الاناء... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۰ ، صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن