دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

 اقول : احادیث سے ثابت ہے کہ وضو میں عادت کریمہ تثلیث تھی یعنی ہر عضو تین بار دھونا ، اور کبھی دو دو بار بھی اعضاء دھوئے۔

رواہ البخاری عن عبدالله بن زید وابو داؤد والترمذی وصححہ وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنھما ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم توضاء مرتین مرتین [1]۔                                                                                                                                                                                                                                                                    

اسے امام بخاری نے عبدالله بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا۔ اورابوداؤد نے اور ترمذی نے بافادہ تصحیح ، اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی کہ نبی نے وضومیں دودوبار اعضاء دھوئے۔ (ت)

اور کبھی ایك ہی ایك بار دھونے پر قناعت فرمائی۔

رواہ البخاری والدارمی وابو داؤد والنسائی

                        اسے بخاری ، دارمی ، ابوداؤد ، نسائی ، طحاوی  (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

احتاط فنص علی الضبط قائلا ثلث بالافراد [2]اھ ونقل البعض عن ابنی خزیمۃ وحبان بنحو ثلثی مُد بالتثنیۃ وان الحافظ ابن حجر قال فی الثلث لم اجدہ کذا قال والله تعالٰی اعلم اھ منہ۔  (م)

براہِ احتیاط یہ کہتے ہوئے ضبطِ لفظ کی صراحت کردی کہ ثُلث بصیغہ واحدہے اھ۔ اور بعض نے ابن خزیمہ وابن حبان سے بصیغہ تثنیہ “ بنحوثلثی مد “ (تقریبًا دو تہائی مد) نقل کیا۔ اور یہ کہ حافظ ابن حجر نے لفظ “ ثُلُث “ سے متعلق کہا کہ میں نے اسے نہ پایا۔ انہوں نے ایسا ہی لکھا ہے ۔ والله تعالٰی اعلم۱۲ منہ(ت)

والطحاوی وابن خزیمۃ عن ابن عباس رضی الله عنہما قال توضأ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مرۃ مرۃ [3]۔ وبمثلہ رواہ الطحاوی عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنھما وروی ایضا عن امیر المؤمنین عمر رضی الله تعالی عنہ قال رأیت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ[4] وعن ابی رافع رضی الله تعالی عنہ قال رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا ثلثا ثلثا ورأیتہ غسل مرۃ مرۃ [5]۔

اور ابن خزیمہ نے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کیا ، انہوں نے فرمایا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے وضو میں ایك ایك بار اعضاء دھوئے۔ اور اسی کے مثل امام طحاوی نے حضرت عبدالله بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بھی روایت کی۔ اور امیر المؤمنین حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بھی روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھاکہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایك ایك بار اعضادھوئے۔ اورحضرت ابو رافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے تین تین بار اعضائے وضو دھوئے اور یہ بھی دیکھا کہ سرکار نے ایك ایك بار دھویا۔ (ت)

غالبا جب ایك ایك بار اعضائے کریمہ دھوئے تہائی مد پانی خرچ ہوا ، اور دودو بار میں دو تہائی ، اور تین تین بار دھونے میں پورا مد خرچ ہوتا تھا ۔

فان قلت لیس فی حدیث ام عمارۃ رضی اللّٰہ

اگریہ سوال ہوکہ حضرت اُمّ عمارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

تعالٰی عنہا انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد انما فیہ اتی بماءفی اناء قدر ثلثی مد۔  

قلت لیس غرضہا منہ الا بیان قدر ماتوضأ بہ والاکان ذکر قدر الماء اوالاناء فضلا لاطائل تحتہ علی انہا لم تذکر طلبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم زیادۃ فافاد فحواہ انہ اجتزأ بہ ولعل ھذا ھو الباعث للعلامۃ الزرقانی اذ یقول فی شرح المواھب لابی داؤد عن امّ عمارۃ انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد [6] اھ والا فلفظ ابی داؤد ماقد سقتہ لک۔

                                                کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دو تہائی مد سے وضو کیا اس میں صرف اتنا ہے کہ حضورکے پاس ایك برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مُد کی مقدارمیں پانی تھا۔

قلت(تو میں جواب دوں گا)اس سے ان صحابیہ کامقصود یہی بتانا ہے کہ جتنے پانی سے حضورنے وضو فرمایا اس کی مقدار کیاتھی ، اگریہ نہ ہو تو پانی کی مقدار یابرتن کا تذکرہ بے فائدہ و فضول ٹھہر ے گا۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ ذکرنہ کیاکہ حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مزید طلب فرمایا تو مضمون حدیث سے مستفادہو کہ اتنی ہی مقدارپرسرکارنے اکتفاء کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علامہ زُرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا کہ اُمّ ِ عمارہ سے ابوداؤد کی روایت میں یہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دوتہائی مُد سے وضو فرمایااھ-کیونکہ ابوداؤد کے الفاظ تو وہی ہیں جو میں نے پیش کئے(کہ سرکار نے وضو فرمانا چاہا توایك برتن حاضر لایا گیاجس میں دوتہائی مُد کے قدر پانی تھا)۔

بالجملہ وضو میں کم سے کم تہائی عـــــہ مُد اور زیادہ سے زیادہ ایك مُد کی حدیثیں آئی ہیں اور حدیث ربیع بنت معوّذ بن عفراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا:

وضأت رسول الله صلی الله تعالی علیہ

انہوں نے ایك برتن کی طرف جس میں ایك مُد

عــــہ : ایك حدیث موقوف میں چہارم مد بھی آیاہے کماسیأتی۱۲منہ

وسلم فی اناء نحو من ھذا الاناء وھی تشیر الی رکوۃ تاخذ مدا او مدا و ثلثارواہ سعید بن منصور فی سننہ وفی لفظ لبعضھم یکون مدا اومدا و ربعا [7] واصل الحدیث عنہا فی السنن الاربعۃ۔

یا ایك مُد اور تہائی مد پانی آتا ، اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو اسی طرح کے ایك برتن سے وضو کرایا۔ یہ حدیث سعید بن منصورنے اپنی سنن میں روایت کی- اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ اس میں ایك مُد یا سوا مُد پانی ہوگا۔ اورحضرت ربیع سے اصل حدیث سُنن اربعہ میں مروی ہے۔ (ت)

 



[1]   صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء مرتین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضومرتین آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۴۳ دارالفکربیروت ۱ / ۱۱۳ ، مواردالظمأن کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۱۵۷ المطبعۃ السلفیۃ ص۶۷

[2]   شرح الزرقانی علی المواھب ا للدنیہ المقصد التاسع الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۷ / ۲۵۱

[3]   صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء مرتین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷ ،$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن